Powered by Blogger.

TRENDING NOW

no image

معجون طلائی زعفران والابنانے طریقہ اورمعجون طلائی زعفران کے فوائد

اس معجون سے درج زیل فوائد ملیں گے پسں سیلز کی کمی ، ٹائمنگ کا نہ ہونا ، شادی سے ڈرنا ، سپرم کاؤنٹ کا کم ہونا ، ڈیڈ سیلز کا آنا ،سپرم کی کمی،بے اولادی، شہوت کا کم آنا ، تناؤ کا کم ہونا ، بيوی کو مطمئن نہ کر پانا ،ان سب امراض میں فائدہ ہو گا۔ جوانی کی واپسی ، طاقت کو بڑھانے اور فٹنس قائم رکھنے کے متلاشی حضرات کیلئے بہترین معجون ہے۔اس معجون کا سب سے بڑافائدہ یہ ہے کہ یہ عام جسمانی واعصابی اور مردانہ کمزوری کو جڑ سے ختم کرتا ہے،عضو مخصوص کی لاغری ،ڈھیلا پن ، یہ معجون شہوت کی کمی کو دور کرتاہے ، یہ معجون انتشار کو بڑھاتا ہے، یہ معجون نفس کا ڈھیلا پن ختم کرتا ہے، یہ معجون قبل از وقت انزال کے ساتھ جنسی و جسمانی کمزوری میں فائدہ مند ہے اور اس کے ساتھ آپ کے جسم کو چست اور توانا رکھتا ہے،۔
امساک بے تحاشہ پیدا کرتا ہے، شوگر کی وجہ سے ہونے والی پٹھوں کی کمزوری اور قوت باہ کی کمی دور کرتا ہے ،
جسم سے سستی و نقاہت اور تھکاوٹ کا خاتمہ کرتا ہے،یہ نسخہ بالکل ناکارہ مردوں کے لئے آب حیات کا کام کرتا ہے، ہر قسم کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمزوریوں کو رفع کرتاہے،مشت زنی اور کثرت جماع کی وجہ سے ہونے والی نامردی کا مکمل علاج ہے ،یہ نسخہ خون اور مادہ تولید کی پیدائش کو بڑھاتاہے،قوت باہ کے بڑھانے کےلئے مجرب ہےاس کے استعمال سے جلد بڑھاپا نہیں آئے گا اور جوانی قائم رہے گی،نظر مضبوط ہوگی ،دماغی اور اعصابی کمزوری ختم ہوجائے گی،گھٹنے و جوڑ جسم کے تمام پٹھے اور دل و دماغ طاقت ورہوجائیں گے۔،جوانی کی غلط کاریوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تمام نقائص اور کمزوریوں کا بہترین شافی علاج ہے، اعضائے رئیسہ و شریفہ کے تمام افعال درست اور طاقتور ہو جاتے ہیں ،مادہ تو لید کی پیدائش بڑھ جاتی ہے اور پتلا پن اور رقت دور ہوجاتی ہے۔
اگر  یہ معجون استعمال شروع کرنے سے پہلے مریض اللہ سے خالص نیت سے توبہ کرکے مکمل یقین و اعتماد کے ساتھ خمیرہ کو باقاعدہ پرہیز کے ساتھ استعمال جاری رکھے تو بہت جلد جوانی کے ولولے اور قوت و طاقت کے جذبات اپنےاندرنئے سرے سے موجود پاتا ہےتقویت گردہ و مثانہ کے لیے انتیائی اعلی ہے۔
اپنا کھانا پینا اور لائف سٹائل قدرت کے بنیادی اصولوں کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں تو اس سے دل و دماغ کی کمزوری دور کرتی ہے،سپرمز کی تعداد میں اضافہ کرتی ہے،افزائش منی بکثرت کرتی ہے،بدن کو فربہ اور چہرے کو نکھارتی ہے،قوت باہ از حد پیدا کرتی ہے،تھکن سستی کاہلی ختم کرکے جسم میں نئی جان پیدا کرتی ہے، طاقت و شباب اور قوت مردانگی میں بہت فائدہ مند ہے۔

معجون طلائی اصلی زعفران والاکے نسخہ کے اجزاء

آپ یہ معجون خود بھی تیار کر سکتے ہیں مگر یہ خیال رکھیں کہ پنساری آپ کو خالص اجزاء دے بے ایمانی اور دو نمبری نہ کرے کیونکہ چیزیں جتنی خالص اصلی ہوںگی اس کا رزلٹ اتنا ہی زبردست ہوگا۔
زعفران ایرانی دس گرام
ثعلب مصری تیس گرام
ثعلب پنجہ تیس گرام
مغز پنبہ دانہ دس گرام
جنسنگ کوریا سرخ دس گرام
ریگ ماہی دس گرام
موصلی سفید دس گرام
جندبیدستر دس گرام
ستاور دس گرام
بیج بند دس گرام
الائچی دس گرام
کاجو تیس گرام
شقاقل مصری دس گرام
مغز تمر ہندی دس گرام
بہمن سرخ دس گرام
کمرکس دس گرام
بہمن سفید دس گرام
اسگند ناگوری دس گرام
ورق سونا پچاس عدد
کونچ کے بیج دس گرام مدبر شدہ
مغز پستہ بیس گرام
مغز بادام بیس گرام
برہمی بوٹی تیس گرام
تالمکھانہ دس گرام
اسبغول کا چھلکا دس گرام
کوزہ مصری پندرہ تولہ
سونٹھ تیس گرام
ورق نقرہ پچاس عدد
خالص بیری والا جنگلی شہد
خالص شہد چھوٹی مکھی بیری کا ہو جائے تو بہت بہتر ہے تمام ادویہ سے تین گنا لینا ہے۔

معجون بنانے کا طریقہ

تمام ادویہ کو ہاون دستے سے باریک کر کےسفوف بنا لیں اور شہد ملا کر معجون بنا لیں۔
معجون کھانے کا طریقہ
ایک چمچ صبح اور ایک چمچ شام کھانے سے پہلے ایک گلاس نیم گرم دودھ کے ہمراہ استعمال کریں۔
نوٹ۔۔ غیر شادی شدہ افراد یہ نسخہ استعمال نہ کریں ورنہ طاقت برداشت سے باہر ہو کر گناہ پہ مجبور ہو جائین گے۔
اگر یہ معجون آپ تیار نہیں کرسکتے تو ہم سے تیار شدہ بھی منگوا سکتے ہیں۔

رابطہ نمبر
00923046539899
00923216486707

no image

قوت باہ میں کمی کی وجہ قوت باہ بڑھانے کا طریقہ

قوت باہ کی کمی کی وجوہات

قوت باہ کی کمی کی مندرجہ ذیل وجوہات ہوتی ہیں۔
جماع کی کثرت یا،کثرت احتلام ، مشت زنی، اغلام بازی سے قوت باہ میں خاصی کمی واقع ہو جاتی ہے۔
دل ، دماغ ،جگر وغیرہ کے کمزور ہو جانے سے ،معدہ، گردوں کے ضعیف ہو جانے سے قوت باہ میں کمی آ جاتی ہے
،ڈپریشن ذہنی دباؤ کا بھی قوت باہ کی کمی پر اثر انداز ہوتا ہے اور ذہنی دباؤ غم و غصہ اور ڈپریشن قوت باہ کی کمی کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ہے،بعض اوقات غلط ادویات کے استعمال سے قوت باہ میں کمی آ جاتی ہے۔ ان ادویات میں بلڈ پریشر کی ادویات، اینٹی ہسٹامین، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی ادویات شامل ہیں۔اکثر قوت باہ میں کمی کی بڑی وجہ عضو خاص میں کسی پیدائشی نقص یا بیماری کی وجہ سے ہوتی ہے۔منشیات کا بہت زیادہ استعمال قوت باہ کی کمی کا باعث بنتا ہے نشے سے دل اور دماغ کی صحت متاثر ہوتی ہے جب دل اعضاء کو خون مناسب مقدار میں فراہم نہیں کر پاتا تو قوت باہ کی کمی کا ہونا یقینی بات ہے۔فحش فلموں میں دکھائے جانے والے غیر فطری ، غیر حقیقی مناظر آج کل کے نوجوانوں کے ذہن میں احساس کمتری اور کمزوری کا احساس پیدا کرتے ہیں جو ان کو دماغی طور پر مفلوج کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے قوت باہ کی کمی ہو جاتے ہے۔قوت باہ کی کمی کی بڑی وجہ مردوں میں مشت زنی ہوتی ہےمشت زنی کرنے والے افراد اپنے ہی ہاتھوںاپنی قوت باہ کو ختم کر دیتے ہیں ۔

قوت باہ کی کمی کو دور کرنے والےنسخہ کے فوائد

قوت باہ کی کمی کے لیئے آج جو نسخہ بتانے لگا ہوں وہ بہت ہی زیادہ فائدہ مند اور و خوبیوں کا حامل ہے یہ نسخہ مادہ منویہ کی پیدائش کو بڑھاتا ہے اور مادہ منویہ کو گوند کی طرح بے حد گاڑھا کرتا ہے۔ جس سے عضو خاص میں سختی اور ٹائمنگ کے ساتھ ساتھ سپرم کی تعدادبھی بڑھتی ہے اور سپرم جاندار اور نقائص سے پاک بھی ہوجاتے ہیں۔یہ نسخہ نامرد کو مرد بناتا ہے،بے اولادحضرات اورسرعت انزال والوں کے لیے یہ نسخہ سونے اور ہیرے سے بڑھ کر قیمتی نسخہ ہے،کنوار پن کی غلط کاریوں سے ہونیوالے نقصانات کو بھرنے کے لیے ،معدہ جگر کی بحالی کے لیے،پیشاب سے پہلے یا بعد میں قطروں کا آنا ،ایک بار جماع کے بعد دوبارہ جلدی شہوت کا نہ آنا،یہ نسخہ عضو خاص کو بہت زیادہ طاقت ور بنانے کے ساتھ کمزور مرد کو بھی دوسری شادی کے قابل بناتا ہے۔

پالک کا مزاج اور پالک کے طبی فوائد

آلو کا طبی مزاج اور اس کے فوائد

پیاز کے چھلکوں کے فوائد

قوت باہ کی کمی کو دور کرنے والےنسخہ کے اجزاء

ہوالشافی
سنگھاڑ خشک 50 گرام ، ستاور 50 گرام ، اسگند ناگوری 50 گرام،موصلی سفید 50 گرام، موصلی سیاہ 20 گرام ، کمرکس 20 گرام ، ثعلب مصری 20 گرام ،ثعلب پنجہ 20 گرام ، شقاقل مصری 20 گرام ، پنپہ دانہ 20 گرام ، لاجونتی 20 گرام ، تالمکھانہ 20 گرام ، طباشیر 20 گرام ، اندر جو شیریں ، گوند کتیرا 20 گرام ، گوند ببول 20 گرام ، بہمن سفید 20 گرام ، عقرقرحا 20 گرام ، ریگ ماہی 20 گرام ، سونٹھ 30 گرام ، قابلی مصری 50 گرام ، مصری آدھا کلوچھلکا اسپغول آدھ پاو۔

قوت باہ کی کمی کو دور کرے والےنسخہ کو بنانے کا طریقہ

چھلکا اسپغول اور جوہر خصیہ کو تمام ادویہ سے الگ کر لیں اور باقی تمام اشیاء کو گرائینڈر میں پیس کرکپڑ چھان کر لیں اور اس میں چھلکا اسپغول اور جوہر خصیہ ملا لیں شوگر کے مریض مصری نہ ڈالیں۔

قوت باہ کی کمی کو دور کرنے والےنسخہ کوکھانے کا طریقہ

ایک چمچ نہار منہ یعنی کھانے سے ایک گھنٹہ پہلے آدھا کلو دودھ کے ساتھ اور رات کو کھانے سے دو گھنٹے پہلے ایک چمچ آدھاکلو دودھ کے ساتھ ۔

no image

ٹماٹر کا مزاج ٹماٹر کے فائدے

ٹماٹر کا تعارف

ٹماٹر جو کہ اصل میں پھل ہے سبزی نہیں ہے، اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتا ہے سچ تو یہ ہے کہ یہ کئی غذائیت بخش پروڈکٹس کا حصہ ہیں اور ٹماٹر کو کئی طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے اس لیے اس کو دستر خوان سے دور رکھنے کی کوئی وجہ بھی نظر نہیں آتی، ٹماٹر کھانے کا سب سے بڑا فائدہ اس میں موجود لائکوپین ہے۔ٹماٹر ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو کہ سرطان کے سیل کو بننے سے روکتا ہے اور انسانی صحت کو درپیش مسائل اور بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے، انسانی جسم میں موجود مضر صحت فری ریڈیکل سیل لائکوپین کے ساتھ جسم سے خارج ہو جاتے ہیں، ٹماٹرمیں بڑی مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹ اجزاء ہوتے ہیں اور بے شمار غذائیت بخش اجزاء سے بھی مالامال ہے،لائکوپین ایسا اینٹی آکسیڈنٹ نہیں ہے جو انسانی جسم میں خود پیدا ہوتا ہو بلکہ انسانی جسم اسے بیرونی ذرائع سے ہی حاصل کر سکتا ہے تاکہ جسم کا نظام ٹھیک طریقے سے چلتا رہے اکثر دیگر پھل اور سبزیوں میں بھی ضروری صحت بخش اجزاء ہوتے ہیں مگر لائکوپین کے معاملے میں جس قدر ٹماٹر مالامال ہے کوئی اور نہیں۔
ٹماٹر کو سب سے پہلے کیسے متعارف کروایا گیا اور قدیم و جدید طب میں اس کے کون کونسے بے مثال فوائد بتائے گئے ہیں وہ آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں ۔

عضو تناسل میں کمزوری کے اسباب اور عضو تناسل کی کمزوری کے علاج کا معجون

اسپغول سے مردانہ کمزوری کا علاج

ٹماٹر کے فوائد

ٹماٹر کا مزاج معتدل خشک ہوتا ہے ٹماٹر بھوک لگاتاہے، کھانے کو ہضم کرتاہے،ٹماٹر قبض کشا ہے ،ٹماٹر کا رس مرض کساح میں بہت مفید ہے۔خون کی کمی یرقان ،ورم گردہ ،ذیابیطس میں صبح نہارمنہ ایک بڑا سرخ ٹماٹر استعمال کردیناہزار دواؤں سے بہتر ہے،ٹماٹرکو استعمال سے قبل اچھی طرح دھولیاجائے ۔ٹماٹر کو ایک پاؤ سے زیادہ کھانا نقصان دہ ہے کیونکہ زیادہ ٹماٹر کھانے سے گردے میں پتھری بن جاتی ہے۔
ٹماٹر کے حوالے سے پوری دنیا میں متعدد تحقیقات کی جا چکی ہیں اور ابھی بھی کی جا رہی ہیں اور میڈیکل سائنس اس حوالے سے لوگوں کو بلاشبہ بہت کچھ بتا چکی ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ جو کچھ لوگوں تک پہنچایا جا چکا ہے اس سے کہیں زیادہ ٹماٹر کے فوائد ہیں اس پر تحقیق سے نہ صرف یہ پتہ چلا ہے کہ ٹماٹر سرطان، امراض قلب سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ کولیسٹرول کو بھی اعتدال میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اس میں شک نہیں کہ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ ٹماٹر کے صحت پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کو ہرگزرنے والے دن کے ساتھ دستاویزی شکل دی جارہی ہے اور ہرگزرنے والے دن کے ساتھ ہمیں اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ نیا ہی معلوم ہوتا ہے۔۔۔سرطان اور خاص کر پروسٹیٹ سرطان، رحم کا سرطان، آنتوں اور پیٹ کا سرطان، منہ اور غذائی نالی کا سرطان ان سب کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ ان کو روکنے اور ان کے خلاف مزاحمت پیش کرنے میں لائکوپین زبردست کردار ادا کرتا ہے، لائکوپین پہلے سے موجود سرطان کے خلیوں کو ختم کرتا ہے اور بعد میں پیدا ہونے والے خلیوں کو روک دیتا ہے، ٹماٹر کی اہمیت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہےکہ ٹماٹر کا جوس لائکوپین سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے روزانہ استعمال سے تمام فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جن کا تذکرہ پہلے کیا جا چکا ہے، اس کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص روازنہ ۴۵۰ ملی لیٹر ٹماٹر کا جوس پیے تو وہ ساری زندگی صحت مند رہ سکتا ہے لیکن ایک انتہائی اہم بات ذہن نشین کر لیں کہ لائکو پین کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہاں اس کے نقصانات بھی ہیں خاص کر حاملہ خواتین اور وہ خواتین جو بچوں کو دودھ پلا رہی ہیںان کو اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے، اس میں تیزابیت بہت زیادہ ہوتی ہے تو یہ سینے کی جلن کا سبب بھی بن سکتا ہے ، یو ایس ڈیپارٹمنٹ ہیلتھ اینڈ ہیومن کی تحقیق بتاتی ہے کہ گردوں کے مریضوں کو ٹماٹر سے پرہیز کرنی چاہیے ۔۔۔ اسی لیے ہم اکثر کہتے ہیں کہ کسی بھی چیز کو اپنی روٹین بنانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیا کریں تا کہ وہ آپ کی جسمانی کنڈیشن کو دیکھتے ہوئے آپ کو سجیسٹ کرے کہ آپ کو کیا کھانا چاہیے۔۔۔ یہ جتنی بھی تحقیقات ہوتی ہیں یہ سینکڑوں لوگوں پر اکٹھی کی جاتی ہیں اور ان کا مجموعی رزلٹ سامنے لایا جاتا ہے، اس لیے قدرت نے جو چیز بھی پیدا کی ہے وہ متعدد فوائد کے ساتھ چند نقصانات بھی رکھتی ہےتو اعتدال کا دامن نہ چھوڑیں اور مستقل روٹین بنانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔۔۔ اگرچہ ٹماٹر کو مختلف فارمز میں لگایا جاتا ہے اور اس کی شکل ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہے مگر غذائیت میں سب برابر ہوتے ہیں، جب ٹماٹر کی پروڈکٹس بناتے وقت حرارت کے عمل سے گزارا جاتا ہے تو لائکوپین میں کمی ہونے کی بجائے اور اضافہ ہوجاتا ہے، اگرچہ ٹماٹر کے انسانی صحت پر اثرات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا اور تحقیق بھی کی گئی ہے اس کے باوجود میڈیکل سائنس کمیونٹی کا یہی کہنا ہے کہ وہ اب بھی ٹماٹر کے سارے فوائد کے بارے میں جاننے میں ناکام رہے ہیں اور اس حوالے سے مسلسل تحقیق کی جارہی ہے،ٹماٹر اب تک پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں ان بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں زیادہ موثر ثابت ہوئے ہیں، جو بنی نوع انسان کی جان کو عموما لگی رہتی ہیں، بازار میں ٹماٹر کی بے شمار اقسام موجود ہیں اور ایسے میں اس کو استعمال کرکے صحت بخش فوائد حاصل کرنا اور بھی آسان ہو گیا ہے اگر آپ بھی اس سے سو فیصد مستفید ہونا چاہتے ہیں تو کسی ایسی جگہ کی تلاش کریں جہاں آپ خود اسے اُگاسکیں، اچھا ہو گا کہ آپ نامیاتی آرگینک ٹماٹر اُگائیں یہ ایک تفریحی عمل ہوگا آپ کو دھوپ کے ذریعے کچھ وٹامن ڈی بھی مل جائے گا اور ٹماٹر تو ہے ہی صحت بخش، ٹماٹر میں ایسے مرکب شامل ہیں جو سرطان، امراض قلب موتیا اور دیگر عارضہ میں نہ صرف بہت مفید ثابت ہوئے ہیں بلکہ ان کے خلاف سخت مزاحمت کرتے ہیں، ابتداء میں ٹماٹر کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کے استعمال سے دماغ کا بخار اور سرطان ہوجاتا ہے اور اسے صحت کے لیے خطرناک سمجھا گیا، مگر بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے ایک بھی بات درست نہیں ہے اور اس کے اثرات تو ان باتوں کے برعکس ہیں، سن1800میں امریکہ میں ٹماٹر استعمال نہیں کیا جاتا تھا، اس کی ابتداء ایسے ہوئی کہ اسی دہائی کے دوران نیوجرسی کا ایک شخص کرنل رابرٹ جونسن اسے بیرونِ مْلک سے امریکہ لے کر آیا چونکہ لوگ ٹماٹر سے خائف تھے لہذا اس نے اعلان کیا کہ وہ 26ستمبر 1820کو ٹماٹر کھانے کا عوام میں مظاہرہ کرے گا اس نے اپنے آبائی شہر سلیم میں سینکڑوں لوگوں کے سامنے مظاہرہ کیا اور ٹماٹر کی پوری ایک ٹوکری کھا گیا، لوگ اس انتظار میں تھے کہ بس یہ لڑھکنے ہی والاہے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور تب سے ٹماٹر امریکیوں کی غذا کا ایک اہم جزو بن گیا۔۔۔ٹماٹر میں وٹامن سی کی بھاری مقدار ہوتی ہے ایک انسان کو روزانہ جس قدر وٹامن چاہیے ہوتے ہیں۔۔۔ اس کا 40فی صد ٹماٹر سے حاصل ہو سکتا ہے، اس کے ذریعے وٹامن اے 15فی صد، پوٹاشیم 8فی صد اور 7فیصد آئرن خواتین کو ملتا ہے جبکہ مردوں کو اس سے دس فی صد آئرن ملتا ہے،ٹماٹر میں لائکو پین نامی لال رنگ کا یہ مرکب اینٹی اکسیڈنٹ ہوتا ہے اور فری ریڈیکل سیل کو نیوٹرلائز کرتا ہے جو انسانی سیل کو نقصان پہنچاتے ہیں، ابھی حال ہی میں ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ایک اور جانے پہچانے اینٹی آکسیڈنٹ بیٹا کروٹین کے مقابلے میں لائکوپین دوگنی قوت کا حامل ہے، ہارڈورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ جو شخص ہفتہ میں دس بار ٹماٹر کھاتا ہے اس میں سرطان کے امکانات 45فی صد کم ہو جاتے ہیں، تاہم اس کے فوائد صرف پروسٹیٹ کینسر تک ہی ہیں، اٹلی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو شخص روزانہ ٹماٹر بطور سلاد کھاتا ہے اس میں آنتوں اور پیٹ میں سرطان ہونے کے خطرات میں 60فی صد کمی آجاتی ہے،ایک اور تحقیق کے مطابق لائکوپین پھیپھڑے، چھاتی اور رحم کے سرطان کے خلاف سخت مزاحمت پیش کرتا ہے،یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لائکوپین کی وجہ سے بزرگ لوگ زیادہ عرصہ تک سرگرم رہ سکتے ہیںاور اسی جادوئی مادے کی وجہ سے ٹماٹر کا رنگ چمکدار سرخ ہوتا ہے،ٹماٹر میں موجود وٹامن بی بلڈپریشر اور کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھنے میں معاون ہوتا ہےاس کے نتیجے میں یہ فالج ، دل کے دورے اور دیگر خطرناک مسائل سے بچاتا ہے۔۔۔ٹماٹر میں موجود وٹامن اے آپ کے بالوں کے لیے مفید ہے جو بالوں کو مضبوط اور چمک دار رکھتا ہے، اس کے علاوہ یہ آنکھوں ، دانتوں ، جلد اور ہڈیوں کے لیے بھی مفید ہے، ٹماٹر میں موجود وٹامن اے نظر کو درست رکھنے میں مدد کرتا ہے،ٹماٹر میں معدن کرومیم بھی خاصی مقدار میں ہوتا ہے جو کہ شوگر کے مریضوں میں بلڈشوگرکو کنٹرول میں رکھتا ہے،ٹماٹر سگریٹ نوشی سے ہونے والے نقصان کو بھی کم کرتا ہے،ٹماٹر کو بیجوں کے بغیر کھایا جائے تو یہ پتے اور گردے کی پتھری کے خطرے کو کم کرتا ہے،ٹماٹر جلد کے لیے بھی مفید ہے کیونکہ اس میں موجود لائسوپین نامی مادہ جلد کی حفاظت کرتا ہے،اس سلسلے میں ٹماٹر کے استعمال کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دس بارہ ٹماٹروں کا چھلکا اتاریں اور چھلکے کو اپنے چہرے یا کسی بھی حصے کی جلد پر بچھادیں اور دس منٹ تک بچھا رہنے دیں،اس کے بعد اس کو دھودیں،آپ کی جلد پہلے سے زیادہ تروتارہ اور چمک دار ہوجائے گی،ٹماٹر کو پکانے سے زیادہ تر وٹامن سی ضائع ہوجاتی ہے اس لیے ٹماٹروں کو کچا کھانا زیادہ فائدہ دیتا ہے۔۔۔تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ٹماٹر میں موجود لائسوپین مردوں میں غدودوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے، اس کے علاوہ یہ معدے اور آنتوں کے کینسر سے بھی بچاتا ہےلائسوپین ایک ایسا قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو کینسر کے خلیات کی افزائش کو روکتا ہے،مزے کی بات یہ ہے کہ پکا ہوا ٹماٹر کچے ٹماٹر کے مقابلے میں زیادہ لائسوپین پیدا کرتا ہے اس لیے ٹماٹر کا سوپ پینا صحت کےلئے نہایت فائدے مند ہے،ٹماٹر میں وٹامن کے اور کیلشیم بھی خاصی مقدار میں پایا جاتا ہے جو کہ ہڈیوں اور ہڈیوں کے ٹشوز کے لیے مفید ہوتا ہے۔

no image

لنگڑی کا درد۔شیاٹیکا۔عرق النّساء

یہ درد پیڑو کے بڑے عصب یا میں ہوتا ہے جس کو انگریزی میں شیاٹیکا کہتے ہیں۔ یہ درد سرین کے نیچے سے لے کر بیرونی ٹخنے تک محسوس ہوا کرتا ہے یہ درد آہستہ آہستہ شروع ہو کر شدید ہوجاتا ہے اور گاہے بگاہے ایک دم شروع ہو جاتا ہے
کولہے کے نیچے جانگ کی پچھلی طرف سے یہ درد شروع ہوکر ٹانگ میں ہوتا ہوا گھٹنے کی پچھلی طرف سے ٹخنے تک جاتا ہے۔

شیاٹیکا کی تشخیصی علامات

مریض متاثرہ ٹانگ کو پھیلائے پھر اس کو پیٹ کی طرف لائے اورایسا کرنے سے سخت درد محسوس ہو
جب مریض کرسی پر ٹانگ نیچے لٹکائے بیٹھا ہو اگر گھٹنے کی پچھلی طرف گڑھا جو ہوتا ہے اس کو دبایا جائے تو مریض کو سخت درد محسوس ہوتا ہےمریض اکثر کھڑا ہونے کی حالت میں اپنے جسم کا بوجھ درد سے متاثرہ ٹانگ کی بجائے تندرست ٹانگ پر ڈالے گااور متاثرہ ٹانگ کو ڈھیلا رکھے گا اورپاؤں کے اگلے حصے پر وزن رکھے گااور ایڑی کو اونچا رکھے گاتاکہ درد والی ٹانگ کو کھچاوٹ نہ ہودرد والی ٹانگ میں کڑل پڑتے ہیں۔اس درد کا دورہ بہت شدید ہوتا ہے جب ایک ٹانگ میں درد رہ چکا ہو تو اسی ٹانگ میں دوبارہ ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے سخت قبض، نمی  والی جگہ پر مسلسل بیٹھنا یا سونا شیاٹیکاکے اسباب ہیں۔

تلبینہ نبوی غذا تلبینہ بنانے کا طریقہ اور تلبینہ کے فوائد
آم کھانے کے فائدے اور نقصانات
طبی طور پرایک وقت میں کتنا پانی پینا مناسب ہے

 شیاٹیکا کا ہومیو پیتھک علاج

اس کا علاج کسی ماہر ڈاکٹر سے کروا لینا زیادہ بہتر ہوتا ہے لیکن عام طور پر استعمال ہونے والی ادویات کے نام یہ ہیں۔
Gnaphallium
Arsenicum
Rhustox
Bryonia
Ledumpal
Ruta
Kali iodiod
Calchicum.
Pulsatilla
اگر مسئلہ سپائنل کارڈ میں محسوس ہو تونکس وامیکا دینی چاہیے۔

شیاٹیکاکے علاج کا دیسی نسخہ

نسخہ کو بنانے کے لیے مندرجہ ذیل اجزاء درکار ہیں۔
سورنجان شیرین۔پچاس گرام۔
ایلوایعنی مصبرپچاس گرام (ایلو ادراصل مصبر کو کہتے ہیں یہ پنسار سے باآسانی مل جاتا ہے)۔
گودا کوار گندل تازہ۔
شیاٹیکاکے علاج کا نسخہ بنانے کا طریقہ
دونوں اجزاء کو برابر وزن پیس کر پاؤڈر بنالیں۔ اس کے بعد کوار گندل کے گودے میں اس پاؤڈر کو اچھی طرح مکس کریں اورچنے کے برابر گولیاں بنالیں۔
شیاٹیکاکے علاج کا نسخہ استعمال کا طریقہ
روزانہ صبح و شام ایک ایک گولی کھانے کے آدھے گھنٹے بعد پانی سے کھائیں۔ پندرہ دنوں کے استعمال سے ناقابل یقین نتائج دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے۔
پرہیز
چاول۔ دہی ۔کھٹی چیزیں دوران علاج بالکل نہ کھائیں۔
ضروری ہدایات
جو دوائی کھانے والی دی جائے وہی دوا روغن زیتون میں ملا کر متاثرہ جگہ پر ملنی چاہیے مالش ہمیشہ گرم کمرے میں کرنی چاہیے تاکہ ٹھنڈی ہوا سے بچا رہے درد والی جگہ پر نرم کپڑےکا ٹکڑا رکھ کر اس پرہلکی گرم استری رکھنا فائدہ مند ہے۔ مریض کو مسالہ دار خوراک اور تیز پتی والی چائے سے پرہیز کروائیں اور سخت محنت سے منع کریں۔

no image

عضو تناسل میں کمزوری کے اسباب اور عضو تناسل کی کمزوری کے علاج کا معجون

اکثر حکماء کا خیال ہے عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کی بنیاد صرف نفسیاتی عوامل ہوتے ہیں لیکن یہ بات دُرست نہیں اگرچہ خیالات اور جذبات عضو تناسل میں تناؤ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تاہم تناہو پیدا نہ ہونے کا سبب جسمانی بھی ہو سکتا ہے مثلأٔ صحت کا کوئی پُرانامسئلہ یا ادویات کے ذیلی اثرات بہت سے عوامل کا مشترکہ اثر عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کے مسائل پیدا کرتا ہے۔

عضو تناسل میں کمزوری کے عام اسباب

دِل کے امراض ،شوگرموٹاپا،غذا کے ہضم ہونے اور اس کی جسم میں سپلائی کے مسائل ،ہائی بلڈ پریشر، خون کی نالیوں میں رُکاوٹ ہونا۔الکحل اور دِیگر منشّیات کا کثرت سے استعمال ،زیادہ تمباکو نوشی کرنا،ہارمونز کی بے قاعدگیاں مثلأٔ ٹیسٹو سٹیرون کی کمی،عضو تناسل کی ساخت کے اندر خرابی، قوت مدافعت اور اعصابی نظام کی کمزوری،بعض اوقات عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونا کسی اور مرض کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔
عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کےنفسیاتی اسباب
عضو تناسل میں تناؤ کے لیئے پیغام جاری کرنے میں دِماغ اہم کردار ادا کرتا ہے مثلأٔ جنسی جوش کےاحساسات دماغ میں ہی پیدا ہوتے ہیں اور اگر دماغ کمزور ہوتو یہ پیغام رسانی بھی کمزور ہو گی یہ کمزوری تناؤ نہ ہونے کی وجہ بن سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ تھکن،ذہنی دباؤ،تشویش، ڈپریشن اپنے ساتھی سے بہت کم بات کرنا یا اُس سے اختلافات ہونابھی نفساتی مسائل میں شامل ہیں۔

کلونجی سے مردانہ کمزوری کا علاج

بے اولادی کی وجوہات اور بے اولادی کا علاج

پیاز کے چھلکوں کے فوائد

عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کےجسمانی اسباب

عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کے نفسیاتی و جسمانی وجوہات ایک ساتھ مِل کر کام کرتی ہیں۔مثلا ایک معمولی جسمانی مسئلہ جنسی عمل کی رفتار کو سُست بنادیتا ہے اور اِس کے نتیجے میں تناؤ نہ ہونے کا مسئلہ پیدا ہو جاتاہے۔ مرض کےاصل سبب کو دور کیئے بغیر علاج ممکن نہیں ۔کئی دفعہ ایسا ھوا کہ ذہنی دباؤ ،ڈپریشن اور نفسیاتی عوامل کا علاج کیا تو صرف اس سے ہی جنسی کمزوری قوت باہ کی ادویات استعمال کیئے بغیر ٹھیک ہو گئی ۔اسی طرح بہت دفعہ معدہ اور نظام انہضام کا علاج کرنے سے احتلام اور جریان کو شفا مل گئی۔یہ بات بھی تجربہ میں آئی ہے کہ الکوحل اور تمباکو نوشی چھوڑنے والوں کا انتشار اور امساک خود بخود بڑھ گیا ۔اور یہ حقیقت ہے کہ ذیابیطیس کو قدرتی ادویات سے جب کنٹرول کر لیا گیا تو اس سے بھی جنسی کمزوری بھی دور ہوئی ۔ موٹاپا کے شکار لوگوں کی مردانہ کمزوری صرف وزن کم کرلینے سے دور ہوئی ۔ اللہ کے فضل و کرم سے میرے ہاتھوں بہت سے ایسے غم کے مارے مریض صحت یاب ہوئے جو کہتے تھے کہ ہم پر کوئی دوا اثر نہیں کرتی آج اللہ جلّہ شانہ کے کرم سے انتہائی سادہ اور قلیل دوا سےان کا علاج کیا اور وہ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔

عضو تناسل میں کمزوری کے علاج کا معجون

آج وہ چیز بتانے جارہا ہوں جو کہ میرےاور میرے خاندان کے کئی حکیموں کا ایک انتہائی کامیاب نسخہ ہے یہ ایک عام چیز ہے مگر مجھے میرے دادا جان حکیم اللہ دیہ سے ملا تھارات کو دس مریضوں کے لئے بنا رہا تھا سوچا آپ سب اس کے فائدے جاننے کے بعد انشاءاللہ سب اس کے استعمال پہ مجبور ہو جائیں گے۔نسخہ کو شیئر لازمی کرنا شکریہ۔
یہ نسخہ خالص مربعوں اور زعفران اور ورق چاندی کا خاص مجموعہ ہے۔
مربہ آملہ
بہت سے لوگوں کے چہروں پر بڑھاپے کے ساتھ جھریاں رونما ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔اس میں بڑھاپے کے اثرات کو روکنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ مربہ آملہ وٹامن ای اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے آپ کی جلد کو وٹامن ای کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو کولجین کی مقدار کو جسم میں برقرار رکھتی ہے وٹامن ای آپ کی جلد کو لچکدار اور جوان رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ آملہ کے استعمال سے جسم جوان اور توانا رہتا ہے۔کیلشیم ہماری مجموعی صحت کے لئے مفید ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آملہ کا استعمال کیلشیم کے جذب کرنے کے عمل کو بڑھاتا ہے۔ یہ ہمارے بالوں ،ناخنوں، ہڈیوں اور دانتوں کے صحت کے لئے اچھا ہے۔ اگر آپ آملہ کے مربہ کا استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کے بالوں کی صحت کو فروغ دیتا ہے
مربہ سیب
دماغ کی کمزوری کو دور کرنے کیلئے سیب کا مربہ کھانا بہت ضروری ہوتا ہے اس سے خون کی کمی بھی دور ہوتی ہے۔ اعصابی کمزوری دور ہوتی ہے۔ہر سال دل کی خرابی کی وجہ سے بہت سے لوگ اس دنیا سے جاتے ہیں۔ آپ کے خون کی گردش آپ کی مجموعی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ جب آپ مربہ کا استعمال کرتے ہیں تو آپ اپنے دل کی صحت کے ساتھ مجموعی صحت کو بھی بہتر بناسکتے ہیں۔ یہ کارڈیک صحت کے لئے بھی جانا جاتا ہے۔
مربہ گاجر
جگر کے سدے کھولتی ہے اور جسم کو طاقت بخشنے میں لاثانی ہے۔ مادۂ تولید کو گاڑھا کرتی اور اس سے پیشاب کھل کر آتا ہے۔ گاجر کا مربہّ سونے یا چاندی کے ورق کے ساتھ کھانابے حد فرحت بخشتا ہے۔ دل ،دماغ اور قوت مردی کو طاقت دینے میں بے مثال ہے۔
مربہ ہڑیڑ
معدہ اور قبض سے مایوس کن افراد کی آخری کرن ہےعورتوں کو ماہواری میں تکلیف کا سامنا رہتا ہے اور کمر درد مرد اور عورتوں میں عام سی بات ہےاس کو بھی فائدہ دیتی ہے جوڑوں پٹھوں کو زبردست قسم کے فائدے دیتی ہے۔
یہ نسخہ مردانہ طاقت کا حیران کن خزانہ ہے زیادہ نہیں لکھوں گا سمجھنے والے سمجھ جائیں گے اس میں شامل ہر اجزاءکے فائدے تفصیل کے ساتھ لکھ دئیے ہیں اور اسکا کوئی نقصان نہیں ہے۔
معجون بنانے کے لیئے اجزاء
سیب ، آملہ ، گاجر ، سبز ہڑڑ ، ورق چاندی ، پستہ ، اخروٹ ہر ایک ایک پاو لے لیں۔ اور زعفران خالص صرف دس گرام لینی ہے۔
معجون بنانے کا طریقہ
تمام مربہ جات اور خشک میوجات کو اچھی طرح کوٹیں اور اچھی طرح رگڑائی کریں اور رگڑائی کرتے وقت زعفران آہستہ آہستہ ملاتے جائیں جب اچھی طرح یک جان ہو جائے تو شیشے کےمرتبان میں سنبھال لیں۔
معجون کھانے کا طریقہ
ایک چمچ معجون روزانہ نہار منہ ہمراہ نیم گرم دودھ استعمال کریں کم از کم چالیس یوم لازمی کھانا ہے۔
نوٹ
یہ نسخہ ایک تحفہ ہے استعما ل کرنے پر فائدہ ملے توحکیم عمران کمبوہ کو دعا میں یاد رکھیں اور میرے بز رگوں کو بھی دعاؤںمیں لازمی یاد رکھناشکریہ۔

no image

چاول کے پانی کے طبی فوائد

چاول کی تاریخ

دوستو! چاول پاکستانیوں کی پسندیدہ ڈش ہے جسے بچے اور بڑے سب شوق سے کھاتے ہیں، چاول کو ناصرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر کے دسترخوانوں کی زینت سمجھا جاتا ہے اور اس سے کئی اقسام کے پکوان بنائے جاتے ہیں، پہلی بار چاول چھے ہزار قبل از مسیح چین میں ایجاد ہوا ، چینیوں کے بعد سری لنکا اور انڈیا میں چاول کی کاشت کا سلسلہ شروع ہوا جو دیکھتے ہی دیکھتےیونان کے کئی علاقوں تک پھیلتا چلا گیا پھر جنوبی یورپ اور شمالی افریقہ کے کئی شہروں سے ہوتا ہوا تھائی لینڈ، انڈونیشیا اوراب دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، چاول کی ایجاد کا سارا دارومدار ”شنگ شان  نامی چینی ماہر کے سر جاتا ہے، جس نے چاول کے ایک چھوٹے سے چھلکے کو مٹی کے برتن کا سہارا لے کر مٹی میں دفن کیا اور پوری دنیا کو چاول جیسی نعمت سے متعارف کروایا، اب اس نے یہ چھلکا کہاں سے لیا اس بارے ابھی مکمل معلومات ہمیں نہیں مل سکیں ، اس ماہر کی دیکھا دیکھی 2500 قبل از مسیح شمالی برصغیر کے لوگوں نے بھی چاول کوخود اگانا شروع کردیا تو یوں چاول کی کاشت کا سلسلہ چلا نکلا اور پوری دنیا سے ہوتا ہوا پاکستانیوں کی مرغوب غذا کا درجہ حاصل کر گیا۔۔۔ یہ تو تھی چاول کی مختصر تاریخ اب آپکو بتاتے ہیں کہ چاول کا پانی کس قدر فائدہ مند ہے اور یہ ہمارے جسم کیساتھ کرتا کیا ہے آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں۔
دوستو! چاولوں کا پانی ہماری خوبصورتی بڑھانے اور برقرار رکھنے کے لیے کتنا زیادہ مفید ہےاور کتنا زیادہ اثر دار ہے، شاید یہ بات آج سے قبل آپ کے علم میں نہیں ہو گی کیونکہ چاولوں کا پانی بہت آسانی اور سستے میںبن جاتا ہے، اس لیے ہمیں اس چیز کی کوئی خاص قدر نہیں اور ہم اس کی افادیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ ہمیں جو چیز بھی سستی او ر بآسانی میسر ہو جائے ، ہم اس کی قدر نہیں کرتے، یقین مانیے چاولوں کا پانی بازار سے ملنے والے کسی بھی ٹونر ، کلینزر اور اینٹی ایجنگ کریم سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے اور چاولوں کا پانی تین قسم کی خصوصیات سے مالا مال ہوتا ہے، ایک یہ زبردست ٹونرہے، دوسرا یہ زبردست کلینزر ہے اور تیسرا یہ زبردست اینٹی ایجنگ ماسک کے طور پر بھی استعمال ہوسکتا ہے اور ان تینوں خصوصیات کی وجہ سے یہ بازار سے ملنے والی کسی بھی مصنوع سے زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ جو مصنوعات بازار میں دستیاب ہیں، ان کا کوئی نہ کوئی سائیڈ افیکٹ ضرور ہوتا ہے لیکن اس کے صرف فوائد ہی فوائد ہیں اور ابھی تک اس کا کوئی نقصان سامنے نہیں آیا ، الحمدللہ جس جس نے اس کا استعمال کیا مفید ہی پایا ہے، اگر آپ اس پوسٹ کو پڑھنے سے قبل  اسے آزما چکے ہیں تو کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

چنے کا مزاج افعال اور فائدے

کریلے کا مزاج اور کریلے کے طبی فائدے

کلونجی سے مردانہ کمزوری کا علاج

چاول کے پانی کے فوائد

چلیے اب اس کے فوائد پر نظر دوڑاتے ہیں، جن لوگوں کی جلد خراب ہے، جھریاں پڑی چکی ہیں، جلد ڈھیلی ہو رہی ہے یا ہو چکی ہے اور مختلف ادویات استعمال کر کے بھی ڈھیلا پن نہیں جا رہا تو چاولوں کے پانی کو ضرور استعمال کریں،جلد نا صرف ٹائٹ ہو جائے گی بلکہ جلد کی خرابی اور جھریوں سے بھی چھٹکارہ مل جائے گا، یاد رہے چاولوں کا پانی چاول ابال کر نہیں نکالنا بلکہ کچے چاول پانی میں بھگو دیں اور جب چاولوں کو نتھاریں تو اس پانی کو ضائع کرنے کی بجائے اس کو کسی مفید کام میں استعمال کریں، یہ پانی بنانے کا طریقہ بھی آپکو آگے چل کر بتاتے ہیں، اسی طرح جن لوگوں کی جلد رنگ برنگی ہو رہی ہے یعنی کہیں سے کالی اور کہیں سے سفید تو وہ بھی استعمال کریں ان شاء اللہ بہترین نتائج ملیں گے، اس کے علاوہ جن لوگوں کی جلد مختلف مسائل کا شکار ہو چکی ہے جیسےپنپل، دانے وغیرہ تو چاول کا پانی استعمال کریں یہ مسائل حل ہو جائیں گے اور بلیک ہیڈ یا وائٹ ہیڈ وغیرہ کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

چاول کا پانی بنانے کا طریقہ

اب یہ جان لیں کہ چاولوں کا یہ پانی بنایا کیسے جاتا ہے، آپ تقریبا آدھاکپ چاول لیں اور اس آدھا کپ چاولوں میں آدھےکپ سے کچھ زیادہ پانی شامل کر لیں، اس کوکم از کم دو سے چار گھنٹے تک بھگو کر رکھ دیں، اس سے ان چاولوںمیں موجود وٹامنز اور منرلز پانی میں شامل ہو جائیں گے، دو گھنٹے بعد اس پانی کو نتھار لیں اور چاول پکا کر استعمال کر لیں یا کسی بھی استعمال میں لاسکتے ہیں، اب چاولوں کے اس پانی کو ایک بوتل میں ڈال کر رکھ لیں، یہ پانی آپ ۵ سے ۶ دن تک فریج میں رکھ سکتے ہیں، اس پانی کو آپ چہرے، گردن، ہاتھوں اور پیروںپر استعمال کرسکتےہیں چلیے اب آپ کو چاول کے پانی کے استعمال کرنے کا طریقہ اور شاندار فوائد سے آگاہ کرتے ہیں۔

ہارمونز میں خرابی کا علاج

دوستو! ہارمونز میں خرابی کی وجہ سے چہرے پر کیل مہاسوں کا نکلنا آج کل ایک عام بیماری ہے جس میں نوجوان بڑی تعداد میں مبتلا نظر آتے ہیں اور پھراس بیماری سے چھٹکارے کے لیے مہنگی ادویات وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں، جن میں ایسے کیمیکلز بھی استعما ل ہوتے ہیں، جو فائد ہ دینے کی بجائے اُلٹا نقصان پہنچاتے ہیں، چاول کا پانی کیل مہاسوں کے خاتمے کے لیے ایک قُدرتی دوا ہے جو جلد کے مساموں کو ٹائٹ کر کے کیل مہاسوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے مہاسوں کے خاتمے کے لیے پہلے فرج میں رکھ کر ٹھنڈا کر لیں اور پھر کسی روئی کیساتھ کیل مہاسوں پر لگائیں بہترین نتائج ملیں گے، طبی ماہرین کی ایک ریسرچ کے مطابق ایسے افراد جو جلد کی سوزش کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں، ان کے لیے چاول کے پانی سے روزانہ دودفعہ نہانا انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، اس کیلئے آپکو کو چاولوں کا پانی کافی مقدار میں چاہیے ہو گا۔

چاول کے پانی سے رنگ صاف کریں

اسی طرح چاول کے پانی میں ایسے وٹامنز اور منرلز شامل ہوتے ہیں جو چہرے کے مُردہ سلز کو زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور رنگت کو صاف کرنے میں انتہائی مددگار ہوتے ہیں، چاول کے پانی سے چہرے کے فیشل کے لیے روئی کو چاول کے پانی میں بھگو کر اس سے 2منٹ تک چہرے کے صفائی کریں اور پھر چہرے کو ہوا سے خشک ہونے دیں یہ جلد کو بہترین صفائی دینے کے ساتھ نرم اور ٹون کردے گا۔

چاول کے پانی سے بال مضبوط کریں

اسی طرح بالوں کی بہترین نشوونما کے لیے اسے استعمال کیا جاتا ہے، چاولوں کا پانی جڑے ہوئے بالوں کو کھول دیتا ہے اور بالوں کی لچک کو بحال کر کے انہیں خوبصورت اور چمکدار بناتا ہے، بالوں میں شمپو کرنے کے بعد ان میں چاول کا پانی لگائیں، یہ جہاں خوبصورت شائن دے گا وہیں بالوں کو تندرست توانا اور لمبا کرنے میں آپ کا مددگار ہوگا انٹرنیشل جنرل آف کاسمیٹک سائنس میں ہونے والی ایک ریسرچ کے نتائج کے مطابق چاول کے پانی سے بال کی جڑوں کی فریکشن کم ہوتی ہےاور یہ سر پر بالوں کی تعداد بڑھاتا ہے، اس کے علاوہ یہ بہترین کنڈیشنر ہے، چاول کے پانی میں روز میری یا لیوینڈر کا تیل ڈال کر اور اگر یہ تیل میسر نہ ہوں تو سرسوں وغیرہ کا تیل استعمال کر لیں، بالوں میں لگائیں اور 10منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر بالوں کو سادے پانی سے دھو لیں چاولوں میں موجود امائنو ایسڈ جہاں بالوں کو گھنا اور چمکدار بنائیں گے، وہیں یہ سر کی جلد کا پی ایچ لیول ٹھیک کریں گے کیونکہ اس میں کوئی کیمیکل شامل نہیں ہوتا۔

چاول کے پانی سے جلد کی حفاظت کریں

اس کے علاوہ یہ ایگزائما کے خاتمے کے لیے مفید ہے،ایگزائما ایک جلد کی بیماری ہے جس میں جلد سُرخ ہوجاتی ہے، جلد پر خارش ہوتی ہے اور خشکی پیدا ہوتی ہے، بیوٹی ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ چاول کے پانی میں کپڑے کو بھگو کر اسے متاثرہ حصے پر تھوڑی دیر لگا دیں اور کُچھ دیر لگا رہنے دیں پھر کپڑے کو ہٹا کر جلد کو ہوا میں خُشک ہونے دیں اس سے ایگزائما میں کافی افاقہ ہوگا، اس کے علاوہ چاول کا پانی جلد کو صاف اورچمکدار بنانے کے لیے بھی فائدہ مند ہے، بہت سے لوگ پُوچھتے ہیں کے کیا واقعی چاول کا پانی جسے ہم ضائع کر دیتے ہیں جلد کو چمکدار بنا سکتا ہے؟ اس بات کا جواب ہے جی ہاں کیونکہ جلد کو چمکدار بنانے کے لیے جو مہنگے کاسمیٹکس وغیرہ آپ خریدتے ہیں جیسے سکن لوشن، صابن، فیس ٹونر وغیرہ اُن میں سے کئی میں تو استعمال ہی چاولوں کا پانی ہوتا ہے، چاول کے پانی میں روئی ڈبو کر اس سے چہرے کو صاف کریں اور پھر چہرے کو خُشک ہونے دیں اور پھر ٹھنڈے پانی سے چہرے دھو لیں، آپ اس ٹوٹکے کو روزانہ بھی استعمال کر سکتے ہیں اور ان شاء اللہ اسے انتہائی مفید پائیں گے۔

no image

پانی جسم کے لئے فائدہ مند یا نقصان دہ

ہم میں سے اکثر لوگ پانی کو اتنا عام سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم جب چاہیں جیسے چاہیں اور جتنی مقدار میں چاہیں پانی پی سکتے ہیں لیکن ہمارا ایسا سوچنا بالکل غلط ہے ،کیونکہ پانی دیکھنے میں جتنا عام سا لگتا ہے یہ ہمارے جسم کے تمام حصوں کو ٹھیک طرح سے کام کرنے اور جسم میں بننے والے زہریلے مادوں کو باہر نکالنے کے لئے اتنا ہی ضروری ہوتا ہے،پیٹ سے لے کر سکن تک اور وزن بڑھانے سے لے کر وزن گھٹانے تک پانی ایک بڑا رول پلے کرتا ہے ۔اس لئے پانی پینے کی صحیح مقدار ،پانی پینے کا صحیح وقت ،پانی پینے سے کیا کیا فائدے اور کیا کیا نقصان ہوتے ہیں اگر اس بارے میں معلوم نہ ہو تو پھر انسان چاہے جیسی اچھی سے اچھی غذا کیوں نا کھا لے تو اس کا صحیح فائدہ جسم کو مل ہی نہیں پاتا جس کی وجہ سے بہت سارے طبی مسائل کو فیس کرنا پڑتا ہے۔

جیساکہ بدنظمی، قبض، گیس، لیور کی کمزوری، سستی آنا ،گردے کی پتھری ،جسم میں اچھے بیکٹیریا کا کم ہو جانا، بار بار بیمار پڑنا، سکن الر جی، کھجلی، چہرے پر پمپلزاور داغ دھبےکا ہونا، وائٹ ہیڈز،بلیک ہیڈز، سکن کا بہت زیادہ آئلی یا بہت زیادہ ڈرائی ہوجانا، کھایاپیا جسم کو نالگنا، جوڑوں میں درد ہونا، جسم پر چربی کا جمنا، سر درد اور چکر آنا، وزن بڑھنے یا گھٹنے میں پریشانی محسوس کرنا، بالوں کا جھڑنا اور راتوں کو نیند نہ آنا ایسی کئی بیماریاں صرف پانی کو غلط مقدار میں اور غلط طریقے سے پینے سے ہوسکتی ہیں۔۔۔اس لئےآج کے اس مضمون میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ پانی ہمارے لئے اتنا ضروری کیوں ہے اور اس کا ہمارےجسم میں کیا کام ہوتا ہے ۔۔۔ایک دن میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کتنا پانی پیا جا سکتا ہے اگر جسم میں پانی کی کمی ہوجائے تو اسے کیسے پتہ لگایا جا سکتا ہے۔۔۔ ایک بار میں کتنے گلاس پانی پینا چاہیے اور کس طرح پینا چاہیے اور پانی کب کب پینا چاہئے اور کب کب نہیں پینا چاہیے یعنی پانی پینے کا صحیح ٹائم کیا ہےاورپانی کس طرح کا ہونا چاہیے، ٹھنڈا  گرم یا نارمل ہو اور پا نی وزن بڑھانے اور گھٹانے میں کس طرح سے مدد کرتا ہے۔

پیاز سے شوگر کا علاج

دبلے پتلے جسم کو موٹا اور وزن بڑھانے کا دیسی نسخہ

لیکوریا جیسی بیماری کا علاج گھر بیٹھ کر ممکن ہے

ہمارے جسم میں 60سے 70فیصد پانی ہوتا ہے اور ہمارے پئے گئے پانی کا استعمال ہمارے انٹرنل اورگن جیسا کہ گردے، لیور ،پھیپھڑے ، ہاضمہ کا نظام اور تقریبا جسم کے سبھی حصوں کو ٹھیک طرح سے کام کر نے اور سب سے زیادہ ہمارے جسم کوزندہ رکھنے میں ہوتا ہے۔۔۔ اب سوال یہ ہے کہ دن میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کتنا پانی پیا جاسکتا ہےاور اگر آپ کے جسم میں پانی کی کمی ہوگئی ہو تو اسے کس طرح سے پتہ لگایا جا سکتاہے۔۔۔ جسم میں پانی کی کمی ہوتے ہی پیشاب کا رنگ پیلا پڑ جاتا ہےہاضمہ کمزور ہوجاتاہے، چہر ے کی سکن آہستہ آہستہ روکھی، بےجان اور ڈھیلی پڑجاتی ہے اور اگر شروع میں ہی پانی پینے کے صحیح طریقے پر دھیان نہ دیا جائے تو یہ سب بیماری کا روپ بھی لے سکتے ہیں۔۔۔اس لئے ہر دن ایک مقدار میں پانی کا پینا بہت ضروری ہوتا ہے۔

ایک وقت میں کتنا پانی پینا مناسب ہے

ایک بات جو بہت ضروری ہےکہ دن بھر میں کتنا پانی پینا چاہیے اور پانی کس طرح کا ہونا چاہیے یعنی گرم، ٹھنڈا یا پھر نارمل س کے لیے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ پانی میں کیا کیا ہوتا ہے اور یہ کون کون سی پرابلم میں فائدہ پہنچاتا ہے۔۔۔پانی میں زیرو کیرولیز ہونے کے باوجود یہ ہمارے جسم سے زہریلے مادوں کو باہر نکالنے میں بہت مدد کرتا ہے، سکن کو صاف کرتا ہے،دماغی طاقت،ہاضمہ ، آنکھ،ہڈی اور لگ بھگ جسم کے تمام حصوں کو ٹھیک طرح سے کام کرتے رہنے میں بہت مدد کرتا ہے اسلئے پانی ہمارے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے ، کچھ کھائےبغیر کوئی بھی شخص لمبےوقت تک رہ لے گا مگر پانی کے بغیر ایک دن بھی رہ پانابہت مشکل ہے کیونکہ پاخانہ، پسینہ، پیشاب اور سانس لینے کے پروسس میں لگ بھگ 2لیٹر پانی ہمارے جسم سے نکل جاتا ہے، جسے ری سٹور کرنا بہت ضروری ہوتا ہے،ویسے تو کسی بھی انسان کو دن بھر میں کتنا پانی پینا چاہیے یہ اس انسان کی صحت، و ہ جہاں رہتا ہے اس جگہ کا موسم ،اس کا وزن اور اس کی فزیکل ایکٹیویٹی پر ڈیپنیڈکرتا ہےلیکن ایک عا م شخص کو دن میں ڈھائی سے تین لیٹر پانی ضرور پینا چاہئے،جو کہ ایک ایورج سائز کے کلاس کے حساب سے 8 سے 12کلاس ہوتے ہیں اور گرمی کے موسم میں کیونکہ زیادہ پسینہ نکلتا ہے تو ایسی صورت میں پانی کی مقدار تھوڑی بڑھائی جاسکتی ہے اور جو لوگ ایکسرسائز کرتے ہیں انہیں بھی عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں پانی پینا چاہیے کیونکہ ان کے جسم میں پانی کا استعمال زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔۔۔ اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ضرورت سے زیادہ پانی پینے پر جسم کو کوئی نقصان بھی ہو سکتا ہے ،تو اس کا جواب بہت ہی سمپل ہے کہ کوئی بھی چیز بہت زیادہ مقدار میں نقصان دیتی ہے، زیادہ پانی پینے سے ہمارے گردے کا کام بڑھ جاتا ہے اور خون میں سوڈیم کے لیول کم ہونے کے چانسز بہت زیادہ رہتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کیونکہ اکثر لوگ اُتنا بھی پانی نہیں پیتے کہ جتنا پانی پینے کی ان میں طاقت ہوتی ہے اور ایسا نقصان تب ہوتا ہے جب کوئی شخص چار یا پانچ لیٹر سے بھی زیادہ پانی پی لے۔
اب آپ کو بتاتے ہیںکہ ایک نشست میں کتنا پانی پینا چاہیے اور کس طرح سے پینا چاہیے ! کچھ لوگوں کو اکثر ایسا لگتا ہے کہ پانی کو جب چاہیں جیسے چاہیں پیا جا سکتا ہے لیکن ایسا سوچنا بالکل بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ ایک طرح کے پانی کو الگ الگ طریقے پر پینے سے اس کاجسم پر الگ الگ طرح سے اثر ہوتا ہے اس لئے پانی ہمیشہ بیٹھ کر آہستہ آہستہ پینا چاہیے ،جیسا کہ پانی کو منہ میںرکھ کر چار سے پانچ سیکنڈ تک اِدھر اُدھر گھمائیں اور پھر نگل لیں،ایسا کرنے سے ہمارے منہ میں موجوذ رات ہمارے پیٹ میں جاکر پیٹ کی ایسڈی پراپٹیزکو بٹھا دیتا ہے، جس سے ہاضمہ اور بھی مضبوط ہونے لگتا ہے جبکہ کھڑے ہو کر جلدی جلدی پانی پینے سے ہمارے گُردے اسے ٹھیک طرح سے فیلٹر نہیں کر پاتے اور منہ سے ہٹا کر بوتل سے پانی پینے سے(یعنی بوتل کو الگ رکھ کر پانی میں انڈیل کر پینے سے) پانی کے ساتھ ساتھ باہر موجود بہت ساری گیس بھی ہمارے جسم میں داخل ہو جاتی ہے، جس سے جوڑوں کے درد ہونے کے چانسز بہت زیادہ رہتے ہیں، اسلئے پانی بیٹھ کر آہستہ آہستہ تین سانسوں میں پینا چاہیے اور ایک بار میں ایک یا ڈیڑھ گلاس یاجتنی پیاس ہو اتنا ہی پانی پینا چاہئے کیونکہ ایک ہی بار میںبہت زیادہ پانی پی لینے سے ہمارے گردے اسے ٹھیک طرح سےفلٹر نہیں کر پاتے اور پانی ہمارے جسم میں استعمال ہوئے بغیر ہی پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔

پانی ٹھنڈا پینا ہے یا گرم

اب اس طرف آتے ہیں کہ پانی گرم ،ٹھنڈا یا نارمل ہونا چاہیے۔۔۔دوستو!جب ہم بہت زیادہ ٹھنڈی یا گرم چیز کھاتے یا پیتے ہیں تو ہمارا جسم پہلے اسے گرم کرتا ہے اور پھر کام میں لیتا ہے، پانی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے، جب ہم فریج میں رکھا ٹھنڈا پانی پی لیتے ہیں تو وہ پہلے جسم میں گر م ہوتا ہے پھر کام میں آتا ہے اور جب تک یہ پراسس چلتا رہتا ہے، ہمارے جسم کو تب تک انتظار کرنا پڑتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ زیادہ ٹھنڈا پانی ہمارے کھائے گئے کھانے کو بہت سخت بنا دیتا ہے جس سے ہاضمہ بہت سلو(یعنی آہستہ ہو جاتا ہے) اور قبض ہونے کے چانسز بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں، اس لئے پانی ہمیشہ نارمل ہی پینا چاہیے کیونکہ ہلکے گرم پانی کو ہمارا جسم فورا کام میں لے آتا ہے اور ہماری کھائے گئے کھانے کو ہلکا گرم پانی توڑنے میں بھی بہت مدد کرتا ہے، جس سے ہاضمہ مضبوط ہوتا ہے اور پیٹ بھی کھل کر صاف ہوتا ہے۔
اب آپ کو بتاتے ہیںکہ پانی کب کب پینا چاہیے اور کب کب نہیں پینا چاہیے! دوستو! یہ ایسی باتیں ہیں جہاں اکثر لوگ غلطی کرتے ہیں اور پھر بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں ،پانی کب پینا چاہیے؟ اس سے زیادہ یہ جاننا ضروری ہے کہ پانی کب نہیں پینا چاہیے ،اسلئے پہلے ہم آپکو بتاتے ہیں کہ پانی کب نہیں پینا چاہیے اور اس کے بعد ہم آپ کو بتائیں گے کہ پانی کب پینا چاہئے۔

کھانا کھانے کے بعد پانی کا استعمال

ویسے تو کھانا کھاتے وقت پہلے یا بعد میں ایک یا دو گھونٹ پانی پینے میں کوئی برائی نہیں ہے، بلکہ کھانا کھانے سے پہلے ایک یا دو گھونٹ پانی پینے سے سوکھے کھا نے بھی گلے سے آسانی سے اترتے ہیں اورہچکی بھی نہیں آتی لیکن یہاں ایک یا دو گھونٹ کہنے کا مطلب ہے کہ گلا بھیگنے جتنا پانی پینا چاہیے لیکن کھانا کھانے کے دوران پہلے یا بعد میں گلاس بھر کر یا زیادہ مقدار میں پانی پینا بالکل بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ کھانا کھانے کے فورا بعد پانی پی لینے سے یہ ہمارے کھائے کھانے کو بہت تیزی سےپتلا بنا دیتا ہے اور ہمارے پیٹ میں ہاضمہ کے ذرات بھی نہیں نکل پاتے جس سے ہمارا ہاضمہ کمزور پڑ جاتا ہے ۔۔۔اسلئےہمیشہ کھانا کھانے کے 45منٹ یا ایک گھنٹے بعد ہی پانی پینا چاہیے۔

رات کو سونے پہلے یا رات کو اچانک آنکھ کھلنے پر پانی پی کر سو نا

دن میں پانی ہمارے لئے جتنا فائدہ مند ہوتا ہے اسی طرح رات کے وقت بہت زیادہ پانی پینا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ سوتے وقت ہمارا جسم ایکٹو نہیں رہتا ،جس سے پانی ہمارے جسم میں استعمال ہوئے بغیر ہی گردے میں فلٹر ہونے کےلئے چلا جاتا ہے، جہاں یہ ہمارے گردے کو بہت نقصان پہنچاتا ہے اور نیند سے اٹھ کر بار بار ٹائلٹ جانے کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے، جس سے دوبارہ نیند آنے کیلئے بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس لئے جتنا ہوسکے دن کے ٹائم میں ہی پانی کی روزانہ لمٹ کو پورا کرنا چاہیے اور ساتھ ہی دو بار پانی پینے کے بیچ 45منٹ سے ایک گھنٹےتک کا وقفہ ضرور ہونا چاہئے۔۔۔ کیونکہ جلدی پانی پینے سے پانی ہمارے جسم میں استعمال ہوئے بغیرہی پیشاب کے ذریعے باہر نکل جاتا ہے اور اس سے جلدی جلدی پیشاب آنے کی پرابلم بھی شروع ہو سکتی ہے اسلئے جب آپ کو لگے کہ آپ کا پیشاب پیلا نہیں ہے بلکہ پانی کی طرف بالکل صاف ہےتو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ فی الحال آپ کی باڈی کو پانی کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اس لیے پیشاب کرنے کے بعد بھی پانی پینے کے لیے پندرہ سے بیس منٹ کا وقفہ ضرور رکھیں، تاکہ ہمارے گردے کو ریسٹ لینے کے لئے تھوڑا موقع مل سکے، نہیں تو جلدی جلدی پانی پیتے رہنے سے بار بار پیشاب آنے اور پیشاب کو روک نہ پانے کی پرابلم شروع ہو سکتی ہیں۔

پھل اور کچی سبزی کھانے کے بعد

اکثر پھل اور ایسی سبزی جیسے کھیرااور ٹماٹر جیسی سبزی کو اگر آپ کچا کھاتے ہیں تو اس کے فورا بعد پانی بالکل بھی نہیں پینا چاہیے ، اسی طرح کیلا ،تربوز، انار،سنگترہ اور دوسرے پھل کھانے کے بعد بھی فورا پانی بالکل بھی نہیں پینا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے کھائی ہوئی چیز بہت سخت ہو جاتی ہے جس سے ہاضمہ کا نظام سست پڑ جاتا ہےاور کچھ لوگوں کو سردی زکام بھی ہو جاتا ہےساتھ ہی ساتھ بہت زیادہ گرم چیزیں ،جیسے چائے، کافی اور سوپ جیسی چیزوں کو پیتے ہی فورا پانی نہیں پینا چاہیئے کیونکہ ان چیزوں کوپینے کے بعد فورا پانی پینے سے دانتوں اور مسوڑوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

پانی کب کب پینا چاہئے

یعنی پانی پینے کاصحیح وقت کیا ہے) جس طرح کھانا کھانے سے پہلے پلیٹ کو ہم صاف کرتے ہیں اسی طرح ہمیں ہر صبح کچھ بھی کھانے سے پہلے اپنے پیٹ کی صفائی ضرور کرنی چاہیے جس کے لئے پانی سے بہتر اور کچھ بھی نہیں۔۔۔ صبح خالی پیٹ پانی پینےسے رات سوتے وقت پیٹ میں بننے والے زہریلے ذرات کی کافی حد تک صفائی ہوجاتی ہے لیکن جو لوگ خالی پیٹ پانی پیے بغیر ہی کچھ کھاتے یا پیتے ہیں۔۔۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے جوٹھی پلیٹ کو صاف کیے بغیر ہی اُس میں کھانا کھا لینا، اس لیے صبح خالی پیٹ ایک سے دو گلاس پانی پینا چاہیے اور کھانا کھانے سے 45منٹ پہلے اور ایک گھنٹہ بعد ایک گلاس پانی ضرور پینا چاہیے اور اسی طرح رات کے وقت پانی کم مقدار میں پینا چاہیے اور رات کے کھانے کے دو گھنٹے بعد پانی کی جگہ دودھ کا استعمال کرنا چاہیے اور اس میں موجودٹرپٹو فین نامی امینو ایسڈ دماغ کو سکون دے کر اچھی نیند دلانے میں بہت مدد کرتا ہے۔ دن میں جب میں پانی پئیں تو دو بار پانی پینے کے درمیان تقریبا ایک گھنٹے کا وقفہ ضرور رکھیں، تاکہ دن میں ڈھائی سے تین لیٹر پانی پورا کیا جا سکے اور اگر آپ دھوپ سے ہو کر آتے ہیں،رننگ یا ایکسرسائز کرتے ہیں تو اس دوران پانی بالکل نہ پئیں کیونکہ اس وقت ہمارے جسم کا ٹمپریچر ہائی رہتا ہے اس لیے اس وقت زیادہ مقدار میں پانی پینے سے ہمارے جسم کو فائدہ کی بجائے نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے ایکسرسائز کے دوران زیادہ سے زیادہ دو سے تین گھونٹ پانی پینا چاہئے، ایکسر سائز ختم کرنے کے آدھے سے ایک گھنٹے بعد آپ گلاس بھر کر پانی پی سکتے ہیں لیکن ایکسرسائز کے دوران تھوڑی ، تھوڑی مقدار میں پانی پینا چاہیئے، پانی کے اس طرح استعمال کرنے سےہماری صحت سے جڑے مسائل کافی حد تک ٹھیک ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ہمارا پیٹ بھی ٹھیک رہتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں وزن بڑھانے اور گھٹانے میں بہت مدد ملتی ہے کیونکہ جب تک کسی شخص کا پیٹ ٹھیک نہ ہو تب تک وزن کا بڑھانا یا گھٹا ناممکن نہیں ہے ۔۔۔پانی پینے کے اس طریقے کو اپنانے کے کچھ ہی ہفتوں بعد آپ کو اپنی صحت میں انشا ء اللہ بہت ہی اچھا فرق محسوس ہونے لگے گا۔