November 2022
no image

معجون طلائی زعفران والابنانے طریقہ اورمعجون طلائی زعفران کے فوائد

اس معجون سے درج زیل فوائد ملیں گے پسں سیلز کی کمی ، ٹائمنگ کا نہ ہونا ، شادی سے ڈرنا ، سپرم کاؤنٹ کا کم ہونا ، ڈیڈ سیلز کا آنا ،سپرم کی کمی،بے اولادی، شہوت کا کم آنا ، تناؤ کا کم ہونا ، بيوی کو مطمئن نہ کر پانا ،ان سب امراض میں فائدہ ہو گا۔ جوانی کی واپسی ، طاقت کو بڑھانے اور فٹنس قائم رکھنے کے متلاشی حضرات کیلئے بہترین معجون ہے۔اس معجون کا سب سے بڑافائدہ یہ ہے کہ یہ عام جسمانی واعصابی اور مردانہ کمزوری کو جڑ سے ختم کرتا ہے،عضو مخصوص کی لاغری ،ڈھیلا پن ، یہ معجون شہوت کی کمی کو دور کرتاہے ، یہ معجون انتشار کو بڑھاتا ہے، یہ معجون نفس کا ڈھیلا پن ختم کرتا ہے، یہ معجون قبل از وقت انزال کے ساتھ جنسی و جسمانی کمزوری میں فائدہ مند ہے اور اس کے ساتھ آپ کے جسم کو چست اور توانا رکھتا ہے،۔
امساک بے تحاشہ پیدا کرتا ہے، شوگر کی وجہ سے ہونے والی پٹھوں کی کمزوری اور قوت باہ کی کمی دور کرتا ہے ،
جسم سے سستی و نقاہت اور تھکاوٹ کا خاتمہ کرتا ہے،یہ نسخہ بالکل ناکارہ مردوں کے لئے آب حیات کا کام کرتا ہے، ہر قسم کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمزوریوں کو رفع کرتاہے،مشت زنی اور کثرت جماع کی وجہ سے ہونے والی نامردی کا مکمل علاج ہے ،یہ نسخہ خون اور مادہ تولید کی پیدائش کو بڑھاتاہے،قوت باہ کے بڑھانے کےلئے مجرب ہےاس کے استعمال سے جلد بڑھاپا نہیں آئے گا اور جوانی قائم رہے گی،نظر مضبوط ہوگی ،دماغی اور اعصابی کمزوری ختم ہوجائے گی،گھٹنے و جوڑ جسم کے تمام پٹھے اور دل و دماغ طاقت ورہوجائیں گے۔،جوانی کی غلط کاریوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تمام نقائص اور کمزوریوں کا بہترین شافی علاج ہے، اعضائے رئیسہ و شریفہ کے تمام افعال درست اور طاقتور ہو جاتے ہیں ،مادہ تو لید کی پیدائش بڑھ جاتی ہے اور پتلا پن اور رقت دور ہوجاتی ہے۔
اگر  یہ معجون استعمال شروع کرنے سے پہلے مریض اللہ سے خالص نیت سے توبہ کرکے مکمل یقین و اعتماد کے ساتھ خمیرہ کو باقاعدہ پرہیز کے ساتھ استعمال جاری رکھے تو بہت جلد جوانی کے ولولے اور قوت و طاقت کے جذبات اپنےاندرنئے سرے سے موجود پاتا ہےتقویت گردہ و مثانہ کے لیے انتیائی اعلی ہے۔
اپنا کھانا پینا اور لائف سٹائل قدرت کے بنیادی اصولوں کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں تو اس سے دل و دماغ کی کمزوری دور کرتی ہے،سپرمز کی تعداد میں اضافہ کرتی ہے،افزائش منی بکثرت کرتی ہے،بدن کو فربہ اور چہرے کو نکھارتی ہے،قوت باہ از حد پیدا کرتی ہے،تھکن سستی کاہلی ختم کرکے جسم میں نئی جان پیدا کرتی ہے، طاقت و شباب اور قوت مردانگی میں بہت فائدہ مند ہے۔

معجون طلائی اصلی زعفران والاکے نسخہ کے اجزاء

آپ یہ معجون خود بھی تیار کر سکتے ہیں مگر یہ خیال رکھیں کہ پنساری آپ کو خالص اجزاء دے بے ایمانی اور دو نمبری نہ کرے کیونکہ چیزیں جتنی خالص اصلی ہوںگی اس کا رزلٹ اتنا ہی زبردست ہوگا۔
زعفران ایرانی دس گرام
ثعلب مصری تیس گرام
ثعلب پنجہ تیس گرام
مغز پنبہ دانہ دس گرام
جنسنگ کوریا سرخ دس گرام
ریگ ماہی دس گرام
موصلی سفید دس گرام
جندبیدستر دس گرام
ستاور دس گرام
بیج بند دس گرام
الائچی دس گرام
کاجو تیس گرام
شقاقل مصری دس گرام
مغز تمر ہندی دس گرام
بہمن سرخ دس گرام
کمرکس دس گرام
بہمن سفید دس گرام
اسگند ناگوری دس گرام
ورق سونا پچاس عدد
کونچ کے بیج دس گرام مدبر شدہ
مغز پستہ بیس گرام
مغز بادام بیس گرام
برہمی بوٹی تیس گرام
تالمکھانہ دس گرام
اسبغول کا چھلکا دس گرام
کوزہ مصری پندرہ تولہ
سونٹھ تیس گرام
ورق نقرہ پچاس عدد
خالص بیری والا جنگلی شہد
خالص شہد چھوٹی مکھی بیری کا ہو جائے تو بہت بہتر ہے تمام ادویہ سے تین گنا لینا ہے۔

معجون بنانے کا طریقہ

تمام ادویہ کو ہاون دستے سے باریک کر کےسفوف بنا لیں اور شہد ملا کر معجون بنا لیں۔
معجون کھانے کا طریقہ
ایک چمچ صبح اور ایک چمچ شام کھانے سے پہلے ایک گلاس نیم گرم دودھ کے ہمراہ استعمال کریں۔
نوٹ۔۔ غیر شادی شدہ افراد یہ نسخہ استعمال نہ کریں ورنہ طاقت برداشت سے باہر ہو کر گناہ پہ مجبور ہو جائین گے۔
اگر یہ معجون آپ تیار نہیں کرسکتے تو ہم سے تیار شدہ بھی منگوا سکتے ہیں۔

رابطہ نمبر
00923046539899
00923216486707

no image

قوت باہ میں کمی کی وجہ قوت باہ بڑھانے کا طریقہ

قوت باہ کی کمی کی وجوہات

قوت باہ کی کمی کی مندرجہ ذیل وجوہات ہوتی ہیں۔
جماع کی کثرت یا،کثرت احتلام ، مشت زنی، اغلام بازی سے قوت باہ میں خاصی کمی واقع ہو جاتی ہے۔
دل ، دماغ ،جگر وغیرہ کے کمزور ہو جانے سے ،معدہ، گردوں کے ضعیف ہو جانے سے قوت باہ میں کمی آ جاتی ہے
،ڈپریشن ذہنی دباؤ کا بھی قوت باہ کی کمی پر اثر انداز ہوتا ہے اور ذہنی دباؤ غم و غصہ اور ڈپریشن قوت باہ کی کمی کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ہے،بعض اوقات غلط ادویات کے استعمال سے قوت باہ میں کمی آ جاتی ہے۔ ان ادویات میں بلڈ پریشر کی ادویات، اینٹی ہسٹامین، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی ادویات شامل ہیں۔اکثر قوت باہ میں کمی کی بڑی وجہ عضو خاص میں کسی پیدائشی نقص یا بیماری کی وجہ سے ہوتی ہے۔منشیات کا بہت زیادہ استعمال قوت باہ کی کمی کا باعث بنتا ہے نشے سے دل اور دماغ کی صحت متاثر ہوتی ہے جب دل اعضاء کو خون مناسب مقدار میں فراہم نہیں کر پاتا تو قوت باہ کی کمی کا ہونا یقینی بات ہے۔فحش فلموں میں دکھائے جانے والے غیر فطری ، غیر حقیقی مناظر آج کل کے نوجوانوں کے ذہن میں احساس کمتری اور کمزوری کا احساس پیدا کرتے ہیں جو ان کو دماغی طور پر مفلوج کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے قوت باہ کی کمی ہو جاتے ہے۔قوت باہ کی کمی کی بڑی وجہ مردوں میں مشت زنی ہوتی ہےمشت زنی کرنے والے افراد اپنے ہی ہاتھوںاپنی قوت باہ کو ختم کر دیتے ہیں ۔

قوت باہ کی کمی کو دور کرنے والےنسخہ کے فوائد

قوت باہ کی کمی کے لیئے آج جو نسخہ بتانے لگا ہوں وہ بہت ہی زیادہ فائدہ مند اور و خوبیوں کا حامل ہے یہ نسخہ مادہ منویہ کی پیدائش کو بڑھاتا ہے اور مادہ منویہ کو گوند کی طرح بے حد گاڑھا کرتا ہے۔ جس سے عضو خاص میں سختی اور ٹائمنگ کے ساتھ ساتھ سپرم کی تعدادبھی بڑھتی ہے اور سپرم جاندار اور نقائص سے پاک بھی ہوجاتے ہیں۔یہ نسخہ نامرد کو مرد بناتا ہے،بے اولادحضرات اورسرعت انزال والوں کے لیے یہ نسخہ سونے اور ہیرے سے بڑھ کر قیمتی نسخہ ہے،کنوار پن کی غلط کاریوں سے ہونیوالے نقصانات کو بھرنے کے لیے ،معدہ جگر کی بحالی کے لیے،پیشاب سے پہلے یا بعد میں قطروں کا آنا ،ایک بار جماع کے بعد دوبارہ جلدی شہوت کا نہ آنا،یہ نسخہ عضو خاص کو بہت زیادہ طاقت ور بنانے کے ساتھ کمزور مرد کو بھی دوسری شادی کے قابل بناتا ہے۔

پالک کا مزاج اور پالک کے طبی فوائد

آلو کا طبی مزاج اور اس کے فوائد

پیاز کے چھلکوں کے فوائد

قوت باہ کی کمی کو دور کرنے والےنسخہ کے اجزاء

ہوالشافی
سنگھاڑ خشک 50 گرام ، ستاور 50 گرام ، اسگند ناگوری 50 گرام،موصلی سفید 50 گرام، موصلی سیاہ 20 گرام ، کمرکس 20 گرام ، ثعلب مصری 20 گرام ،ثعلب پنجہ 20 گرام ، شقاقل مصری 20 گرام ، پنپہ دانہ 20 گرام ، لاجونتی 20 گرام ، تالمکھانہ 20 گرام ، طباشیر 20 گرام ، اندر جو شیریں ، گوند کتیرا 20 گرام ، گوند ببول 20 گرام ، بہمن سفید 20 گرام ، عقرقرحا 20 گرام ، ریگ ماہی 20 گرام ، سونٹھ 30 گرام ، قابلی مصری 50 گرام ، مصری آدھا کلوچھلکا اسپغول آدھ پاو۔

قوت باہ کی کمی کو دور کرے والےنسخہ کو بنانے کا طریقہ

چھلکا اسپغول اور جوہر خصیہ کو تمام ادویہ سے الگ کر لیں اور باقی تمام اشیاء کو گرائینڈر میں پیس کرکپڑ چھان کر لیں اور اس میں چھلکا اسپغول اور جوہر خصیہ ملا لیں شوگر کے مریض مصری نہ ڈالیں۔

قوت باہ کی کمی کو دور کرنے والےنسخہ کوکھانے کا طریقہ

ایک چمچ نہار منہ یعنی کھانے سے ایک گھنٹہ پہلے آدھا کلو دودھ کے ساتھ اور رات کو کھانے سے دو گھنٹے پہلے ایک چمچ آدھاکلو دودھ کے ساتھ ۔

no image

ٹماٹر کا مزاج ٹماٹر کے فائدے

ٹماٹر کا تعارف

ٹماٹر جو کہ اصل میں پھل ہے سبزی نہیں ہے، اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتا ہے سچ تو یہ ہے کہ یہ کئی غذائیت بخش پروڈکٹس کا حصہ ہیں اور ٹماٹر کو کئی طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے اس لیے اس کو دستر خوان سے دور رکھنے کی کوئی وجہ بھی نظر نہیں آتی، ٹماٹر کھانے کا سب سے بڑا فائدہ اس میں موجود لائکوپین ہے۔ٹماٹر ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو کہ سرطان کے سیل کو بننے سے روکتا ہے اور انسانی صحت کو درپیش مسائل اور بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے، انسانی جسم میں موجود مضر صحت فری ریڈیکل سیل لائکوپین کے ساتھ جسم سے خارج ہو جاتے ہیں، ٹماٹرمیں بڑی مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹ اجزاء ہوتے ہیں اور بے شمار غذائیت بخش اجزاء سے بھی مالامال ہے،لائکوپین ایسا اینٹی آکسیڈنٹ نہیں ہے جو انسانی جسم میں خود پیدا ہوتا ہو بلکہ انسانی جسم اسے بیرونی ذرائع سے ہی حاصل کر سکتا ہے تاکہ جسم کا نظام ٹھیک طریقے سے چلتا رہے اکثر دیگر پھل اور سبزیوں میں بھی ضروری صحت بخش اجزاء ہوتے ہیں مگر لائکوپین کے معاملے میں جس قدر ٹماٹر مالامال ہے کوئی اور نہیں۔
ٹماٹر کو سب سے پہلے کیسے متعارف کروایا گیا اور قدیم و جدید طب میں اس کے کون کونسے بے مثال فوائد بتائے گئے ہیں وہ آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں ۔

عضو تناسل میں کمزوری کے اسباب اور عضو تناسل کی کمزوری کے علاج کا معجون

اسپغول سے مردانہ کمزوری کا علاج

ٹماٹر کے فوائد

ٹماٹر کا مزاج معتدل خشک ہوتا ہے ٹماٹر بھوک لگاتاہے، کھانے کو ہضم کرتاہے،ٹماٹر قبض کشا ہے ،ٹماٹر کا رس مرض کساح میں بہت مفید ہے۔خون کی کمی یرقان ،ورم گردہ ،ذیابیطس میں صبح نہارمنہ ایک بڑا سرخ ٹماٹر استعمال کردیناہزار دواؤں سے بہتر ہے،ٹماٹرکو استعمال سے قبل اچھی طرح دھولیاجائے ۔ٹماٹر کو ایک پاؤ سے زیادہ کھانا نقصان دہ ہے کیونکہ زیادہ ٹماٹر کھانے سے گردے میں پتھری بن جاتی ہے۔
ٹماٹر کے حوالے سے پوری دنیا میں متعدد تحقیقات کی جا چکی ہیں اور ابھی بھی کی جا رہی ہیں اور میڈیکل سائنس اس حوالے سے لوگوں کو بلاشبہ بہت کچھ بتا چکی ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ جو کچھ لوگوں تک پہنچایا جا چکا ہے اس سے کہیں زیادہ ٹماٹر کے فوائد ہیں اس پر تحقیق سے نہ صرف یہ پتہ چلا ہے کہ ٹماٹر سرطان، امراض قلب سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ کولیسٹرول کو بھی اعتدال میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اس میں شک نہیں کہ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ ٹماٹر کے صحت پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کو ہرگزرنے والے دن کے ساتھ دستاویزی شکل دی جارہی ہے اور ہرگزرنے والے دن کے ساتھ ہمیں اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ نیا ہی معلوم ہوتا ہے۔۔۔سرطان اور خاص کر پروسٹیٹ سرطان، رحم کا سرطان، آنتوں اور پیٹ کا سرطان، منہ اور غذائی نالی کا سرطان ان سب کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ ان کو روکنے اور ان کے خلاف مزاحمت پیش کرنے میں لائکوپین زبردست کردار ادا کرتا ہے، لائکوپین پہلے سے موجود سرطان کے خلیوں کو ختم کرتا ہے اور بعد میں پیدا ہونے والے خلیوں کو روک دیتا ہے، ٹماٹر کی اہمیت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہےکہ ٹماٹر کا جوس لائکوپین سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے روزانہ استعمال سے تمام فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جن کا تذکرہ پہلے کیا جا چکا ہے، اس کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص روازنہ ۴۵۰ ملی لیٹر ٹماٹر کا جوس پیے تو وہ ساری زندگی صحت مند رہ سکتا ہے لیکن ایک انتہائی اہم بات ذہن نشین کر لیں کہ لائکو پین کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہاں اس کے نقصانات بھی ہیں خاص کر حاملہ خواتین اور وہ خواتین جو بچوں کو دودھ پلا رہی ہیںان کو اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے، اس میں تیزابیت بہت زیادہ ہوتی ہے تو یہ سینے کی جلن کا سبب بھی بن سکتا ہے ، یو ایس ڈیپارٹمنٹ ہیلتھ اینڈ ہیومن کی تحقیق بتاتی ہے کہ گردوں کے مریضوں کو ٹماٹر سے پرہیز کرنی چاہیے ۔۔۔ اسی لیے ہم اکثر کہتے ہیں کہ کسی بھی چیز کو اپنی روٹین بنانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیا کریں تا کہ وہ آپ کی جسمانی کنڈیشن کو دیکھتے ہوئے آپ کو سجیسٹ کرے کہ آپ کو کیا کھانا چاہیے۔۔۔ یہ جتنی بھی تحقیقات ہوتی ہیں یہ سینکڑوں لوگوں پر اکٹھی کی جاتی ہیں اور ان کا مجموعی رزلٹ سامنے لایا جاتا ہے، اس لیے قدرت نے جو چیز بھی پیدا کی ہے وہ متعدد فوائد کے ساتھ چند نقصانات بھی رکھتی ہےتو اعتدال کا دامن نہ چھوڑیں اور مستقل روٹین بنانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔۔۔ اگرچہ ٹماٹر کو مختلف فارمز میں لگایا جاتا ہے اور اس کی شکل ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہے مگر غذائیت میں سب برابر ہوتے ہیں، جب ٹماٹر کی پروڈکٹس بناتے وقت حرارت کے عمل سے گزارا جاتا ہے تو لائکوپین میں کمی ہونے کی بجائے اور اضافہ ہوجاتا ہے، اگرچہ ٹماٹر کے انسانی صحت پر اثرات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا اور تحقیق بھی کی گئی ہے اس کے باوجود میڈیکل سائنس کمیونٹی کا یہی کہنا ہے کہ وہ اب بھی ٹماٹر کے سارے فوائد کے بارے میں جاننے میں ناکام رہے ہیں اور اس حوالے سے مسلسل تحقیق کی جارہی ہے،ٹماٹر اب تک پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں ان بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں زیادہ موثر ثابت ہوئے ہیں، جو بنی نوع انسان کی جان کو عموما لگی رہتی ہیں، بازار میں ٹماٹر کی بے شمار اقسام موجود ہیں اور ایسے میں اس کو استعمال کرکے صحت بخش فوائد حاصل کرنا اور بھی آسان ہو گیا ہے اگر آپ بھی اس سے سو فیصد مستفید ہونا چاہتے ہیں تو کسی ایسی جگہ کی تلاش کریں جہاں آپ خود اسے اُگاسکیں، اچھا ہو گا کہ آپ نامیاتی آرگینک ٹماٹر اُگائیں یہ ایک تفریحی عمل ہوگا آپ کو دھوپ کے ذریعے کچھ وٹامن ڈی بھی مل جائے گا اور ٹماٹر تو ہے ہی صحت بخش، ٹماٹر میں ایسے مرکب شامل ہیں جو سرطان، امراض قلب موتیا اور دیگر عارضہ میں نہ صرف بہت مفید ثابت ہوئے ہیں بلکہ ان کے خلاف سخت مزاحمت کرتے ہیں، ابتداء میں ٹماٹر کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کے استعمال سے دماغ کا بخار اور سرطان ہوجاتا ہے اور اسے صحت کے لیے خطرناک سمجھا گیا، مگر بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے ایک بھی بات درست نہیں ہے اور اس کے اثرات تو ان باتوں کے برعکس ہیں، سن1800میں امریکہ میں ٹماٹر استعمال نہیں کیا جاتا تھا، اس کی ابتداء ایسے ہوئی کہ اسی دہائی کے دوران نیوجرسی کا ایک شخص کرنل رابرٹ جونسن اسے بیرونِ مْلک سے امریکہ لے کر آیا چونکہ لوگ ٹماٹر سے خائف تھے لہذا اس نے اعلان کیا کہ وہ 26ستمبر 1820کو ٹماٹر کھانے کا عوام میں مظاہرہ کرے گا اس نے اپنے آبائی شہر سلیم میں سینکڑوں لوگوں کے سامنے مظاہرہ کیا اور ٹماٹر کی پوری ایک ٹوکری کھا گیا، لوگ اس انتظار میں تھے کہ بس یہ لڑھکنے ہی والاہے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور تب سے ٹماٹر امریکیوں کی غذا کا ایک اہم جزو بن گیا۔۔۔ٹماٹر میں وٹامن سی کی بھاری مقدار ہوتی ہے ایک انسان کو روزانہ جس قدر وٹامن چاہیے ہوتے ہیں۔۔۔ اس کا 40فی صد ٹماٹر سے حاصل ہو سکتا ہے، اس کے ذریعے وٹامن اے 15فی صد، پوٹاشیم 8فی صد اور 7فیصد آئرن خواتین کو ملتا ہے جبکہ مردوں کو اس سے دس فی صد آئرن ملتا ہے،ٹماٹر میں لائکو پین نامی لال رنگ کا یہ مرکب اینٹی اکسیڈنٹ ہوتا ہے اور فری ریڈیکل سیل کو نیوٹرلائز کرتا ہے جو انسانی سیل کو نقصان پہنچاتے ہیں، ابھی حال ہی میں ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ایک اور جانے پہچانے اینٹی آکسیڈنٹ بیٹا کروٹین کے مقابلے میں لائکوپین دوگنی قوت کا حامل ہے، ہارڈورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ جو شخص ہفتہ میں دس بار ٹماٹر کھاتا ہے اس میں سرطان کے امکانات 45فی صد کم ہو جاتے ہیں، تاہم اس کے فوائد صرف پروسٹیٹ کینسر تک ہی ہیں، اٹلی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو شخص روزانہ ٹماٹر بطور سلاد کھاتا ہے اس میں آنتوں اور پیٹ میں سرطان ہونے کے خطرات میں 60فی صد کمی آجاتی ہے،ایک اور تحقیق کے مطابق لائکوپین پھیپھڑے، چھاتی اور رحم کے سرطان کے خلاف سخت مزاحمت پیش کرتا ہے،یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لائکوپین کی وجہ سے بزرگ لوگ زیادہ عرصہ تک سرگرم رہ سکتے ہیںاور اسی جادوئی مادے کی وجہ سے ٹماٹر کا رنگ چمکدار سرخ ہوتا ہے،ٹماٹر میں موجود وٹامن بی بلڈپریشر اور کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھنے میں معاون ہوتا ہےاس کے نتیجے میں یہ فالج ، دل کے دورے اور دیگر خطرناک مسائل سے بچاتا ہے۔۔۔ٹماٹر میں موجود وٹامن اے آپ کے بالوں کے لیے مفید ہے جو بالوں کو مضبوط اور چمک دار رکھتا ہے، اس کے علاوہ یہ آنکھوں ، دانتوں ، جلد اور ہڈیوں کے لیے بھی مفید ہے، ٹماٹر میں موجود وٹامن اے نظر کو درست رکھنے میں مدد کرتا ہے،ٹماٹر میں معدن کرومیم بھی خاصی مقدار میں ہوتا ہے جو کہ شوگر کے مریضوں میں بلڈشوگرکو کنٹرول میں رکھتا ہے،ٹماٹر سگریٹ نوشی سے ہونے والے نقصان کو بھی کم کرتا ہے،ٹماٹر کو بیجوں کے بغیر کھایا جائے تو یہ پتے اور گردے کی پتھری کے خطرے کو کم کرتا ہے،ٹماٹر جلد کے لیے بھی مفید ہے کیونکہ اس میں موجود لائسوپین نامی مادہ جلد کی حفاظت کرتا ہے،اس سلسلے میں ٹماٹر کے استعمال کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دس بارہ ٹماٹروں کا چھلکا اتاریں اور چھلکے کو اپنے چہرے یا کسی بھی حصے کی جلد پر بچھادیں اور دس منٹ تک بچھا رہنے دیں،اس کے بعد اس کو دھودیں،آپ کی جلد پہلے سے زیادہ تروتارہ اور چمک دار ہوجائے گی،ٹماٹر کو پکانے سے زیادہ تر وٹامن سی ضائع ہوجاتی ہے اس لیے ٹماٹروں کو کچا کھانا زیادہ فائدہ دیتا ہے۔۔۔تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ٹماٹر میں موجود لائسوپین مردوں میں غدودوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے، اس کے علاوہ یہ معدے اور آنتوں کے کینسر سے بھی بچاتا ہےلائسوپین ایک ایسا قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو کینسر کے خلیات کی افزائش کو روکتا ہے،مزے کی بات یہ ہے کہ پکا ہوا ٹماٹر کچے ٹماٹر کے مقابلے میں زیادہ لائسوپین پیدا کرتا ہے اس لیے ٹماٹر کا سوپ پینا صحت کےلئے نہایت فائدے مند ہے،ٹماٹر میں وٹامن کے اور کیلشیم بھی خاصی مقدار میں پایا جاتا ہے جو کہ ہڈیوں اور ہڈیوں کے ٹشوز کے لیے مفید ہوتا ہے۔