October 2022
no image

لنگڑی کا درد۔شیاٹیکا۔عرق النّساء

یہ درد پیڑو کے بڑے عصب یا میں ہوتا ہے جس کو انگریزی میں شیاٹیکا کہتے ہیں۔ یہ درد سرین کے نیچے سے لے کر بیرونی ٹخنے تک محسوس ہوا کرتا ہے یہ درد آہستہ آہستہ شروع ہو کر شدید ہوجاتا ہے اور گاہے بگاہے ایک دم شروع ہو جاتا ہے
کولہے کے نیچے جانگ کی پچھلی طرف سے یہ درد شروع ہوکر ٹانگ میں ہوتا ہوا گھٹنے کی پچھلی طرف سے ٹخنے تک جاتا ہے۔

شیاٹیکا کی تشخیصی علامات

مریض متاثرہ ٹانگ کو پھیلائے پھر اس کو پیٹ کی طرف لائے اورایسا کرنے سے سخت درد محسوس ہو
جب مریض کرسی پر ٹانگ نیچے لٹکائے بیٹھا ہو اگر گھٹنے کی پچھلی طرف گڑھا جو ہوتا ہے اس کو دبایا جائے تو مریض کو سخت درد محسوس ہوتا ہےمریض اکثر کھڑا ہونے کی حالت میں اپنے جسم کا بوجھ درد سے متاثرہ ٹانگ کی بجائے تندرست ٹانگ پر ڈالے گااور متاثرہ ٹانگ کو ڈھیلا رکھے گا اورپاؤں کے اگلے حصے پر وزن رکھے گااور ایڑی کو اونچا رکھے گاتاکہ درد والی ٹانگ کو کھچاوٹ نہ ہودرد والی ٹانگ میں کڑل پڑتے ہیں۔اس درد کا دورہ بہت شدید ہوتا ہے جب ایک ٹانگ میں درد رہ چکا ہو تو اسی ٹانگ میں دوبارہ ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے سخت قبض، نمی  والی جگہ پر مسلسل بیٹھنا یا سونا شیاٹیکاکے اسباب ہیں۔

تلبینہ نبوی غذا تلبینہ بنانے کا طریقہ اور تلبینہ کے فوائد
آم کھانے کے فائدے اور نقصانات
طبی طور پرایک وقت میں کتنا پانی پینا مناسب ہے

 شیاٹیکا کا ہومیو پیتھک علاج

اس کا علاج کسی ماہر ڈاکٹر سے کروا لینا زیادہ بہتر ہوتا ہے لیکن عام طور پر استعمال ہونے والی ادویات کے نام یہ ہیں۔
Gnaphallium
Arsenicum
Rhustox
Bryonia
Ledumpal
Ruta
Kali iodiod
Calchicum.
Pulsatilla
اگر مسئلہ سپائنل کارڈ میں محسوس ہو تونکس وامیکا دینی چاہیے۔

شیاٹیکاکے علاج کا دیسی نسخہ

نسخہ کو بنانے کے لیے مندرجہ ذیل اجزاء درکار ہیں۔
سورنجان شیرین۔پچاس گرام۔
ایلوایعنی مصبرپچاس گرام (ایلو ادراصل مصبر کو کہتے ہیں یہ پنسار سے باآسانی مل جاتا ہے)۔
گودا کوار گندل تازہ۔
شیاٹیکاکے علاج کا نسخہ بنانے کا طریقہ
دونوں اجزاء کو برابر وزن پیس کر پاؤڈر بنالیں۔ اس کے بعد کوار گندل کے گودے میں اس پاؤڈر کو اچھی طرح مکس کریں اورچنے کے برابر گولیاں بنالیں۔
شیاٹیکاکے علاج کا نسخہ استعمال کا طریقہ
روزانہ صبح و شام ایک ایک گولی کھانے کے آدھے گھنٹے بعد پانی سے کھائیں۔ پندرہ دنوں کے استعمال سے ناقابل یقین نتائج دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے۔
پرہیز
چاول۔ دہی ۔کھٹی چیزیں دوران علاج بالکل نہ کھائیں۔
ضروری ہدایات
جو دوائی کھانے والی دی جائے وہی دوا روغن زیتون میں ملا کر متاثرہ جگہ پر ملنی چاہیے مالش ہمیشہ گرم کمرے میں کرنی چاہیے تاکہ ٹھنڈی ہوا سے بچا رہے درد والی جگہ پر نرم کپڑےکا ٹکڑا رکھ کر اس پرہلکی گرم استری رکھنا فائدہ مند ہے۔ مریض کو مسالہ دار خوراک اور تیز پتی والی چائے سے پرہیز کروائیں اور سخت محنت سے منع کریں۔

no image

عضو تناسل میں کمزوری کے اسباب اور عضو تناسل کی کمزوری کے علاج کا معجون

اکثر حکماء کا خیال ہے عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کی بنیاد صرف نفسیاتی عوامل ہوتے ہیں لیکن یہ بات دُرست نہیں اگرچہ خیالات اور جذبات عضو تناسل میں تناؤ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تاہم تناہو پیدا نہ ہونے کا سبب جسمانی بھی ہو سکتا ہے مثلأٔ صحت کا کوئی پُرانامسئلہ یا ادویات کے ذیلی اثرات بہت سے عوامل کا مشترکہ اثر عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کے مسائل پیدا کرتا ہے۔

عضو تناسل میں کمزوری کے عام اسباب

دِل کے امراض ،شوگرموٹاپا،غذا کے ہضم ہونے اور اس کی جسم میں سپلائی کے مسائل ،ہائی بلڈ پریشر، خون کی نالیوں میں رُکاوٹ ہونا۔الکحل اور دِیگر منشّیات کا کثرت سے استعمال ،زیادہ تمباکو نوشی کرنا،ہارمونز کی بے قاعدگیاں مثلأٔ ٹیسٹو سٹیرون کی کمی،عضو تناسل کی ساخت کے اندر خرابی، قوت مدافعت اور اعصابی نظام کی کمزوری،بعض اوقات عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونا کسی اور مرض کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔
عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کےنفسیاتی اسباب
عضو تناسل میں تناؤ کے لیئے پیغام جاری کرنے میں دِماغ اہم کردار ادا کرتا ہے مثلأٔ جنسی جوش کےاحساسات دماغ میں ہی پیدا ہوتے ہیں اور اگر دماغ کمزور ہوتو یہ پیغام رسانی بھی کمزور ہو گی یہ کمزوری تناؤ نہ ہونے کی وجہ بن سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ تھکن،ذہنی دباؤ،تشویش، ڈپریشن اپنے ساتھی سے بہت کم بات کرنا یا اُس سے اختلافات ہونابھی نفساتی مسائل میں شامل ہیں۔

کلونجی سے مردانہ کمزوری کا علاج

بے اولادی کی وجوہات اور بے اولادی کا علاج

پیاز کے چھلکوں کے فوائد

عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کےجسمانی اسباب

عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کے نفسیاتی و جسمانی وجوہات ایک ساتھ مِل کر کام کرتی ہیں۔مثلا ایک معمولی جسمانی مسئلہ جنسی عمل کی رفتار کو سُست بنادیتا ہے اور اِس کے نتیجے میں تناؤ نہ ہونے کا مسئلہ پیدا ہو جاتاہے۔ مرض کےاصل سبب کو دور کیئے بغیر علاج ممکن نہیں ۔کئی دفعہ ایسا ھوا کہ ذہنی دباؤ ،ڈپریشن اور نفسیاتی عوامل کا علاج کیا تو صرف اس سے ہی جنسی کمزوری قوت باہ کی ادویات استعمال کیئے بغیر ٹھیک ہو گئی ۔اسی طرح بہت دفعہ معدہ اور نظام انہضام کا علاج کرنے سے احتلام اور جریان کو شفا مل گئی۔یہ بات بھی تجربہ میں آئی ہے کہ الکوحل اور تمباکو نوشی چھوڑنے والوں کا انتشار اور امساک خود بخود بڑھ گیا ۔اور یہ حقیقت ہے کہ ذیابیطیس کو قدرتی ادویات سے جب کنٹرول کر لیا گیا تو اس سے بھی جنسی کمزوری بھی دور ہوئی ۔ موٹاپا کے شکار لوگوں کی مردانہ کمزوری صرف وزن کم کرلینے سے دور ہوئی ۔ اللہ کے فضل و کرم سے میرے ہاتھوں بہت سے ایسے غم کے مارے مریض صحت یاب ہوئے جو کہتے تھے کہ ہم پر کوئی دوا اثر نہیں کرتی آج اللہ جلّہ شانہ کے کرم سے انتہائی سادہ اور قلیل دوا سےان کا علاج کیا اور وہ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔

عضو تناسل میں کمزوری کے علاج کا معجون

آج وہ چیز بتانے جارہا ہوں جو کہ میرےاور میرے خاندان کے کئی حکیموں کا ایک انتہائی کامیاب نسخہ ہے یہ ایک عام چیز ہے مگر مجھے میرے دادا جان حکیم اللہ دیہ سے ملا تھارات کو دس مریضوں کے لئے بنا رہا تھا سوچا آپ سب اس کے فائدے جاننے کے بعد انشاءاللہ سب اس کے استعمال پہ مجبور ہو جائیں گے۔نسخہ کو شیئر لازمی کرنا شکریہ۔
یہ نسخہ خالص مربعوں اور زعفران اور ورق چاندی کا خاص مجموعہ ہے۔
مربہ آملہ
بہت سے لوگوں کے چہروں پر بڑھاپے کے ساتھ جھریاں رونما ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔اس میں بڑھاپے کے اثرات کو روکنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ مربہ آملہ وٹامن ای اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے آپ کی جلد کو وٹامن ای کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو کولجین کی مقدار کو جسم میں برقرار رکھتی ہے وٹامن ای آپ کی جلد کو لچکدار اور جوان رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ آملہ کے استعمال سے جسم جوان اور توانا رہتا ہے۔کیلشیم ہماری مجموعی صحت کے لئے مفید ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آملہ کا استعمال کیلشیم کے جذب کرنے کے عمل کو بڑھاتا ہے۔ یہ ہمارے بالوں ،ناخنوں، ہڈیوں اور دانتوں کے صحت کے لئے اچھا ہے۔ اگر آپ آملہ کے مربہ کا استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کے بالوں کی صحت کو فروغ دیتا ہے
مربہ سیب
دماغ کی کمزوری کو دور کرنے کیلئے سیب کا مربہ کھانا بہت ضروری ہوتا ہے اس سے خون کی کمی بھی دور ہوتی ہے۔ اعصابی کمزوری دور ہوتی ہے۔ہر سال دل کی خرابی کی وجہ سے بہت سے لوگ اس دنیا سے جاتے ہیں۔ آپ کے خون کی گردش آپ کی مجموعی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ جب آپ مربہ کا استعمال کرتے ہیں تو آپ اپنے دل کی صحت کے ساتھ مجموعی صحت کو بھی بہتر بناسکتے ہیں۔ یہ کارڈیک صحت کے لئے بھی جانا جاتا ہے۔
مربہ گاجر
جگر کے سدے کھولتی ہے اور جسم کو طاقت بخشنے میں لاثانی ہے۔ مادۂ تولید کو گاڑھا کرتی اور اس سے پیشاب کھل کر آتا ہے۔ گاجر کا مربہّ سونے یا چاندی کے ورق کے ساتھ کھانابے حد فرحت بخشتا ہے۔ دل ،دماغ اور قوت مردی کو طاقت دینے میں بے مثال ہے۔
مربہ ہڑیڑ
معدہ اور قبض سے مایوس کن افراد کی آخری کرن ہےعورتوں کو ماہواری میں تکلیف کا سامنا رہتا ہے اور کمر درد مرد اور عورتوں میں عام سی بات ہےاس کو بھی فائدہ دیتی ہے جوڑوں پٹھوں کو زبردست قسم کے فائدے دیتی ہے۔
یہ نسخہ مردانہ طاقت کا حیران کن خزانہ ہے زیادہ نہیں لکھوں گا سمجھنے والے سمجھ جائیں گے اس میں شامل ہر اجزاءکے فائدے تفصیل کے ساتھ لکھ دئیے ہیں اور اسکا کوئی نقصان نہیں ہے۔
معجون بنانے کے لیئے اجزاء
سیب ، آملہ ، گاجر ، سبز ہڑڑ ، ورق چاندی ، پستہ ، اخروٹ ہر ایک ایک پاو لے لیں۔ اور زعفران خالص صرف دس گرام لینی ہے۔
معجون بنانے کا طریقہ
تمام مربہ جات اور خشک میوجات کو اچھی طرح کوٹیں اور اچھی طرح رگڑائی کریں اور رگڑائی کرتے وقت زعفران آہستہ آہستہ ملاتے جائیں جب اچھی طرح یک جان ہو جائے تو شیشے کےمرتبان میں سنبھال لیں۔
معجون کھانے کا طریقہ
ایک چمچ معجون روزانہ نہار منہ ہمراہ نیم گرم دودھ استعمال کریں کم از کم چالیس یوم لازمی کھانا ہے۔
نوٹ
یہ نسخہ ایک تحفہ ہے استعما ل کرنے پر فائدہ ملے توحکیم عمران کمبوہ کو دعا میں یاد رکھیں اور میرے بز رگوں کو بھی دعاؤںمیں لازمی یاد رکھناشکریہ۔

no image

چاول کے پانی کے طبی فوائد

چاول کی تاریخ

دوستو! چاول پاکستانیوں کی پسندیدہ ڈش ہے جسے بچے اور بڑے سب شوق سے کھاتے ہیں، چاول کو ناصرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر کے دسترخوانوں کی زینت سمجھا جاتا ہے اور اس سے کئی اقسام کے پکوان بنائے جاتے ہیں، پہلی بار چاول چھے ہزار قبل از مسیح چین میں ایجاد ہوا ، چینیوں کے بعد سری لنکا اور انڈیا میں چاول کی کاشت کا سلسلہ شروع ہوا جو دیکھتے ہی دیکھتےیونان کے کئی علاقوں تک پھیلتا چلا گیا پھر جنوبی یورپ اور شمالی افریقہ کے کئی شہروں سے ہوتا ہوا تھائی لینڈ، انڈونیشیا اوراب دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، چاول کی ایجاد کا سارا دارومدار ”شنگ شان  نامی چینی ماہر کے سر جاتا ہے، جس نے چاول کے ایک چھوٹے سے چھلکے کو مٹی کے برتن کا سہارا لے کر مٹی میں دفن کیا اور پوری دنیا کو چاول جیسی نعمت سے متعارف کروایا، اب اس نے یہ چھلکا کہاں سے لیا اس بارے ابھی مکمل معلومات ہمیں نہیں مل سکیں ، اس ماہر کی دیکھا دیکھی 2500 قبل از مسیح شمالی برصغیر کے لوگوں نے بھی چاول کوخود اگانا شروع کردیا تو یوں چاول کی کاشت کا سلسلہ چلا نکلا اور پوری دنیا سے ہوتا ہوا پاکستانیوں کی مرغوب غذا کا درجہ حاصل کر گیا۔۔۔ یہ تو تھی چاول کی مختصر تاریخ اب آپکو بتاتے ہیں کہ چاول کا پانی کس قدر فائدہ مند ہے اور یہ ہمارے جسم کیساتھ کرتا کیا ہے آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں۔
دوستو! چاولوں کا پانی ہماری خوبصورتی بڑھانے اور برقرار رکھنے کے لیے کتنا زیادہ مفید ہےاور کتنا زیادہ اثر دار ہے، شاید یہ بات آج سے قبل آپ کے علم میں نہیں ہو گی کیونکہ چاولوں کا پانی بہت آسانی اور سستے میںبن جاتا ہے، اس لیے ہمیں اس چیز کی کوئی خاص قدر نہیں اور ہم اس کی افادیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ ہمیں جو چیز بھی سستی او ر بآسانی میسر ہو جائے ، ہم اس کی قدر نہیں کرتے، یقین مانیے چاولوں کا پانی بازار سے ملنے والے کسی بھی ٹونر ، کلینزر اور اینٹی ایجنگ کریم سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے اور چاولوں کا پانی تین قسم کی خصوصیات سے مالا مال ہوتا ہے، ایک یہ زبردست ٹونرہے، دوسرا یہ زبردست کلینزر ہے اور تیسرا یہ زبردست اینٹی ایجنگ ماسک کے طور پر بھی استعمال ہوسکتا ہے اور ان تینوں خصوصیات کی وجہ سے یہ بازار سے ملنے والی کسی بھی مصنوع سے زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ جو مصنوعات بازار میں دستیاب ہیں، ان کا کوئی نہ کوئی سائیڈ افیکٹ ضرور ہوتا ہے لیکن اس کے صرف فوائد ہی فوائد ہیں اور ابھی تک اس کا کوئی نقصان سامنے نہیں آیا ، الحمدللہ جس جس نے اس کا استعمال کیا مفید ہی پایا ہے، اگر آپ اس پوسٹ کو پڑھنے سے قبل  اسے آزما چکے ہیں تو کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

چنے کا مزاج افعال اور فائدے

کریلے کا مزاج اور کریلے کے طبی فائدے

کلونجی سے مردانہ کمزوری کا علاج

چاول کے پانی کے فوائد

چلیے اب اس کے فوائد پر نظر دوڑاتے ہیں، جن لوگوں کی جلد خراب ہے، جھریاں پڑی چکی ہیں، جلد ڈھیلی ہو رہی ہے یا ہو چکی ہے اور مختلف ادویات استعمال کر کے بھی ڈھیلا پن نہیں جا رہا تو چاولوں کے پانی کو ضرور استعمال کریں،جلد نا صرف ٹائٹ ہو جائے گی بلکہ جلد کی خرابی اور جھریوں سے بھی چھٹکارہ مل جائے گا، یاد رہے چاولوں کا پانی چاول ابال کر نہیں نکالنا بلکہ کچے چاول پانی میں بھگو دیں اور جب چاولوں کو نتھاریں تو اس پانی کو ضائع کرنے کی بجائے اس کو کسی مفید کام میں استعمال کریں، یہ پانی بنانے کا طریقہ بھی آپکو آگے چل کر بتاتے ہیں، اسی طرح جن لوگوں کی جلد رنگ برنگی ہو رہی ہے یعنی کہیں سے کالی اور کہیں سے سفید تو وہ بھی استعمال کریں ان شاء اللہ بہترین نتائج ملیں گے، اس کے علاوہ جن لوگوں کی جلد مختلف مسائل کا شکار ہو چکی ہے جیسےپنپل، دانے وغیرہ تو چاول کا پانی استعمال کریں یہ مسائل حل ہو جائیں گے اور بلیک ہیڈ یا وائٹ ہیڈ وغیرہ کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

چاول کا پانی بنانے کا طریقہ

اب یہ جان لیں کہ چاولوں کا یہ پانی بنایا کیسے جاتا ہے، آپ تقریبا آدھاکپ چاول لیں اور اس آدھا کپ چاولوں میں آدھےکپ سے کچھ زیادہ پانی شامل کر لیں، اس کوکم از کم دو سے چار گھنٹے تک بھگو کر رکھ دیں، اس سے ان چاولوںمیں موجود وٹامنز اور منرلز پانی میں شامل ہو جائیں گے، دو گھنٹے بعد اس پانی کو نتھار لیں اور چاول پکا کر استعمال کر لیں یا کسی بھی استعمال میں لاسکتے ہیں، اب چاولوں کے اس پانی کو ایک بوتل میں ڈال کر رکھ لیں، یہ پانی آپ ۵ سے ۶ دن تک فریج میں رکھ سکتے ہیں، اس پانی کو آپ چہرے، گردن، ہاتھوں اور پیروںپر استعمال کرسکتےہیں چلیے اب آپ کو چاول کے پانی کے استعمال کرنے کا طریقہ اور شاندار فوائد سے آگاہ کرتے ہیں۔

ہارمونز میں خرابی کا علاج

دوستو! ہارمونز میں خرابی کی وجہ سے چہرے پر کیل مہاسوں کا نکلنا آج کل ایک عام بیماری ہے جس میں نوجوان بڑی تعداد میں مبتلا نظر آتے ہیں اور پھراس بیماری سے چھٹکارے کے لیے مہنگی ادویات وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں، جن میں ایسے کیمیکلز بھی استعما ل ہوتے ہیں، جو فائد ہ دینے کی بجائے اُلٹا نقصان پہنچاتے ہیں، چاول کا پانی کیل مہاسوں کے خاتمے کے لیے ایک قُدرتی دوا ہے جو جلد کے مساموں کو ٹائٹ کر کے کیل مہاسوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے مہاسوں کے خاتمے کے لیے پہلے فرج میں رکھ کر ٹھنڈا کر لیں اور پھر کسی روئی کیساتھ کیل مہاسوں پر لگائیں بہترین نتائج ملیں گے، طبی ماہرین کی ایک ریسرچ کے مطابق ایسے افراد جو جلد کی سوزش کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں، ان کے لیے چاول کے پانی سے روزانہ دودفعہ نہانا انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، اس کیلئے آپکو کو چاولوں کا پانی کافی مقدار میں چاہیے ہو گا۔

چاول کے پانی سے رنگ صاف کریں

اسی طرح چاول کے پانی میں ایسے وٹامنز اور منرلز شامل ہوتے ہیں جو چہرے کے مُردہ سلز کو زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور رنگت کو صاف کرنے میں انتہائی مددگار ہوتے ہیں، چاول کے پانی سے چہرے کے فیشل کے لیے روئی کو چاول کے پانی میں بھگو کر اس سے 2منٹ تک چہرے کے صفائی کریں اور پھر چہرے کو ہوا سے خشک ہونے دیں یہ جلد کو بہترین صفائی دینے کے ساتھ نرم اور ٹون کردے گا۔

چاول کے پانی سے بال مضبوط کریں

اسی طرح بالوں کی بہترین نشوونما کے لیے اسے استعمال کیا جاتا ہے، چاولوں کا پانی جڑے ہوئے بالوں کو کھول دیتا ہے اور بالوں کی لچک کو بحال کر کے انہیں خوبصورت اور چمکدار بناتا ہے، بالوں میں شمپو کرنے کے بعد ان میں چاول کا پانی لگائیں، یہ جہاں خوبصورت شائن دے گا وہیں بالوں کو تندرست توانا اور لمبا کرنے میں آپ کا مددگار ہوگا انٹرنیشل جنرل آف کاسمیٹک سائنس میں ہونے والی ایک ریسرچ کے نتائج کے مطابق چاول کے پانی سے بال کی جڑوں کی فریکشن کم ہوتی ہےاور یہ سر پر بالوں کی تعداد بڑھاتا ہے، اس کے علاوہ یہ بہترین کنڈیشنر ہے، چاول کے پانی میں روز میری یا لیوینڈر کا تیل ڈال کر اور اگر یہ تیل میسر نہ ہوں تو سرسوں وغیرہ کا تیل استعمال کر لیں، بالوں میں لگائیں اور 10منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر بالوں کو سادے پانی سے دھو لیں چاولوں میں موجود امائنو ایسڈ جہاں بالوں کو گھنا اور چمکدار بنائیں گے، وہیں یہ سر کی جلد کا پی ایچ لیول ٹھیک کریں گے کیونکہ اس میں کوئی کیمیکل شامل نہیں ہوتا۔

چاول کے پانی سے جلد کی حفاظت کریں

اس کے علاوہ یہ ایگزائما کے خاتمے کے لیے مفید ہے،ایگزائما ایک جلد کی بیماری ہے جس میں جلد سُرخ ہوجاتی ہے، جلد پر خارش ہوتی ہے اور خشکی پیدا ہوتی ہے، بیوٹی ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ چاول کے پانی میں کپڑے کو بھگو کر اسے متاثرہ حصے پر تھوڑی دیر لگا دیں اور کُچھ دیر لگا رہنے دیں پھر کپڑے کو ہٹا کر جلد کو ہوا میں خُشک ہونے دیں اس سے ایگزائما میں کافی افاقہ ہوگا، اس کے علاوہ چاول کا پانی جلد کو صاف اورچمکدار بنانے کے لیے بھی فائدہ مند ہے، بہت سے لوگ پُوچھتے ہیں کے کیا واقعی چاول کا پانی جسے ہم ضائع کر دیتے ہیں جلد کو چمکدار بنا سکتا ہے؟ اس بات کا جواب ہے جی ہاں کیونکہ جلد کو چمکدار بنانے کے لیے جو مہنگے کاسمیٹکس وغیرہ آپ خریدتے ہیں جیسے سکن لوشن، صابن، فیس ٹونر وغیرہ اُن میں سے کئی میں تو استعمال ہی چاولوں کا پانی ہوتا ہے، چاول کے پانی میں روئی ڈبو کر اس سے چہرے کو صاف کریں اور پھر چہرے کو خُشک ہونے دیں اور پھر ٹھنڈے پانی سے چہرے دھو لیں، آپ اس ٹوٹکے کو روزانہ بھی استعمال کر سکتے ہیں اور ان شاء اللہ اسے انتہائی مفید پائیں گے۔

no image

پانی جسم کے لئے فائدہ مند یا نقصان دہ

ہم میں سے اکثر لوگ پانی کو اتنا عام سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم جب چاہیں جیسے چاہیں اور جتنی مقدار میں چاہیں پانی پی سکتے ہیں لیکن ہمارا ایسا سوچنا بالکل غلط ہے ،کیونکہ پانی دیکھنے میں جتنا عام سا لگتا ہے یہ ہمارے جسم کے تمام حصوں کو ٹھیک طرح سے کام کرنے اور جسم میں بننے والے زہریلے مادوں کو باہر نکالنے کے لئے اتنا ہی ضروری ہوتا ہے،پیٹ سے لے کر سکن تک اور وزن بڑھانے سے لے کر وزن گھٹانے تک پانی ایک بڑا رول پلے کرتا ہے ۔اس لئے پانی پینے کی صحیح مقدار ،پانی پینے کا صحیح وقت ،پانی پینے سے کیا کیا فائدے اور کیا کیا نقصان ہوتے ہیں اگر اس بارے میں معلوم نہ ہو تو پھر انسان چاہے جیسی اچھی سے اچھی غذا کیوں نا کھا لے تو اس کا صحیح فائدہ جسم کو مل ہی نہیں پاتا جس کی وجہ سے بہت سارے طبی مسائل کو فیس کرنا پڑتا ہے۔

جیساکہ بدنظمی، قبض، گیس، لیور کی کمزوری، سستی آنا ،گردے کی پتھری ،جسم میں اچھے بیکٹیریا کا کم ہو جانا، بار بار بیمار پڑنا، سکن الر جی، کھجلی، چہرے پر پمپلزاور داغ دھبےکا ہونا، وائٹ ہیڈز،بلیک ہیڈز، سکن کا بہت زیادہ آئلی یا بہت زیادہ ڈرائی ہوجانا، کھایاپیا جسم کو نالگنا، جوڑوں میں درد ہونا، جسم پر چربی کا جمنا، سر درد اور چکر آنا، وزن بڑھنے یا گھٹنے میں پریشانی محسوس کرنا، بالوں کا جھڑنا اور راتوں کو نیند نہ آنا ایسی کئی بیماریاں صرف پانی کو غلط مقدار میں اور غلط طریقے سے پینے سے ہوسکتی ہیں۔۔۔اس لئےآج کے اس مضمون میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ پانی ہمارے لئے اتنا ضروری کیوں ہے اور اس کا ہمارےجسم میں کیا کام ہوتا ہے ۔۔۔ایک دن میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کتنا پانی پیا جا سکتا ہے اگر جسم میں پانی کی کمی ہوجائے تو اسے کیسے پتہ لگایا جا سکتا ہے۔۔۔ ایک بار میں کتنے گلاس پانی پینا چاہیے اور کس طرح پینا چاہیے اور پانی کب کب پینا چاہئے اور کب کب نہیں پینا چاہیے یعنی پانی پینے کا صحیح ٹائم کیا ہےاورپانی کس طرح کا ہونا چاہیے، ٹھنڈا  گرم یا نارمل ہو اور پا نی وزن بڑھانے اور گھٹانے میں کس طرح سے مدد کرتا ہے۔

پیاز سے شوگر کا علاج

دبلے پتلے جسم کو موٹا اور وزن بڑھانے کا دیسی نسخہ

لیکوریا جیسی بیماری کا علاج گھر بیٹھ کر ممکن ہے

ہمارے جسم میں 60سے 70فیصد پانی ہوتا ہے اور ہمارے پئے گئے پانی کا استعمال ہمارے انٹرنل اورگن جیسا کہ گردے، لیور ،پھیپھڑے ، ہاضمہ کا نظام اور تقریبا جسم کے سبھی حصوں کو ٹھیک طرح سے کام کر نے اور سب سے زیادہ ہمارے جسم کوزندہ رکھنے میں ہوتا ہے۔۔۔ اب سوال یہ ہے کہ دن میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کتنا پانی پیا جاسکتا ہےاور اگر آپ کے جسم میں پانی کی کمی ہوگئی ہو تو اسے کس طرح سے پتہ لگایا جا سکتاہے۔۔۔ جسم میں پانی کی کمی ہوتے ہی پیشاب کا رنگ پیلا پڑ جاتا ہےہاضمہ کمزور ہوجاتاہے، چہر ے کی سکن آہستہ آہستہ روکھی، بےجان اور ڈھیلی پڑجاتی ہے اور اگر شروع میں ہی پانی پینے کے صحیح طریقے پر دھیان نہ دیا جائے تو یہ سب بیماری کا روپ بھی لے سکتے ہیں۔۔۔اس لئے ہر دن ایک مقدار میں پانی کا پینا بہت ضروری ہوتا ہے۔

ایک وقت میں کتنا پانی پینا مناسب ہے

ایک بات جو بہت ضروری ہےکہ دن بھر میں کتنا پانی پینا چاہیے اور پانی کس طرح کا ہونا چاہیے یعنی گرم، ٹھنڈا یا پھر نارمل س کے لیے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ پانی میں کیا کیا ہوتا ہے اور یہ کون کون سی پرابلم میں فائدہ پہنچاتا ہے۔۔۔پانی میں زیرو کیرولیز ہونے کے باوجود یہ ہمارے جسم سے زہریلے مادوں کو باہر نکالنے میں بہت مدد کرتا ہے، سکن کو صاف کرتا ہے،دماغی طاقت،ہاضمہ ، آنکھ،ہڈی اور لگ بھگ جسم کے تمام حصوں کو ٹھیک طرح سے کام کرتے رہنے میں بہت مدد کرتا ہے اسلئے پانی ہمارے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے ، کچھ کھائےبغیر کوئی بھی شخص لمبےوقت تک رہ لے گا مگر پانی کے بغیر ایک دن بھی رہ پانابہت مشکل ہے کیونکہ پاخانہ، پسینہ، پیشاب اور سانس لینے کے پروسس میں لگ بھگ 2لیٹر پانی ہمارے جسم سے نکل جاتا ہے، جسے ری سٹور کرنا بہت ضروری ہوتا ہے،ویسے تو کسی بھی انسان کو دن بھر میں کتنا پانی پینا چاہیے یہ اس انسان کی صحت، و ہ جہاں رہتا ہے اس جگہ کا موسم ،اس کا وزن اور اس کی فزیکل ایکٹیویٹی پر ڈیپنیڈکرتا ہےلیکن ایک عا م شخص کو دن میں ڈھائی سے تین لیٹر پانی ضرور پینا چاہئے،جو کہ ایک ایورج سائز کے کلاس کے حساب سے 8 سے 12کلاس ہوتے ہیں اور گرمی کے موسم میں کیونکہ زیادہ پسینہ نکلتا ہے تو ایسی صورت میں پانی کی مقدار تھوڑی بڑھائی جاسکتی ہے اور جو لوگ ایکسرسائز کرتے ہیں انہیں بھی عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں پانی پینا چاہیے کیونکہ ان کے جسم میں پانی کا استعمال زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔۔۔ اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ضرورت سے زیادہ پانی پینے پر جسم کو کوئی نقصان بھی ہو سکتا ہے ،تو اس کا جواب بہت ہی سمپل ہے کہ کوئی بھی چیز بہت زیادہ مقدار میں نقصان دیتی ہے، زیادہ پانی پینے سے ہمارے گردے کا کام بڑھ جاتا ہے اور خون میں سوڈیم کے لیول کم ہونے کے چانسز بہت زیادہ رہتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کیونکہ اکثر لوگ اُتنا بھی پانی نہیں پیتے کہ جتنا پانی پینے کی ان میں طاقت ہوتی ہے اور ایسا نقصان تب ہوتا ہے جب کوئی شخص چار یا پانچ لیٹر سے بھی زیادہ پانی پی لے۔
اب آپ کو بتاتے ہیںکہ ایک نشست میں کتنا پانی پینا چاہیے اور کس طرح سے پینا چاہیے ! کچھ لوگوں کو اکثر ایسا لگتا ہے کہ پانی کو جب چاہیں جیسے چاہیں پیا جا سکتا ہے لیکن ایسا سوچنا بالکل بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ ایک طرح کے پانی کو الگ الگ طریقے پر پینے سے اس کاجسم پر الگ الگ طرح سے اثر ہوتا ہے اس لئے پانی ہمیشہ بیٹھ کر آہستہ آہستہ پینا چاہیے ،جیسا کہ پانی کو منہ میںرکھ کر چار سے پانچ سیکنڈ تک اِدھر اُدھر گھمائیں اور پھر نگل لیں،ایسا کرنے سے ہمارے منہ میں موجوذ رات ہمارے پیٹ میں جاکر پیٹ کی ایسڈی پراپٹیزکو بٹھا دیتا ہے، جس سے ہاضمہ اور بھی مضبوط ہونے لگتا ہے جبکہ کھڑے ہو کر جلدی جلدی پانی پینے سے ہمارے گُردے اسے ٹھیک طرح سے فیلٹر نہیں کر پاتے اور منہ سے ہٹا کر بوتل سے پانی پینے سے(یعنی بوتل کو الگ رکھ کر پانی میں انڈیل کر پینے سے) پانی کے ساتھ ساتھ باہر موجود بہت ساری گیس بھی ہمارے جسم میں داخل ہو جاتی ہے، جس سے جوڑوں کے درد ہونے کے چانسز بہت زیادہ رہتے ہیں، اسلئے پانی بیٹھ کر آہستہ آہستہ تین سانسوں میں پینا چاہیے اور ایک بار میں ایک یا ڈیڑھ گلاس یاجتنی پیاس ہو اتنا ہی پانی پینا چاہئے کیونکہ ایک ہی بار میںبہت زیادہ پانی پی لینے سے ہمارے گردے اسے ٹھیک طرح سےفلٹر نہیں کر پاتے اور پانی ہمارے جسم میں استعمال ہوئے بغیر ہی پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔

پانی ٹھنڈا پینا ہے یا گرم

اب اس طرف آتے ہیں کہ پانی گرم ،ٹھنڈا یا نارمل ہونا چاہیے۔۔۔دوستو!جب ہم بہت زیادہ ٹھنڈی یا گرم چیز کھاتے یا پیتے ہیں تو ہمارا جسم پہلے اسے گرم کرتا ہے اور پھر کام میں لیتا ہے، پانی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے، جب ہم فریج میں رکھا ٹھنڈا پانی پی لیتے ہیں تو وہ پہلے جسم میں گر م ہوتا ہے پھر کام میں آتا ہے اور جب تک یہ پراسس چلتا رہتا ہے، ہمارے جسم کو تب تک انتظار کرنا پڑتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ زیادہ ٹھنڈا پانی ہمارے کھائے گئے کھانے کو بہت سخت بنا دیتا ہے جس سے ہاضمہ بہت سلو(یعنی آہستہ ہو جاتا ہے) اور قبض ہونے کے چانسز بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں، اس لئے پانی ہمیشہ نارمل ہی پینا چاہیے کیونکہ ہلکے گرم پانی کو ہمارا جسم فورا کام میں لے آتا ہے اور ہماری کھائے گئے کھانے کو ہلکا گرم پانی توڑنے میں بھی بہت مدد کرتا ہے، جس سے ہاضمہ مضبوط ہوتا ہے اور پیٹ بھی کھل کر صاف ہوتا ہے۔
اب آپ کو بتاتے ہیںکہ پانی کب کب پینا چاہیے اور کب کب نہیں پینا چاہیے! دوستو! یہ ایسی باتیں ہیں جہاں اکثر لوگ غلطی کرتے ہیں اور پھر بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں ،پانی کب پینا چاہیے؟ اس سے زیادہ یہ جاننا ضروری ہے کہ پانی کب نہیں پینا چاہیے ،اسلئے پہلے ہم آپکو بتاتے ہیں کہ پانی کب نہیں پینا چاہیے اور اس کے بعد ہم آپ کو بتائیں گے کہ پانی کب پینا چاہئے۔

کھانا کھانے کے بعد پانی کا استعمال

ویسے تو کھانا کھاتے وقت پہلے یا بعد میں ایک یا دو گھونٹ پانی پینے میں کوئی برائی نہیں ہے، بلکہ کھانا کھانے سے پہلے ایک یا دو گھونٹ پانی پینے سے سوکھے کھا نے بھی گلے سے آسانی سے اترتے ہیں اورہچکی بھی نہیں آتی لیکن یہاں ایک یا دو گھونٹ کہنے کا مطلب ہے کہ گلا بھیگنے جتنا پانی پینا چاہیے لیکن کھانا کھانے کے دوران پہلے یا بعد میں گلاس بھر کر یا زیادہ مقدار میں پانی پینا بالکل بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ کھانا کھانے کے فورا بعد پانی پی لینے سے یہ ہمارے کھائے کھانے کو بہت تیزی سےپتلا بنا دیتا ہے اور ہمارے پیٹ میں ہاضمہ کے ذرات بھی نہیں نکل پاتے جس سے ہمارا ہاضمہ کمزور پڑ جاتا ہے ۔۔۔اسلئےہمیشہ کھانا کھانے کے 45منٹ یا ایک گھنٹے بعد ہی پانی پینا چاہیے۔

رات کو سونے پہلے یا رات کو اچانک آنکھ کھلنے پر پانی پی کر سو نا

دن میں پانی ہمارے لئے جتنا فائدہ مند ہوتا ہے اسی طرح رات کے وقت بہت زیادہ پانی پینا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ سوتے وقت ہمارا جسم ایکٹو نہیں رہتا ،جس سے پانی ہمارے جسم میں استعمال ہوئے بغیر ہی گردے میں فلٹر ہونے کےلئے چلا جاتا ہے، جہاں یہ ہمارے گردے کو بہت نقصان پہنچاتا ہے اور نیند سے اٹھ کر بار بار ٹائلٹ جانے کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے، جس سے دوبارہ نیند آنے کیلئے بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس لئے جتنا ہوسکے دن کے ٹائم میں ہی پانی کی روزانہ لمٹ کو پورا کرنا چاہیے اور ساتھ ہی دو بار پانی پینے کے بیچ 45منٹ سے ایک گھنٹےتک کا وقفہ ضرور ہونا چاہئے۔۔۔ کیونکہ جلدی پانی پینے سے پانی ہمارے جسم میں استعمال ہوئے بغیرہی پیشاب کے ذریعے باہر نکل جاتا ہے اور اس سے جلدی جلدی پیشاب آنے کی پرابلم بھی شروع ہو سکتی ہے اسلئے جب آپ کو لگے کہ آپ کا پیشاب پیلا نہیں ہے بلکہ پانی کی طرف بالکل صاف ہےتو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ فی الحال آپ کی باڈی کو پانی کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اس لیے پیشاب کرنے کے بعد بھی پانی پینے کے لیے پندرہ سے بیس منٹ کا وقفہ ضرور رکھیں، تاکہ ہمارے گردے کو ریسٹ لینے کے لئے تھوڑا موقع مل سکے، نہیں تو جلدی جلدی پانی پیتے رہنے سے بار بار پیشاب آنے اور پیشاب کو روک نہ پانے کی پرابلم شروع ہو سکتی ہیں۔

پھل اور کچی سبزی کھانے کے بعد

اکثر پھل اور ایسی سبزی جیسے کھیرااور ٹماٹر جیسی سبزی کو اگر آپ کچا کھاتے ہیں تو اس کے فورا بعد پانی بالکل بھی نہیں پینا چاہیے ، اسی طرح کیلا ،تربوز، انار،سنگترہ اور دوسرے پھل کھانے کے بعد بھی فورا پانی بالکل بھی نہیں پینا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے کھائی ہوئی چیز بہت سخت ہو جاتی ہے جس سے ہاضمہ کا نظام سست پڑ جاتا ہےاور کچھ لوگوں کو سردی زکام بھی ہو جاتا ہےساتھ ہی ساتھ بہت زیادہ گرم چیزیں ،جیسے چائے، کافی اور سوپ جیسی چیزوں کو پیتے ہی فورا پانی نہیں پینا چاہیئے کیونکہ ان چیزوں کوپینے کے بعد فورا پانی پینے سے دانتوں اور مسوڑوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

پانی کب کب پینا چاہئے

یعنی پانی پینے کاصحیح وقت کیا ہے) جس طرح کھانا کھانے سے پہلے پلیٹ کو ہم صاف کرتے ہیں اسی طرح ہمیں ہر صبح کچھ بھی کھانے سے پہلے اپنے پیٹ کی صفائی ضرور کرنی چاہیے جس کے لئے پانی سے بہتر اور کچھ بھی نہیں۔۔۔ صبح خالی پیٹ پانی پینےسے رات سوتے وقت پیٹ میں بننے والے زہریلے ذرات کی کافی حد تک صفائی ہوجاتی ہے لیکن جو لوگ خالی پیٹ پانی پیے بغیر ہی کچھ کھاتے یا پیتے ہیں۔۔۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے جوٹھی پلیٹ کو صاف کیے بغیر ہی اُس میں کھانا کھا لینا، اس لیے صبح خالی پیٹ ایک سے دو گلاس پانی پینا چاہیے اور کھانا کھانے سے 45منٹ پہلے اور ایک گھنٹہ بعد ایک گلاس پانی ضرور پینا چاہیے اور اسی طرح رات کے وقت پانی کم مقدار میں پینا چاہیے اور رات کے کھانے کے دو گھنٹے بعد پانی کی جگہ دودھ کا استعمال کرنا چاہیے اور اس میں موجودٹرپٹو فین نامی امینو ایسڈ دماغ کو سکون دے کر اچھی نیند دلانے میں بہت مدد کرتا ہے۔ دن میں جب میں پانی پئیں تو دو بار پانی پینے کے درمیان تقریبا ایک گھنٹے کا وقفہ ضرور رکھیں، تاکہ دن میں ڈھائی سے تین لیٹر پانی پورا کیا جا سکے اور اگر آپ دھوپ سے ہو کر آتے ہیں،رننگ یا ایکسرسائز کرتے ہیں تو اس دوران پانی بالکل نہ پئیں کیونکہ اس وقت ہمارے جسم کا ٹمپریچر ہائی رہتا ہے اس لیے اس وقت زیادہ مقدار میں پانی پینے سے ہمارے جسم کو فائدہ کی بجائے نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے ایکسرسائز کے دوران زیادہ سے زیادہ دو سے تین گھونٹ پانی پینا چاہئے، ایکسر سائز ختم کرنے کے آدھے سے ایک گھنٹے بعد آپ گلاس بھر کر پانی پی سکتے ہیں لیکن ایکسرسائز کے دوران تھوڑی ، تھوڑی مقدار میں پانی پینا چاہیئے، پانی کے اس طرح استعمال کرنے سےہماری صحت سے جڑے مسائل کافی حد تک ٹھیک ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ہمارا پیٹ بھی ٹھیک رہتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں وزن بڑھانے اور گھٹانے میں بہت مدد ملتی ہے کیونکہ جب تک کسی شخص کا پیٹ ٹھیک نہ ہو تب تک وزن کا بڑھانا یا گھٹا ناممکن نہیں ہے ۔۔۔پانی پینے کے اس طریقے کو اپنانے کے کچھ ہی ہفتوں بعد آپ کو اپنی صحت میں انشا ء اللہ بہت ہی اچھا فرق محسوس ہونے لگے گا۔

no image

پتھری گردہ و مثانہ اور پیشاب کی جلن اورپیشاب کی رکاوٹ کا علاج

گردے میں پتھری کی وجوہات

گردوں میں پتھری کی بہت ساری وجوہات ہیں
نمبرایک۔ پانی کم پینا
نمبر دو۔ خاندان میں اس کے مریضوں کی موجودگی
نمبر تین۔نمک اور کیلشیم والے کھانے زیادہ کھانا
نمبر چار۔موٹاپا
نمبر پانچ۔ذیابیطس
نمبر چھ۔پیٹ کے امراض اور سرجری وغیرہ کا ہونا

گردے کی پتھری کی علامات

نمبرایک۔ پسلیوں کے نیچے سائیڈ اور پیچھے کی جانب شدید درد۔نمبرایک۔ ایسا درد جو پیٹ سے نیچے جاتا ہوا محسوس ہو۔نمبرایک۔ ایسا درد جس کی لہریں اور ارتعاش شدت سے محسوس ہو۔نمبرایک۔ پیشاب کرتے وقت تکلیف کا ہونا۔
نمبرایک۔ پیشاب کا رنگ گلابی سرخ یا براؤن ہونا۔
نمبردو۔ بدبودار پیشاب
نمبرتین۔ بار بار پیشاب آنا۔
نمبرچار۔ عام معمول سے ہٹ کر پیشاب آنا۔
نمبرپانچ۔ بخار اور سردی لگنا۔
نمبرچھ۔ پیشاب کی مقدار کم ہوجانا پیشاب آتا تو بار بار ہے لیکن تکلیف سے اور تھوڑا تھوڑا آتا ہے ۔
نمبرسات۔ اتنا شدید درد ہونا جس کے باعث ساکت بیٹھنا یا کسی پوزیشن پر لیٹنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
نمبرآٹھ۔ ایسا درد جس کے ساتھ سر چکرائے اور الٹی ہو۔
نمبرنو۔ بخار اور سردی کے ساتھ گردوں کے مقام پر درد ہونا۔
نمبردس۔ پیشاب میں خون آنا۔
نمبرگیارہ۔ پیشاب کرنے میں مشکل کا سامنا۔

آم کھانے کے فائدے اور نقصانات

خوبانی کا مزاج اور اسکے فائدے

گردے کی پتھری کےعلاج کا نسخہ

ہوالشافی
سنگ سرماہی دس گرام
سوہاگہ بریاں دس گرام
پھٹکڑی سفید بریاں دس گرام
نمک ترب دس گرام
تخم ترب دس گرام
تخم خربوزہ دس گرام
بھکڑا دس گرام
دال کلتھی دس گرام
الائچی کلاں دس گرام
زیرہ سفید دس گرام
کباب چینی دس گرام
ریوند چینی دس گرام
جوکھار دس گرام
قلمی شورہ دس گرام
نوشادر دس گرام
کوزہ مصری پندرہ تولہ

ترکیب تیاری

تمام ادویہ کو پیس کر باریک سفوف بنا لیں تیار ہے۔

طریقہ استعمال

چھوٹا آدھا چائے والا چمچ صبح اور شام خالی پیٹ تازہ پانی یا دودھ کی کچی لسی یا عرق سونف کیساتھ پندرہ دن سے ایک ماہ، پانی و کچی لسی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں ان شاءاللہ بفضلہ تعالیٰ گردے مثانے کی پتھری چند یوم میں ریت بن کر بذریعہ پیشاب خارج ہو جائے گی۔

فوائد

پتھری گردہ و مثانہ۔گردے کا درد۔ سوزش مثانہ پیشاب کی رکاوٹ یا کھل کر نہ آنا کیلئے اکثیر الاثر اعلی دوا ہے۔

no image

تلبینہ کے فوائد

تلبینہ ایک انتہائی مرغوب اور لذیذ غذا جس کے فوائدسے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔
احادیث میں تلبینہ کو نبی پاک کی طرف سے ایک بیمار کے لئےروزانہ کی غذا کا حصہ بنانے کی ہدایات کے شواہد ملتے ہیں۔یہ مڈل ایسٹ میں کھائی جانے والی بہت ہی مرغوب غذا ہے۔ تلبینہ کھانے سے خون کی کمی دور ہو تی ہے ایک سے ڈیڑھ ما ہ استعما ل کرنے سے تلبینہ ہیموگلوبن کو جسم کی ضرورت کے مطابق بڑھاتا ہے۔
کمزور لوگوں کے لئے تلبینہ بہت مفید ہے اس کے روزانہ استعمال سے جسم کی کمزوری دور کرکے وزن میں اضافہ کرتا ہے۔تلبینہ کھاناپڑھنے والے بچوں کے لیے بہترین ہےتلبینہ جسم کو طاقتور بنانے کے ساتھ ذہن کو بھی تیز کرتا ہے۔ جو بچے اپنا سبق یاد کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں۔ تلبینہ کے استعمال سے ان کا حافظہ تیز ہو یہ غذا غم ۔ مایوسی۔ کمردرد۔بهوک کی کمی۔ وزن کی کمی۔کولیسٹرول کی زیادتی۔ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر لیول کے اضافہ۔امراض دل۔انتڑیوں ۔معدہ کے ورم ۔السرکینسر۔قوت مدافعت کی کمی۔جسمانی کمزوری ۔ذہنی امراض۔ دماغی امراض۔جگر ۔پٹھے کے اعصاب اور نڈھالی کے علاوہ دیگر بے شمار امراض میں مفید ہےاور یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ جو میں دودھ سے زیادہ کیلشیم اور پالک سے زیادہ فولاد پایا جاتا ہےاس وجہ سے تلبینہ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔جاتا ہے۔بیمار لوگوں کے لیے جو بالکل بستر سے اٹھ بھی نہ سکتے ہوں ان کے لیئے تلبینہ بہترین ہے۔ تلبینہ کمزوری کو دور کرکے چلنے پھرنے کے قابل بناتاہے۔جوانسانی تاریخ میں بوئی جانے والی سب سے پہلی اور پرانی فصلوں میں سے ایک ہے مؤ رخین کے مطابق جو یوریشیاء میں 10 ہزارسال قبل کاشت کی گئی جوکو انسانی غذائی جنس کے طور پر ہی نہیں بلکہ دودھ دینے والےجانوروں کے چارہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔صحت مند غذاؤں میں شامل ہونے کے علاوہ یہ اپنی خمیری صلاحیت کے با عث آب جو اور دوسرے مشروبات کا بھی ا ہم جزو رہی ہے۔اس سے مختلف ثقافتوں میں مختلف طرح کے کھانے تیار کئے جاتے ہیں ۔

جسم ‏موٹا کرنے کا آزمودہ ٹوٹکا صرف ایک چیز کا استمال

بانجھ پن کی وجوہات اور بانجھ پن کا علاج

بے اولادی کی وجوہات اور بے اولادی کا علاج

تلبینہ کے فوائد احادیث کی روشنی میں

پیارے نبی پاک نے جو کے استعمال کی بہت سی بیماریوں میں علاج کے لئے اس کے استعمال کی تلقین فرمائی ہے۔ جو کے استعمال سے جسم میں گلوکوزکی مناسب سطح کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔اسمیں موجود اجزاء سےکینسر اور دل کی بیماریوں سے بچاؤ کی طاقت ملتی ہے۔
ابن ماجہ میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں رسول الله ﷺ کے اہل خانہ میں سے جب کوئی بیمار ہوتا تھا تو حکم ہوتا کہ اس کیلئے تلبینہ تیار کیا جائے۔ پھر فرماتے تھے کہ تلبینہ بیمار کے دل سے غم کو اُتار دیتا ہے اور اس کی کمزوری کو یوں اتار دیتا ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو پانی سے دھو کراس سے غلاظت اُتار دیتا ہے
اسی مسئلے پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک روایت میں اسی واقعہ میں اضافہ یہ ہوا کہ جب بیمار کے لیے تلبینہ پکایا جاتا تھا تو تلبینہ کی ہنڈیا اس وقت تک چولہے پر چڑھی رہتی تھی جب تک وہ یا تو تندرست ہوجاتا۔اس سے معلوم ہوا کہ نیم گرم تلبینہ مریض کو مسلسل اور بار بار دینا اس کی کمزوری کو دور کرتا ہے اور اس کے جسم میں بیماری کا مقابلہ کرنے کی استعداد پیدا کرتا ہے۔’’حضرت عائشہ بیمار کیلئے تلبینہ تیار کرنے کا حکم دیا کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ اگرچہ بیمار اس کو ناپسند کرتا ہے لیکن وہ اس کیلئے ازحد مفید ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی سے روایت ہے کہ جب کبھی بھی آپ رضی اللہ تعالی کی کوئی رشتے دار وفات پاتیں تو قریبی عزیزواقارب اور احباب کے علاوہ تمام لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ۔آپ رضی اللہ تعالی تلبینہ کا دیگچہ اور تریذ یا ترید(روٹی گوشت )تیار فرماتی اس پر تلبینہ ڈال کر ان سب کو کھانے کے لئے پیش کرتیں اور فرماتی کہ آ پﷺ فرماتے ہیں کہ تلبینہ اپنے کھانے والے مریض کے دل کو تقویت اورغم زدہ کو غم سےنجات دیتا ہے۔صحیح بخاری والیم 7، کتاب 5،حدیث نمبر

تلبینہ بنانے کے اجزاء

دودھ دو کلو
جو کوٹا ہوا یا جو کا دلیہ ایک پاو
کھجور پندرہ سےبیس دانے رات بھر کے لیے پانی میں بھگو کر رکھیں
یا شہد آدھا کپ یاحسب ذائقہ

تلبینہ کی تیاری کی ترکیب

سب سے پہلے دودھ کو ایک دفعہ جوش دے کر جو شامل کر لیں اورہلکی آنچ پر25 منٹ تک پکائیں اور چمچہ چلاتے رہیں۔جب جو گل کر دودھ میں مل جائے تو کھجور مسل کر شامل کرلیں۔اور اگر میٹھا کم لگے تو تھوڑا شہد ملا لیں جب یہ کھیر کی طرح بن جائے تو چولہے سے اتار کر ٹھنڈا کر لیں دل کرے تو اس کے اوپر سے بادام ، پستے کاٹ کر چھڑک دیں۔کھجور کی جگہ شہد بھی ملا سکتے ہیں کھجور یا شہد جیسی پُر اثر مٹھا س اور صحت دینے والی غذا ؤں کے ساتھ مریض کو کھلانے سے نہ صرف جسم میں پھرتی پیدا ہوتی ہے بلکہ روح بھی ہشاش بشاش محسوس ہوتی ہے کیونکہ اسمیں دو جہاں کے سرکار رحمت اللعالمین کے حکم کی برکت بھی شامل ہے۔

no image

جسمانی ،جنسی،دماغی طاقت بڑھانے کے لاجواب ٹوٹکہ

ٹوٹکہ نمبر ایک
دودھ میں پستہ ،بادام پچاس گرام الائچی تین دانے ،زعفران صرف پانچ بال اور شکر ڈال کر خوب جوش دیں اور چولہے سے اتار کر تھوڑا ٹھنڈا کر کے پیئں اس طرح یہ عمل چالیس یوم سردیوں میں کرنے سے بے پناہ طاقت ملتی ہے۔
ٹوٹکہ نمبر دو
انجیر کو دودھ میں جوش دے کر کھانے سے اور اس دودھ کو پینے سے قوت آتی ہے اور خون بڑھتا ہے اور جسم موٹا ہو جاتا ہے۔
ٹوٹکہ نمبر تین
بھینس کے  نیم گرم دودھ میں 2 چمچ  خالص شہد کو اچھی طرح سے ملا کر  رات  کو پی لیا کریں تمام  جسمانی قوت اور طاقت بڑھانے کیلئے بے حد مفید ہے۔
ٹوٹکہ نمبر چار
اگر صبح کے وقت نہار منہ 7 عدد  بادام کھا کر اوپر سے گاجر کا جوس 10 تولہ، گائے کا دودھ آدھا کلو میں ملا کر پی لیا کریں اس سے دماغ کوطاقت ملتی ہے اور جسم خوبصورت اور طاقتور ہوجاتا ہے۔
ٹوٹکہ نمبر پانچ
روزانہ صبح اور رات کو  کھانے سے ایک گھنٹہ پہلے  شکر دیسی  اور سنامکی برابر ملا کر اس کا سفوف کھانے سے قوت آتی ہے۔

جسم ‏موٹا کرنے کا آزمودہ ٹوٹکا صرف ایک چیز کا استمال

دبلے پتلے جسم کو موٹا اور وزن بڑھانے کا دیسی نسخہ

خوبانی کا مزاج اور اسکے فائدے

ٹوٹکہ نمبر چھ
کالے چنے کو پیس کر  اس  آٹےکا حلوہ بنا کر روزانہ کھانے سے اعصابی ودماغی کمزوری سے نجات ملتی ہے۔
ٹوٹکہ نمبر سات
 روزانہ رات کو 21 دانے کشمش اور ایک چمچ  خالص شہد کو گائے کے خالص دودھ میں بھگو رکھیں صبح  نہار منہ  کشمش دودھ سے نکال کر  کھالیں اوپر سے اسی  دودھ  کو نیم گرم کرکے پی لیں دماغی طاقت کیلئے فائدہ مند ہےجسم کو طاقتور بناتا ہے۔
ٹوٹکہ نمبر آٹھ
گاجر کا رس نکال کر روزانہ صبح نہار منہ پینے سے جسم میںقوت  آتی ہے یہ  یرقان کے مریضوں  کیلئے فائدہ مند ہے اگر گاجر کے جوس میں ایک چمچ شہد مکس کردیا جائے تو اس کا  دوگنا فائدہ ہوتا ہے۔
ٹوٹکہ نمبر نو
ایک پاو دودھ میں ایک چمچ شہد اور  ایک چٹکی دارچینی ڈال کر پینے سے کمزوری فوری طور پر دور ہوجاتی ہے۔
ٹوٹکہ نمبر دس
 روزانہ صبح ناشتے میں دودھ کے ساتھ دو عدد کیلے کھانے سے جسم کا  دبلاپن دور ہوجاتا ہے۔
ٹوٹکہ نمبر گیارہ
 روزانہ صبح نہار منہ  مالٹے کا رس  نکال کر پینے سے جسمانی قوت بحال ہوجاتی ہے۔
ٹوٹکہ نمبر بارہ
روزانہ  نہار منہ صبح کے ناشتے میں ایک عدد سیب کھانے سے جسمانی قوت  تا حیات بحال رہتی ہے۔
ٹوٹکہ نمبر تیرہ
کھجور کے پانچ عدد دانے دودھ میں ابال کر کھانے سے بدن طاقتور ہوتا ہے۔
ٹوٹکہ نمبر چودہ
ایک عدد خشک انجیر، پانچ  دانے بادام اور شکر دودھ میںابال  کر پینے سے خون صاف ہوتا ہے جسم میں بھرپور طاقت  آتی ہے۔
ٹوٹکہ نمبر پندرہ
مغزاخروٹ،بادام،منقیٰ اور انجیرکو آپس میں ملا کر کھانا مقویٰ اعضائے رئیسہ اور دماغ کیلئے طاقتور چیز ہے۔
ٹوٹکہ نمبر سولہ
کدو کا گودا 5تولہ،املی 2 تولہ،چینی 2 تولہ، ان تینوں چیزوں کو 1کلو پانی میں ابالیں جب ایک پاؤ پانی باقی رہ جائے تو اتار کر چھان لیں اور ٹھنڈا ہونے پر فریج میں رکھ لیںاور  ایک ہفتہ  نہار منہ ایک گھونٹ پلاتے رہیں۔ جسم کی تمام گرمی دور ہوکر  انشااللہ خون صالح پیدا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ  دماغ  بے حد طاقتور ہوجائے گا  ہائی بلڈپریشر کے مریضوں کیلئے  بے حدفائدہ مند ہے۔
ٹوٹکہ نمبر سترہ
سونف دو ماشہ،منقیٰ پانچ عدد، الائچی خورد دس عدد،مغز بادام چھیلے ہوئے دس عددجملہ ادویات کو پانی میں گھوٹ کر گھوٹا بنالیں۔ مصری کا اضافہ کرکے دن میں دو یا تین بار پلانا مقوی دل اور دماغ ہےپیاس کو تسکین دیتا ہےمعدہ اور جگر کی ورزش کیلئے مؤثر ہے۔
ٹوٹکہ نمبر اٹھارہ
دارچینی دو تولہ،بچ ایک تولہ،ہرڑ کابلی ایک تولہ،مصری دو تولہ،چاروں چیزوں کو باریک پیس کر سفوف بنا لیں روزانہ ایک ماشہ سے دو ماشہ تک صبح و شام پانی کے ساتھ استعمال کریں۔ حافظہ کی تقویت کیلئے بے نظیر نسخہ ہے۔

no image

گوہر نایاب نسخہ جو مردوں اور عورتوں تمام طاقتوں کو بحال کرتا ہے

مردوں کے لیئے فوائد

کئی حکماء کے مطب کا راز یہ نسخہ اس قدر فائدہ مند ہےکہ آپ اس نسخہ کو استعمال کر کے دنیا کے تمام نسخوں کو بھول جائیں گے۔طب و حکمت میں بہت ہی مستند نسخہ ہے بہت ہی آزمودہ نسخہ قابل عزت حکماء حضرات کا معمول مطب اور مصدق نسخہ ہے سب سے خاص بات افادیت کے لحاظ سے ایک آل راونڈر نسخہ ہے ۔ مردوں میں یہ نسخہ جریان ، احتلام ، ذکاوت حس میں کار آمد ہے اور مقوی باہ بھی ہے مادہ منویہ پیدا کرے گا۔ امساک پیدا کر کے ذکاوت حس ختم کرے گا۔ جراثیم کی کمی کے لیے بہت نایاب چیز ہے۔ سوکھے نوجوانوں کا وزن بڑھانے کے لیے کار آمد نسخہ ہے۔ ضعیف حضرات مرد و زن کے پٹھوں کو بہت تقویت بخشے گا۔

بانجھ پن کی وجوہات اور بانجھ پن کا علاج

اسپغول سے مردانہ کمزوری کا علاج

بے اولادی کی وجوہات اور بے اولادی کا علاج

عورتوں کے لیئے فوائد

یہ آل راونڈر نسخہ خواتین میں دودھ کی کمی دور کرے گا خشکی گرمی کی بدولت رحم کی سوزش ختم کرے گا ایگز (انڈے) پیدا کرے گا۔ ماہواری کو اعتدال پہ لائے گا۔چھاتی کا سائز بڑھا دے گا دبلی پتلی مستورات اس کے استعمال سے موٹی ہو جائیں گی۔ مرد و زن کے لیے لاجواب نسخہ ہے خالص اور اصلی جڑی بوٹیوں سے بنائیں اور فوائد پائیں۔ الغرض جتنے بھی فوائد اس نسخہ کے تحریر کیئے جائیں  وہ کم ہیں۔
ہمیشہ کی طرح گزارش ہے کوئی بھی دوا استعمال کرنے سے پہلے کسی معالج سے معاونت کر لیں اپنی عمر اپنا وزن اپنا مرض، مرض کی مکمل ہسٹری بتائیں پھر نسخہ استعمال مین لائیں۔

نسخہ کے اجزاء بمعہ مقدار

ثعلب مصری 10 گرام
مغز پنبہ دانہ 10 گرام
موصلی سفید 10 گرام
ثعلب پنجہ 10 گرام
ستاور 10 گرام
بیج بند 10 گرام
بہمن سفید 10 گرام
اسگند ناگوری 10 گرام
کونچ کے بیج مدبر 10 گرام
مغز پستہ 20 گرام
مغز بادام 20 گرام
برہمی بوٹی 30 گرام
تالمکھانہ 10 گرام
چھلکا اسپغول 10 گرام
مغز جیا بوتہ 10 گرام
کوزہ مصری 150 گرام
سونٹھ 30 گرام

طریقہ تیاری

کونچ  کے بیجوں کو مدبر کرنے کے لیے سب سے پہلے کونچ کے بیج کو دودھ میں ابال کر چھلکا اتار لیں اور دودھ اور چھلکا پھینک دیں اور خشک ہونے پر سفوف بنا لیں۔ کونچ کے علاوہ باقی تمام اجزاء کا بھی سفوف بنا کر اچھی طرح مکس کر کے شیشے کی بوتل میں سنبھال لیں۔

طریقہ استعمال

ایک چمچ چھوٹا صبح وشام کھانے سے ایک گھنٹہ قبل ہمراہ دودھ

پرہیز

کھی تلی اشیاء اور شادی شدہ افراد وظیفہء زوجیت سے ایک ماہ پرہیز کریں

no image

مقوی شاہی کیپسول کا نایاب نسخہ

ایسے مرد حضرات جوبچپن کی غلط کاریوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریاں کا علاج کرنا چاہتے ہیں تو یہ نسخہ ان کے لئے لاجواب تحفہ ہے جو گئے گزرے مرد کو بھی قابل فخر مرد بنا دیتا ہے۔ جب شہوت کی کمی ، طبیعت سست روی کا شکار ہو اور نامردی غالب آچکی ہو اور کوئی بھی علاج کارگر ثابت نہ ہو رہا ہو تو اسوقت اس نسخے کو استعمال کریں بہت ہی زبردست رزلٹ دے گا اس کے استعمال سے برباد ہوئی طاقت جوانی واپس لوٹ آئے گی سختی ،انتشار ،ٹائمنگ فل، نفس ہڈی جیسا سخت ،جسمانی قوت گھوڑے جیسی طاقت ایسی کہ 75 سال کی عمر میں جوانی امڈ آئے. اس نسخے کو ایک بار ضرور آزمائیں آپ کی زندگی میں خوشی پیدا کر دے گا اور آپ کے پرکیف لمحات کو طویل اور خاص بنا دے آپ کی بیوی مطمعن اور تابع رہے گی مکمل ازدواجی زندگی بنا دے گا مقوی باہ اور ممسک ہے پٹھوں کی کمزوری ختم کرتا ھے ضعف باہ کو بحال کرتا ہے بھوک بڑھاتا ہے چہرے پر چھائیاں ختم کر کے نکھار لاتا ہے اور قبض دور کرتا ہے کمر درد جوڑ گنٹھیا کا درد دور کرتا ہے جراثیم کی کمی شرطیہ پوری کرتا ہے جریان ،احتلام کو روکتا ہے، مادہ منی گاڑھی کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پس سیلز کا شافعی علاج ہے اس نسخہ کے استعمال مادہ منویہ گاڑھا ہو کر امساک قدرتی طور پر بڑھ جاتا ہے۔ اس کے استعمال سےانشااللہ جوانی کی بہاریں لوٹ آئیں گی۔

مقوی شاہی کیپسول کے فوائد

ایسے مرد حضرات جو وقت کی کمی کا رونا روتے ہیں وہ مطمئن ہو جائینگے۔
ایسے مرد حضرات جو ویاگرا جیسی مضر صحت ادویات استعمال کرتے ہیں اس نسخہ کے استعمال وہ مضر صحت ادویات چھوٹ جائیں گی۔
اس نسخہ کے استعمال سے د ل اور دماغ کی کمزوری دور ہوتی ہے یہ نسخہ صحبت کرنے کو دل نہ کرنا یا جماع کے بعد ہونے والی تما م کمزوریوں کو ختم کرتا ہے۔
اس نسخہ کے استعمال اعصاب اور پٹھوں کو مضبوط ہوتے ہیں سو فیصد رزلٹ دینے میں اس نسخہ کا کوئی ثانی نہیں۔
اس نسخہ کے استعمال ٹائمنگ اس قدر بڑھ جائے گی کہ آپ حیران ہو جائیں گے۔
اس نسخہ کے استعمال سے انشااللہ پندرہ دن میں سرعت انزال کا خاتمہ ہو جائے گا۔
اس نسخہ کے استعمال سے بے انتہا قوت باہ بڑھ جاتی ہےاور جسمانی کمزوری دور ہو جاتی ہے۔
اس نسخہ کے استعمال سے انشاء اللہ پہلی ہی خوراک سے ہی فائدہ معلوم ہو گا اور وہ بنا کسی سائیڈ افیکٹ کے۔

جسم ‏موٹا کرنے کا آزمودہ ٹوٹکا صرف ایک چیز کا استمال

خوبانی کا مزاج اور اسکے فائدے

بانجھ پن کی وجوہات اور بانجھ پن کا علاج

ھوالشافی

کشتہ چاندی ۔ 3 گرام
کشتہ شاخ مرجان۔ 5 گرام
کشتہ عقیق۔ 6 گرام
سچے موتی۔ 15 گرام
ورق سونا۔ 1 گرام
ثعلب مصری 25 گرام
جلوتری 10 گرام
جائفل 20 گرام
دارچینی۔ 3 گرام
زعفران 10گرام
قرنفل 4 گرام
عقرقرحا اصلی 3 گرام
موچرس۔ 50گرام
جنسنگ بوٹی 30 گرام

ترکیب تیاری

تمام اجزاء کو باریک پیس کر سفوف بنالیں اس کے بعد 500 ایم جی کیپسول بھر لیں۔

ترکیب استعمال

ایک کیپسول شام کھانے کے بعد ہمراہ نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔

نوٹ

اگر یہ نسخہ آپ سے نہیں تیار ہوتا تو ہم سے منگوا لیں کیونکہ یہ نسخہ ہر وقت ہمارے پاس تیار ہوتا ہے۔

برائے رابطہ موبائل نمبر

00923046539899

00923216486707

no image

مردانہ طاقت قدرت کی باقی سبھی نعمتوں کے ساتھ ملنے والی ایک ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم و بدل نہیں۔ یہ معجون مردانہ طاقت کو بڑھاتی ہے، جریان، اور احتلام، سرعت انزال، میں بے حد مفید ہے۔مردانہ طاقت میں کمی کے مریضوں میں یہ معجون قوت باہ کو بے پناہ طاقت دیتا ہے، امساک کو بڑھاتاہے اور مردانہ طاقت میں 100 مردوں کے برابر مردانہ طاقت فراہم کرتاہے۔ اللہ رب العزت نے تمام مردوں میں اسے ایک جیسا رکھا ہے اب یہ انسان پر ہے کون اپنی کس طاقت کا کیسا استعمال کرتا ہے کون سنبھالتا ہے اور کون اس کو ضائع کرتا ہے۔بہادر شاہ ظفر مغلیہ دور کے آخری مغل بادشاہ تھے جو عیش وعشرت کے دلدادہ تھے ۔جب انہوں نے 1837 میں شاہی محل میں تاج پوشی کے بعد تخت پر جلوہ افروز ہوئے تو فوراً اس وقت کے برصغیر کے مشہور و معرف حکیم احسن اللہ خاں کو اپنی سلطنت میں دربار کا طبیب شاہی مقرر کیا یہ نسخہ جو آج میں شیئر کرنے جارہا ہوں وہ انہوں نے سپیشل بادشاہ وقت کے لیئے تیار کیا تھا ۔

شاید آپ یہ پسند کرتے ہیں

لہسن و شہد کا مزاج اور لہسن و شہد کھانے فائدے

پیاز سے شوگر کا علاج

بے اولاد مرد و خواتین اس سستے نسخہ کو چالیس دن استعمال کریں

مردانہ طاقت کو بڑھانے والی معجون کا نسخہ

مردانہ طاقت کو بڑھانے والی معجون تیار کرنے کے تین مرحلے ہیں
پہلا عمل
عمدہ قسم کے تازہ تالمکھانہ 45 گرام، کسی تھال میں ڈال سے اس کی اچھے سے صفائی کریں تمام مٹی کنکر تنکے وغیرہ نکالیں اور بوہڑ کے دودھ میں تین بار تر و خشک کریں۔ خشک ہونے پر اسے ناریل کے مغز میں سوراخ کرکے اس میں بھر دیں اور اسی ٹکرے سے اس سوراخ کو بند کردیں۔ اب اس کو گندم کے گوندھے ہوئے آٹے کا لیپ تقریباً 2 انچ موٹا کریں اس سے کم لیپ نہ کریں۔ اب اسے دو کلو کوئلوں کو جلا کر کوئلوں کو اچھی طرح لال ہونے دیں اور جب کوئلوں سے دھواں ختم ہوجائے اور کوئلے اچھی لال ہو جائیں تو کوئلوں پر ناریل کو رکھ دیں اور اس بات کا دھیان رکھیں کہ ناریل جلے اور نہ ہی ناریل کے اوپرآپ نے جو آٹے کا لیپ کیا تھا وہ اچھی طرح سے لال ہوجائے تو اسے کوئلوں سے اتار کر ناریل سے تالمکھانہ نکال کر اچھی طرحباریک باریک کوٹ لیں اسی طرح ناریل کو الگ کوٹیں اور اچھی طرح باریک کر کے شیشے کے برتن میں سنبھال لیں۔
دوسرا عمل
موچرس پچاس گرام میں بوہڑ کا دودھ اتنا ڈالیں کہ کہ موچرس ڈوب جائے اور پھر ہفتے دس دن بعد دودھ خشک ہو جائے تو دوسری دفعہ پھر بوہڑ کا دودھ ڈالیں اور اسی طرح یہ عمل دفعہ کریں اسکے بعد موچرس جو خشک ہو گئی ہے اس کو 100 دفعہ لوہے کی چوٹیں دیں یعنی نیچے بھی لوہا ہو اور اس کو لوہے کے ہتھوڑے سے اچھی طرح کوٹیں باریک ہو جانے پر شیشے کی بوتل میں سنبھال کر رکھ لیں ۔
تیسرا عمل
تین ماشہ سنکھیا سفید لے کر ایک کلو پانی میں ملا دیں اور اس میں تین دیسی انڈے ابالیں ، جب اپکو لگے کہ انڈے ابل چکے ہیں تو کسی چمچ کیساتھ انڈے نکال لیں اور کپڑے کی مدد سے اوپر لگی چکنائی صاف کرلیں ، یاد رہے کہ ہاتھ نہیں لگانا ، پھر انکو چھیل کر زردی نکال لیں اور چھلکا سفیدی اور کپڑا کہیں دفن کر دیں ۔ اور اس زردی کو سنبھال کر رکھ لیں۔
اس کے بعد توردی سفید 20 گرام، توردی سرخ 20 گرام، گوکھرو 20 گرام، موصلی سیاہ 20 گرام، موصلی سفید 20 گرام، گاؤزبان 20 گرام، ثعلب مصری 10 گرام، سمندر سوکھ 10 گرام، اندرجو 10 گرام، دانہ الائچی خورد 10 گرام، بوزیدان 10 گرام، سورنجاں شیریں 15 گرام، ابریشم مقشر 10 گرام ،طبا شیر15 گرام، شقاقل مصری 15 گرام، مغز پستہ 50 گرام، مغز چلغوزہ 50 گرام، مغز بادام 100 گرام لے لیں۔

 مردانہ طاقت کی معجون کی ترکیب تیاری

تمام ادویہ کو پیس کر باریک کر لیں اور اسمیں تالمکھانہ ناریل ، زردی انڈہ اور موچرس کو اکٹھا کرکے ملالیں پھر سب کو اچھی طرح کوٹ کر یک جان کرنے کے بعد اس میں ایک کلو شہد ملا کر معجون بنالیں۔ آپ کا معجون تیار ہے۔

مردانہ طاقت کی معجون کا طریقہ استعمال

ایک عدد بڑا چمچ کھانے والاصبح نہار منہ اور ایک بڑا چمچ رات کو سونے سے پہلے ایک پاؤ نیم گرم دودھ کیساتھ چالیس یوم استعمال کریں۔

no image

بے اولادی کی وجوہات اور بے اولادی کا علاج

بے اولادی کے شکار اکثر مریضوں میں احتلام کی زیادتی جریان اور بچپن کی غلط کاریوں کی وجہ سے اعضائے مخصوصہ لٹک جاتے ہیں اور ان میں مادہ منی پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور یہ درست کام نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے مادہ منی ناقص اور پتلی ہو جاتی ہےاور اس میں جراثیم کی کمی واقع ہو جاتی ہے اور منی اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتی اور بے اولادی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ۔بے اولادی کے علاج کی غرض سے اور اس کمزوری کو دور کرنے کیلئے آج ایک نسخہ پیش خدمت ہے جو میرے زندگی بھر کے تجربات کا نچوڑ ہے آپ اللہ رب العزت کے بھروسے اس نسخہ کو استعمال کریں انشااللہ بے اولادی کا مسئلہ حل ہو کر اولاد کی نعمت سے اجڑی گود کو ہر بھری ہو جائے گی۔اس کے علاوہ بے اولادی کی درج ذیل وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔

گلے کے غدود گلہڑ ، کنویں

گلے کے غدود جن میں گلے کے غدود گلہڑ ، کنویں ہوتے ہیں ان کے باعث مردانہ جراثیم بننے میں رکاوٹ آتی ہے اور بعض اوقات ان غدودں کی وجہ سے مرد حضرات مکمل بانجھ پن بے اولادی کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔

مردانہ کمزوری کا ہومیو پیتھک علاج

لبوب خاص برائے امراض مخصوصہ مردانہ

بانجھ پن کی وجوہات اور بانجھ پن کا علاج

خصیوں میں خون کی روانی کے مسائل

سائنسی تحقیق کے مطابق خصیوں میں خون کی روانی کے مسائل کے باعث تولیدی جراثیم کی افزائش نہیں ہوپاتی اور بانجھ پن بے اولادی کے مسائل ہو جاتے ہیں۔

خصیوں کا اپنی جگہ پر نا ہونا

حکماءکے مطابق دوران پریگنینسی بچے کے خصیے پیٹ میں تشکیل پاتے ہیں اور پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے ہی یہ اس کی مخصوص جگہ پر آ جاتے ہیں کچھ بچوں میں ایک یا دونوں خصیے ہی اپنی جگہ پر نہیں آپاتے جس کی وجہ سے بچے میں مختلف جنسی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جن میں بانجھ پن بے اولادی بھی شامل ہے۔

شوگر

اکثر کیسو ںمیں دیکھا گیا ہے کہ شوگر کا مرض بھی سپرم کی افزائش پر اثر انداز ہوتا ہے اور شوگر کی وجہ سے بانجھ پن بے اولادی کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔

آپریشن یا چوٹ کا لگنا

کھیل کے دوران کسی ناگہانی حادثے یا آپریشن کے باعث خصیوں کو خون پہنچانے والی رگوں کو نقصان پہنچتا ہے، جس سے سپرموں کی افزائش متاثر اور بے اولادی ہوسکتی ہے۔

پیشاب کی نالی میں رکاوٹ

پیشاب کی نالی میں رکاوٹ کے باعث کئی مردوں کا تولیدی مادہ صحبت کے دوران اصل جگہ پر نہیں پہنچ پاتا جس کی وجہ مرد اولاد کی نعمت سے محروم رہ سکتا ہے۔

نیند کی کمی ،ڈپریشن اور شراب کا استعمال

بانجھ پن کے اکثر کیسز نیند کی کمی ،ڈپریشن اور شراب کا استعمال کے باعث بھی سامنے آتے ہیں لہذا ان عادات کو ترک کرنے سے بفضل خدا بے اولادی کے مسائل کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

ہوالشافی
اندرجو شیریں 10 گرام
شقاقل مصری 10 گرام
تخم خشخاش 10 گرام
طباشیر 10 گرام
گوندببول 10 گرام
ثعلب مصری 10 گرام
کلونجی 10 گرام
سپستان 10 گرام
تخم اوٹنگن 10 گرام
موصلی سفید 10گرام
گوندڈھاک 10 گرام
اسگند ناگوری 10 گرام
کشتہ قلعی سادہ 20 گرام
بھکڑا 20 گرام
مغز جیا پوتہ 20 گرام
شہد حسب ضرورت

بے اولادی کے علاج کے نسخہ ترکیب تیاری

تمام بتائی گئی ادویہ کو ہاون دستہ یا گرائینڈر میں باریک پیس کر اچھی طرح چھان لیں اور سفوف کے اندرشہد مکس کر لیں معجون تیار ہے۔

بے اولادی کے  علاج کے نسخہ مقدار خوراک

ایک چمچ چھوٹا چائے والا صبح نہار منہ اور شام کو کھانے کے بعد سونے سے پہلے ایک پاؤ نیم گرم دودھ کیساتھ استعمال کریں یہ معجون کم سے کم آپ نے چالیس دن استعمال کرنا ہے۔

بے اولادی کے علاج  کے نسخہ کے فوائد

مغلظ منی، مولدمنی، مو لدکرم منی، ممسک اور مقوی باہ لاجواب اور انتہائی بہترین نسخہ ہے بے اولا دی کے مریضوں کے لیے لاجواب ہے۔

no image

بانجھ پن کی وجوہات اور بانجھ پن کا علاج

آج کا نسخہ جو بتانے جا رہا ہوں وہ بانجھ پن کی وجوہات اور بانجھ پن کا علاج کا ہے۔ روز دوا خانے میں جب مریضوں کو چیک کر رہا ہوتا ہوں تو دوران مجھے بے شمارفون کالز اور وٹس ایپ کالز آتی ہیں۔ان کالز میں مختلف مریض اپنے امراض بتا کر ان مسائل کا علاج پوچھتے ہیں ۔اللہ پاک کے فضل و کرم سے جتنا میرے سوہنے اللہ پاک نے علم دیا ہے اس کی روشنی میں ان دکھی مریضوں کو ان کے امراض کا علاج بھی فی سبیل اللہ بتایا جاتا ہے اور مکمل رہنمائی بھی کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر دس ہزار کے قریب میں نے ویڈیوز بنائی ہیں جن میں ہر قسم کے  مردانہ و زنانہ امراض کے  فی سبیل اللہ نسخہ جات ان کے تیار کرنے کا طریقہ ان کو کیسے  استعمال کرنا ہے وہ طریقہ بتایا ہے تو آج سے دس پندرہ دن قبل ایک لڑکی کی وٹس ایپ پر  کال آئی وہ خاتون بہت پریشان تھی شادی کو چار سال ہو چکے تھے لیکن ان کے آنگن میں کوئی پھول نہیں ابھی تک کھلا تھا دونوں میاں بیوی کو بانجھ پن کے حوالے سے پریشانی تھی۔ میں نے ان سے پوچھا خاتون آپ کی عمر کتنی ہے تو انہوں نے بتایا ان کی عمر تقریبا چھبیس سال ہے اور ان کے شوہر کی عمر کا پوچھا ہسبینڈ کی ایج اٹھائیس سال بتائی تو میں نے پوچھا کہ آپ کو کسی قسم کا کوئی مسئلہ ہےتو انہوں نے کہا صرف ہلکا سا  سیلان الرحم  یعنی لیکوریا ہے اس کے علاوہ الحمدللہ تمام جو خواتین والے معاملات ہیں وہ بالکل ٹھیک ہیں کسی قسم کا کوئی ان کوپرابلم  نہ ہے ایام بھی بالکل ٹھیک آ رہے ہیں اور ٹائم پر آرہے ہیں پھر میں نے ان سے ان کے سرتاج  کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا الحمد للہ بالکل ٹھیک  ہیں اور انہوں نے ان کے سپرم کا ٹیسٹ بھی کرایا ہے جراثیم بھی تقریبا ساٹھ  سے ستر فیصد بالکل ٹھیک آ رہے ہیں اور منی کی مقدار بھی رپورٹ میں ٹھیک ہے بس وہ ہمبستری کی طرف مائل تھوڑا کم ہوتے ہیں ۔تو میں نے دونوں میاں بیوی کو یہ نسخہ تجویز کیا۔

مزید پڑھیں

خارش اور الرجی کا دیسی علاج
سفید پیاز کا مزاج اور سفید پیاز کے فوائد
کریلے کا مزاج اور کریلے کے طبی فائدے

 بانجھ پن کے علاج کا نسخہ شفائی

 بانجھ پن کے علاج کا نسخہ انتہائی آسان اور سادہ عام پنساریوں سے مل جاتا ہےآپ اس نسخہ کو  خود بھی تیار کر سکتے ہیں۔ ااور سب سے بڑی بات یہ سادہ سا نسخہ کسی بھی پنساری سے عام مل جاتا ہے۔ آپ بھی ہماری اس ویب سائٹ

 سے نوٹ کر لیں  اور اس نسخہ کو شیئر بھی کریں تاکہ کوئی بھی آپ کا جاننے والا جن کو بانجھ پن کے مسائل کا سامنا ہو  ہاس کا بھلا ہو جائے۔ 

بانجھ پن کے علاج کا نسخہ مردوں کے لیئے

پہلے تو مردوں کے مسائل سن لیں کے مردوں کے کن مسائل  میں یہ فائدہ دے گا جن مرد حضرات  کی  مادہ منی پتلی ہو  مادہ منی کے جراثیم کم ہو یا کمزور ہوں یا صحبت  کرنےکو دل نہ کرتا ہو اس کے ساتھ عضو خاص کا انتشار کامل  نہ ہو وہ مریض یہ نسخہ چالیس دن پرہیز کے ساتھ استعمال کرلے انشاء اللہ بانجھ پن جیسےمسائل سے اس کو شفاء مل جائے گی۔
شرط صرف یہ ہے کہ یہ نسخہ کے اجزاء خود پنساری سے خریدنے ہیں اپنے ہاتھوں سے پیسنے ہیں کسی چکی سے نہیں باریک کروانےیعنی  گرینڈر میں نہیں سفوف بنانا۔ہاون دستے  یا چٹو وٹےمیں خود پیسنے ہیں اور  موٹے اجزاء کو نکالنے کے لیئےکپڑچھان کرنے ہیں۔کپڑچھان  کا بتا دوں کپڑ چھان اسے کہتے ہیں کہ ململ کے کپڑے میں دوائی کو چھان لیا جائے۔
یہ  نسخہ جن مسائل میں کام آتا ہے وہ مردوں کے مسائل آپ کو بتا دیے ہیں اب  آتے ہیں ہم خواتین کے مسائل کی طرف جو بہت اہم ہیں۔

بانجھ پن کے علاج کا نسخہ خواتین کے لیئے

وہ خواتین جن کو  سیلان الرحم یعنی لیکوریا ہو اور بیک پین یعنی  کمرمیں  ہر وقت درد رہتا ہوں اور اس کے  ساتھ ساتھ جسم کے تمام پٹھوں  اور جوڑوں میں درد رہتا ہو تھکن رہتی ہو یہ نسخہ ان  خواتین کے لیے بھی آب شفاء ہے۔ جسم کے اندر انشااللہ ایک نئی امنگ دوڑ پڑے گی۔

بانجھ پن کے علاج کے نسخہ کے اجزاء

اب میں نسخہ  کے اجزاء کی تفصیل  ہوں  اس نسخہ میں صرف دو اجزاء ہیں جو کسی بھی  عام پنساری سے مل جاتے ہیں پہلا جزو ہے اس کا  نام ہے موصلی سفید اور دوسرا جزو  جو ہے  اس کا نام موصلی سیاہ  ہے۔یہ دونوں اجزاء آپ پنساری سے پچاس پچاس گرام لے لینے ہیں ان کو اچھی طرح ہاون دستے میں کوٹ کر سفوف بنا لینا ہے اور ململ کے کپڑے سے چھان لینا ہے سفوف بنانےکے بعد آپ نے اس  تمام سفوف کو کسی شیشے کے مرتبان میں محفوظ کر لینا ہے ۔

بانجھ پن کے علاج کے نسخہ کا استعمال کا طریقہ

اس کو استعمال کا طریقہ سن لیں کہ روزانہ صبح آدھا کلو دودھ لے لینا ہے آدھا کلو دودھ میں اس سفوف کا ایک بڑا کھانے والاچمچ لے کرپہلے سے ابلے ہوئے دودھ میں ڈال کرہلکی آگ پر رکھ دیں اور چمچ کو آہستہ آہستہ برتن میں چلاتے رہیں جب یہ دودھ گاڑھا کھیر نماہو جائے تو اس کو چولہے سے اتار لینا ہے ۔اس کھیر میں شہد یا چینی بھی ڈال سکتے ہیں ۔نوٹ چینی یا شہد آپ کی مرضی ہے اگر نہ بھی ملائیں کوئی ضروری نہیں۔
یہ نسخہ نہار منہ استعمال کرنا ہے مرد نے بھی استعمال کرنا ہے اور عورت نے بھی اسی طریقے سے ہی استعمال کرناہے۔اس کھیر کو روزانہ کی بنیاد تازہ بناناہے اور روزانہ ہی کھانا ہے۔ اس کھیر کے کھانے کےدو گھنٹے بعد آپ نے ناشتہ یا کوئی اور چیز کھانی ہے۔ 

پرہیز
اور اس دوران دونوں میاں بیوی نے ہمبستری کا پرہیز کرنا ہے فارمی انڈا اور فارمی مرغ کا پرہیز ہے۔اور اس کےساتھ ساتھ آپ نے اس بھینس کا یا گائے کا دودھ پینا ہے جس کو دودھ والے ٹیکانہ لگاتے ہوں۔ باقی اللہ نے چاہا تو 40 یوم کے اندر انشاءاللہ خوشخبری ضرورآئے گی۔

no image

لہسن و شہد کا مزاج اور لہسن و شہد کھانے فائدے

لہسن و شہد کے بارے میں تفصیلی مضمون سے پہلے  یہ جان لیں کہ قدرت نے جہاں انسان کی آزمائش کیلئے بہت سی بیماریاں پیدا کی ہیں وہیں ان کےعلاج کے  لیئے لہسن و شہد کی صورت میں ایسے ایسے نادر نسخے بھی موجود ہیں کہ جان کر عقل ہی دنگ رہ جاتی ہے۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ لہسن و شہد ہماری صحت کے لئے بیحد مفید ہے اور ان گنت بیماریوں سے لڑنے کی طاقت رکھتا ہے،عام طور پر اسے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے مگر آپ یہ جان کے حیران ہوں گے کہ لہسن و شہد ایک دوائی کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے،لہسن کو روز کھانے سے آپ ہارٹ اٹیک، ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول لیول اور دیگر دل کی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں،اسکے علاوہ کھانسی نزلہ بخار اور عام طور پر ہونے والے انفیکشن سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں، لہسن و شہد کے باقاعدہ استعمال سے آپ اپنے اندرونی نظام کو بہتر بنا سکتے ہیں، اس میں شوگر سے بھی لڑنے کی طاقت موجود ہوتی ہیں، شوگر کے مریض اگر اس کا استعمال جاری رکھیں تو ان کا شوگر لیول کنٹرول رہتا ہے،کچھ لوگ اس کو ثابت کھا سکتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو اس کے تیز ذائقے کے باعث ثابت کھانے میں مشکل محسوس ہوتی ہےاس لیے لوگ خالی لہسن کھانے سے کتراتے ہیں، لہذا اس کا ایک آسان حل آج ہم آپ کو بتاتے ہیں اسے شہد میں ملا کر کھانے سے نہ صرف اس کا ذائقہ بہتر ہو جاتا ہے بلکہ دونوں کو ایک ساتھ کھانے سے معدے کی بیماریوں سے بھی چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔۔۔تو ان دونوں کو ملا کر کھانے کے لاجواب اور شاندار فوائد جاننے کیلئے یہ مضمون مکمل پڑہیں۔

زیتون کے تیل سے مردانہ کمزوری کا علاج

جسم کو موٹا بنانے اور وزن بڑھانے کا نسخہ

لبوب خاص برائے امراض مخصوصہ مردانہ

کمزوری کے علاج کا مکمل کورس جو چار نسخہ جات پر مشتمل ہے

 

شہد کے مکمل فوائد

لہسن کی طرح شہد بھی ہماری صحت کے لئے بہت فائدے مند ہے، شہد کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس میں بے شمار بیماریوں کا علاج ہے،محققین اسے مزید موثر بنانے کے تگ و دو میں بھی لگے رہتے ہیں،ایسی ہی ایک تازہ ترین تحقیق سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہد اور لہسن کو ملا کر کھانے سے کئی بیماریوں سے نجات مل جاتی ہے۔۔۔ لہسن کے ساتھ شہد بھی قدرتی فوائد اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے، لہٰذا لہسن اور شہد کے آمیزہ سے انسان کو کیسے حیرت انگیز فوائد حاصل ہوتے ہیں یہ یقینا آپ کے علم میں نہیں ہو گا۔۔۔ ماہرین غذائیات کی آراءکی روشنی میں لہسن اور شہد کو ملا کر کھانے کے درجنوں ایسے فوائد بتائے گئے ہیں کہ جنہیں جان کر یقیناً ہم یہ قدرتی نسخہ فوری استعمال کرنا چاہیں گے۔۔۔اس جادوئی نسخے کو تیار کرنے کے لئے لہسن کے ایک جوئے کو باریک کاٹ کر ایک چمچ شہد میں مکس کر لیں یا دوسری صورت میں لہسن کو باریک کُوٹ لیں اور اسے ایک چمچ شہد میں اچھی طرح ملا لیں، اسے صبح خالی پیٹ کھائیں اور ایک ہفتے تک اس کا استعمال جاری رکھیں۔۔۔اب اگر اس قدرتی نسخے کے فوائد کی بات کی جائے تو یہ بے شمار بھی ہیں اور بے حد اہم بھی ہیں ،یہ سادہ سا نسخہ ہمارے جسم سے فاسد مادوں کی صفائی کرتا ہے،صرف ایک ہفتے کے استعمال سے جلد کی جھریاں ختم ہونے لگتی ہیں، اگر آپ کے جسم پر کوئی زخم موجود ہے تو اس کے استعمال سے بہت جلد مندمل ہوجائے گا، اگر آپ بیمار ہیں تو جلد صحت یاب ہوں گے اور جسمانی تھکاوٹ کا احساس بآسانی دور ہو جائے گا۔۔۔یہ ایک قدرتی اینٹی بائیوٹک بھی ہے جو آپ کو بیکٹیریا اور وائرس سے لگنے والی بیماریوں سے بچاتا ہے، یہ کولیسٹرول کو بھی کم کردیتا ہے اور اس کے کھانے سے آپ کا وزن بھی کم ہونے لگتا ہے۔۔۔ جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہوجاتا ہے جس سے ہر قسم کی بیماریوں سے تحفظ ملتا ہے، خاص طور پر موسمیاتی بیماریوں سے تحفظ ملتا ہے۔۔۔یہ نسخہ آپ کے دل کو بھی مضبوط کرتا ہے اور خون کی نالیوں میں دوران خون رواں کرتا ہے گلے کی خرابی میں مبتلا افراد کے لئے بھی یہ نسخہ بہت اعلیٰ ہے کیونکہ یہ گلے کی خراش اور سوزش کو کم کرتا ہے، اسہال کی بیماری میں بھی اس کا استعمال بہت مفید ہے۔۔۔سردیوں کی آمد ہوتے ہی لوگوں کو نزلہ زکام کی بیماری شروع ہوجاتی ہے جس سے بچنے کے لئے یہ نسخہ بہت مفید ہے، یہ انفیکشن سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔۔۔ یہ جسم کے درد میں آرام فراہم کرتا ہے اور سستی اور تھکن کو دور کرکے توانائی فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ۔۔یہ امراض قلب کے خاتمے کے لئے بھی بہت مفید ہے ، اینٹی سیپٹک ہونے کے باعث اسے جراثیم کا دشمن تصور کیا جاتا ہے ، لہسن و شہد کو ایک طاقت بخش ٹانک بھی مانا جاتا ہے ، سستی کاہلی یا نقاہت کے باعث جسمانی اعضاء کمزور ہو رہے ہوں تو دوپہر اور شام کے کھانے کے ساتھ لہسن کے جوئے شہد میں ملا کرکھانے سے توانائی حاصل ہوتی ہے ، لہسن اور شہد کے آمیزہ میں سرکہ اور ہلدی کو ملا کر کھانے سے، دمہ ، کھانسی، سینے کا درد ، حلق کی سوجن اور نمونیے کی شکایت کو دور کیا جاسکتا ہے۔۔۔ یہ معدے اور آنتوں کی بہت سی تکالیف کے لیے مفید ہے اور خون کی شریانوں میں سختی پیدا ہونے سے روکتا ہے ۔

لہسن و شہد کھانے کے فوائد

اس کے علاوہ لہسن و شہد کو ملا کر کھانا دیگرکئی فوائد کا حامل ہے اوربہت سی خطر ناک بیماریوں کو جڑ سے ختم کرتا ہےجیسا کہ۔۔۔

لہسن و شہدموٹاپا ختم کرنے کےلیے

ہر صبح خالی پیٹ لہسن و شہد ملا کر کھانے سے موٹاپا تیزی سے کم ہوتا ہے، لہسن جب خالی پیٹ میں جاتا ہے تو گیسٹرک جوس بناتا ہے جو کھانے کو ہضم کرنے میں بہت مفید ہے، اس کے علاوہ لہسن اور شہد کا آمیزہ کولیسٹرول جذب کرنے کی بھی بہترین صلاحیت رکھتا ہےجس سے آپ کا جسم فالتو چربی نہیں بنائے گا اورموٹاپے سے محفوظ رہیں گے۔
صحت مند جلد:لہسن اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور ہوتا ہے جو خون کو صاف کر کے جلد کو تروتازہ اور چمکدار بناتا ہے، لہسن اور شہد کا آمیزہ کھانے سے جلد کی بہت سی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے جب کہ جلد سے داغ دھبوں اور جھائیوں کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے، بازار کی مہنگی اور کیمیکلز سے بھرپور پروڈکٹس خرید کر لگانے سے بہتر ہے کہ لہسن اور شہد ملا کر استعمال کر لیے جائیں۔

لہسن و شہدسوزش اور سر کے درد میں آرام کےلیے

سر کے درد اور جسم کے کسی بھی حصے میں ہونے والے درد میں آرام کےلیے بھی لہسن اور شہد کا آمیزہ بے حد مفید ہے، اس کے علاوہ وہ افراد جو زیادہ تر سُستی کا شکار رہتے ہیں ان کے لیے لہسن اور شہد توانائی (انرجی) حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

لہسن و شہدکیل اور مہاسوں سے بچاؤ

کیل مہاسے محض چہرے پر ہی نہیں بلکہ جسم کے دیگر حساس حصوں پہ بھی نکل آتے ہیں ان سے بچنے کے لیے شہد و لہسن کے آمیزے کااستعمال بے انتہا مفید ہے، شہد اور لہسن دونوںمیںیہ خصوصیت ہے کہ جلد کے تباہ شدہ خلیے اوران میں موجود میل کچیل کو ختم کرکے جلد کو ترو تازہ کرتے ہیںیہ جلد کوآلودگی سے بھی محفوظ رکھتا ہے جو کہ کیل مہاسوں کی ایک اہم وجہ ہے۔
مضبوط اور صحت مند بال:موسم کے باعث روکھے اور بے رونق ہوجانے والے بالوں کے لیےیہ ایک بہترین غذا اور علاج ہے، یہ خشکی دور کرتاہے اور بالوں میں نمی برقرار رکھتا ہے، اکثر بال دھونے کے بعد خشک ہوجاتے ہیں لیکن شہد اور لہسن کا استعمال انہیں نرم وملائم رکھتا ہےاس سے بالوں کا رنگ بھی زیادہ عرصے تک برقرار رہتا ہے، سفید اور گرتے بالوں کے لیے شہد کا استعمال بے انتہا فائدے مند ہے، جو لوگ بالوں پر رنگ کرتے ہیں ان کے لیے بھی شہد کا استعمال بے حد ضروری ہے، یہ نقصان دہ کیمیکل کا مقابلہ کرکے بالوں کو ان کی اصل شکل میں برقرار رکھتا ہے۔

لہسن و شہد سے چمکدار آنکھیں

حیرت انگیز طور پر مصریوں کا یہ ماننا تھا کہ شہد و لہسن کو کھانے کے ذریعے آنکھوں کی کئی بیماریوں پر قابو پایا جاسکتا ہے، آنکھوں پر شہد لگانے سے نہ صرف آنکھیں محفوظ رہتی ہیں بلکہ بینائی بھی تیز ہوتی ہے، کمزور بینائی رکھنے والے لوگوں کے لیے بھی شہد انتہائی مفید ہے، اس سے آنکھوں کا انفیکشن، آنکھوں کا لال ہوجانا اورآشوب چشم جیسی تکالیف پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے شوگر کے مریضوں کوموتیا جیسے امراض سے بچنے کے لیے اس کا استعمال کرنا چاہیے۔
شوگر پہ قابو پانے کے لیے:شہد قدرتی شکر حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے اس لیے اسے سفید شکر کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے، شہد اور لہسن مل جائیں تو نہ صرف جسم کو توانا رکھتےہیں بلکہ یہ سفید شکر کی طرح نقصان دہ بھی نہیں ہوتے، البتہ شوگر کے مریضوں کو اعتدال میں رہ کر شہد کا استعمال کرنا چاہیے اور اسے استعمال کرتے ہوئے اپنے شوگر لیول کو چیک کرتے رہنا چاہیے۔

لہسن و شہد امراض قلب کے خطرات 

شہد و لہسن کے آمیزہ کو استعمال کرنے سے کولیسٹرول پر قابو رکھا جا سکتا ہے، شہد خون میں ایچ ڈی ایل یعنی گڈ کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے،اس کے اند رموجود ایکس پیکٹورینٹ اور سوتھنگ جیسی خوبیا ں نظام تنفس کے انفیکشن سے بچاؤ کے لیے مفید ہیں اس آمیزہ کے استعمال سے کولیسٹرول 10فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
بہتر یادداشت:کچھ طبی تحقیقی رپورٹس میں شہد اور لہسن کی ذہنی تناؤ سے لڑنے کی صلاحیت کو ثابت کیا گیا ہے جو ایسے دفاعی نظام کو بحال کرتی ہے جو یادداشت کو بہتر بنانے میں مددگار ہے، اس سے ہٹ کر شہد میں موجود کیلشیم دماغ میں آسانی سے جذب ہوجاتا ہے جو کہ دماغی افعال پر فائدہ مند اثرات مرتب کرتا ہے۔

لہسن و شہد سےاچھی نیند

شہد میں موجود مٹھاس خون میں انسولین کی سطح بڑھاتی ہے جس سے ایک کیمیکل سیروٹونین خارج ہوتا ہے جو کہ میلاٹونین نامی ہارمون میں تبدیل ہوجاتا ہے، جو اچھی نیند کے لیے ضروری ہوتااور اگر اس میں لہسن بھی شامل ہو جائے توانسانی جسم میں موجود انسولین کے نقصان دہ اثر ات کو زائل کر دیتا ہے۔

لہسن و شہدمعدے کے لیے فائدہ مند

لہسن وشہد کا آمیزہ جراثیم کش ہونے کی وجہ سے خالی پیٹ ایک چمچ کھانا متعدد ایسے امراض سے تحفظ دیتا ہے جو نظام ہضم سے جڑے ہوتے ہیں، معدے تک جاتے ہوئےیہ جراثیموں کو ختم کرکے جسم کے اندر چھوٹے زخموں کو بھی بھر دیتا ہے۔

no image

سفید پیاز کے فوائد

پیاز دنیا بھر میں مشہور سبزی ہے، روزمرہ استعمال میں آنے کی وجہ سے ہر کوئی اس سے بخوبی واقف ہے، اس کی چند اقسام ہیں، ہر قسم کی تاثیر یکساں ہے، عام طور پر سفید اور سرخ رنگوں میں یہ قدرت کا ایک انمول عطیہ ہے، اسے سالن پکاتے وقت مصالحہ کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے، بطور اچار سرکہ میں ملا کر استعمال کیا جاتا ہے، اس کی چٹنی بھی تیار کی جاتی ہے اور سلاد کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے، پیاز کے بیج سیاہ رنگ کے اور نہایت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں، پیاز اور پیاز کے بیج دوا میں استعمال ہوتے ہیں، پیاز میں پروٹین، نمکیات، فاسفورس اور وٹامنز ہوتے ہیں، اسکا مزاج گرم اور خشک ہوتا ہے، کچی شکل میں پیاز سبزی کے طور پر پکایا جا سکتا ہے، اس کی مقدار خوراک دو تولہ ہے، علم طب کے پرانے حکماء نے پیاز کے اتنے زیادہ فوائد تحریر کیے ہیں کہ جان کر یقیناً آپ حیران ہو جائیں گے۔

سفید اور سرخ پیاز میں فرق

سفید پیاز سرخ پیاز سے زیادہ فائدہ مندہوتا ہے اسی لئے سفید پیاز سرخ پیاز کی بنسبت تھوڑاسا مہنگا بھی ہوتا ہے، سفید پیاز ہر قسم کی جنسی کمزوری کے مریضوں کیلئے قدرت کا انمول تحفہ ہے، اس پیاز کا باقاعدگی سےاستعمال مادہ تو لید کی افزائش کر کے جسمانی طاقت اورقوت میں اضافہ کر تا ہے اور ساتھ ساتھ یہ آپ کی آواز کو دلکش اور سریلی بنا کر آپ کو خوبصورت، سمار‌ٹ بنا دیتا ہے،زردی مائل چہرے کی رنگت ختم کر کےاسے سرخی مائل بنا دیتا ہے، سفید پیاز کو جنسی کمزوری دور کرنے کیلئے بے شمار طریقوں سے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی حکماء اس کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں تو آج کے اس مضمون میں آپ کو سرخ پیازاور سفید پیاز کے فوائد سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ سفید پیازسےجنسی کمزوری کو دور کرنے کا ایک نہایت ہی آسان نسخہ بھی بتائیں گے۔

سفید پیاز شوگر اور دل کے امراض

صحت کیلئے انتہائی مفید غذائیت سے بھر پور سفید پیاز اعصاب کو طاقت بخشتا ہے، اس میں موجود سیلینیم، انسانی مزاج کودرست رکھتاہے، آپ کو تفکرات، ڈپریشن اور تھکاوٹ کا شکار نہیں ہونے دیتا، سفید پیاز میں موجود کرومیم شوگر کے مریضوں کی شوگر کنٹرول میں رکھتا ہے،سفید پیاز کرومیم کا ایک ذریعہ ہے، اس کی وجہ سے یہ خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے اور انسولین مزاحمت کے معاملات کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتے ہیں،کوریا میں پلانٹ ریسورس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے پتہ چلا ہے کہ سفید پیاز شوگر سے لڑنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ یہ پلازما گلوکوز کی کم سنجیدگیوں میں مدد کرتا ہے اور وزن میں کمی کی بھی مدد کرتا ہے،سفید پیاز میں پایا جانے والاایک جوہر سلفائیڈ، خون کو پتلا رکھتا ہے، سفید پیاز کولیسٹرول کی مقدار کو متوازن رکھتا ہے، جس کی وجہ سے بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے اور آپ دل کے امراض سے محفوظ رہتے ہیں، سفید پیازوں میں فلیونائیڈز موجود ہوتا ہے، جو آپکے دل کو صحت مند رہنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ ان میں مرکبات ہیں، جو دل کی بیماری کو روکنے میں مدد کرتے ہیں، اگر آپ اپنے کھانے میں مرکبوں کو شامل کرتے ہیں تو آپکو دل کی بیماری کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، دور جدید میں ہارٹ فیل ہوجانا بے حد عام ہو چکا ہے، چنانچہ برطانوی اسپتالوں میں مختلف تجزیوں کے بعد معلوم کیا گیا ہے کہ سفید پیاز کا مسلسل استعمال دل کے امراض سے محفوظ رکھتا ہے، سفید پیاز کے بارے میں ایک اور اہم چیز یہ ہے کہ یہ خون پتلا کرتا ہے جس سے اسٹروک اور دل کی بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

سفید پیاز اور معدہ کے امراض

سفید پیاز استعمال کرنے سے جریان دور ہو جاتاہے، سفید پیاز میں فینول اور فلیونائیز ہوتے ہیں، جو آپ کو آنت کے کینسر سے محفوظ رکھتے ہیں، چالیس سال سے زائدعمر افراد کو پراسٹیٹ غدود بڑھنے کی وجہ سے پیشاب میں رکاوٹ پیدا ہونے کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ا یسے مریضوں کیلئے سفید پیاز کا استعمال بہت فائدہ مند ہوتا ہے، سفید پیاز پیشاب آور، اور جراثیم کش بھی ہے، اس سے پیشاب بکثرت آتا ہے اس کے علاوہ سفید پیاز کےاینٹی بیکٹریل خواص ، پیشاب کی نالی کے انفیکشن کو کنٹرول کر کے مثانے کی سوزش کو ختم کر کے پیشاب کے فاسد مادوں اور جراثیم کو باہر نکالنے میں بھی معاونت کرتے ہیں، سفید پیاز کا استعمال جراثیم اور کیڑوں کو ہلاک کرتا ہے ،سفید پیاز نظام انہضام کی اصلاح کرتا ہے، فوڈپوائرزننگ سے بچاتا ہے، قبض اور بواسیر کو کنٹرول کرتا ہے، موسم گرما میں پیا ز کا استعمال گرمی کی شدت سے محفوظ رکھتا ہے اور لو سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے، پھیپھڑوں کے افعال کو بہتر کر کے بلغم، کھانسی اور دمہ کے مریضوں کو صحت عطا کرتا ہے،امراض چشم کے مریضوں کیلئے سفید پیاز کا استعمال انتہائی مفید ہے۔

سفید پیاز کے متفرق ٹوٹکے

نہار منہ پچیس گرام سفید پیاز کا پانی پینے سے گردہ مثانہ کی پتھری ریزہ ریزہ ہوکر خارج ہوجاتی ہے، سفید پیاز میں سلفر پایا جاتا ہے، جو بالوں کی افزائش کیلئے بہت مفید ہوتا ہے اسلئے گنجے سر پر دوبارہ بال اگانے کیلئے اور سر کی جوئیں مارنے کے لئے سفید پیاز کے پانی سے لیپ کو بہت مفید خیال کیا جاتا ہے، ہیضے کے دنوں میں سفید پیاز کو پھوڑ پھوڑ کر جگہ جگہ گھر میں اس طرح رکھا جائے کہ سارے گھر میں سفید پیاز کی بو سما جائے، یہ ہیضے سے محفوظ رہنے کی نہایت عمدہ تدبیر ہے،گٹھیا کے مرض میں سفید پیاز کا پانی اور رائی کا تیل ملاکر جوڑوں پر مالش کریں، اس سے سب جوڑ کھل جائیں گے اور آرام آجائے گا، گلے کی سوزش کے لیے سفید پیاز پیس کر دہی اور شکر ملاکر کھانے سے ٹھیک ہو جاتا ہےاگر نکسیر بند نہ ہوتو ناک میں دو یا تین قطرے سفید پیاز کا پانی ڈالنے سے ناک سے خون بہنا رک جائے گا، خونی پیچش میں مبتلا مریض کو ، دہی میں سفید پیاز کا پانی ملا کر کھلانے سے فوری افاقہ ہوتاہے، الرجی، سوزش، برص اوردانتوں کے درد کے مریض بھی اس کو کھا کر شفاء حاصل کر سکتے ہیں،دیگر ریسرچز سے پتہ چلتا ہے کہ وہ خواتین جو سفید پیاز کا استعمال کرتی ہیں انکی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں،فرانس میں سفید پیاز کا سوپ شوق سے پیا جاتا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ دوسرے یورپی ملکوں کے مقابلے میں فرانس میں دل کے امراض کم ہوتے ہیں،دوسری جنگ عظیم میں روسی ڈاکٹروں نے محاذ جنگ پر زخمی ہونے والے سپاہیوں کا علاج محض کچی پیاز سے کیا تھا، زخم پرسفید پیاز باندھ دی جاتی اور ایک دو دن کے اندر اندر زخم خشک ہو جاتے تھے، زکام کی وجہ سے ناک سے پانی بہہ رہا ہوتو سفید پیاز کا پانی سونگھنا اور سفید پیاز کھانا مفید ہے، پیٹ کے درد کے لیے سفید پیاز کو آگ میں گرم کر کے نچوڑیں اور پانی نکال لیں،اس میں ایک ماشہ نمک ملا کر مریض کو کھلائیں، درد جاتا رہے گا،اگرہم یہ کہیں کہ صرف ایک سفید پیاز میں اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں بیمارویوں کا علاج رکھا ہے تو غلط نہ ہوگا،

سفید پیاز اور قوت باہ

اب ہم آپ کو جنسی کمزوری دور کرنے کے لئے پیاز کا ایک نسخہ بتاتے ہیں، سفید پیاز کا رس اور شہد یہ دونوں چیزیں ایک ،ایک تولہ لے کرانہیں مکس کرلیں اس کایہ مکسچر دس گرام روزانہ دوپہر کے وقت، نیم گرم دودھ کے ساتھ استعما ل کریں، صرف دو ماہ استعمال کر لیں اور سال میں ایک مرتبہ پیاز اور شہدکامکسچریہ تو ضرور استعمال کر لیا کریں، ہر قسم کی جنسی کمزوری دور کرنے کے لئے بہترین نسخہ ہے، اگر آپ اس کو مزید پاور فل بنانا چاہتے ہیں تو تیس سال سے زائد عمر کے افرد اس میں چند چیزیں اور شامل کر لیں تو یہ ایک بہتر ین معجون بن جائے گا، جو آپ کے ارمان پورے کر دے گا، سفید پیاز کی اس معجون میں تمام اشیاء کی مقدار درج ذیل رکھ لیں، سفید پیاز کا رس بیس تولہ ، تخم کونچ مدبردس تولہ ، لونگ کیپ دس تولہ ، شہدآدھا کلو ،تخم کونچ مدبر کرنے کے لئے انہیں مقدار سے چار گنا زیادہ دودھ میں ابال کر چھلکا نرم کر لیں، جب چھلکا آسانی سے اتارنا ممکن ہو دودھ کو آگ سے اتار کر ٹھنڈا کر لیں، چھلکا اتار کر مغز تخم کونچ دھوپ میں خشک کرنے کے بعد گرینڈ کر کے استعمال کر لیں، تخم کونچ کا چھلکا اور دودھ ضائع کر دیں اسے استعمال نہ کریں۔۔۔

سفید پیاز کا پاؤڈر

سفید پیاز کے رس کی بجائے اس کا پاوڈر بھی استعمال کر سکتے ہیں،کمرشل بنیادوں پر بھی سفید پیاز کا پاؤڈر مل جاتا ہے لیکن اگر آپ خود تیار کر لیں تو یہ سب سے بہتر ہے اگر اس کو اچھی طرح خشک کیا گیا ہو تو اس کی شیلف لائف ایک سال تک ہوتی ہے زیادہ بہتر یہ ہے کہ اتنی مقدار تیار کی جائے جو چھ ماہ کیلئے کافی ہو چھ ماہ کے بعد دوبارہ تیار کر لیا جائے، اگر آپ اس کو شہد میں مکس کر کے رکھیں گے تو اس کے خراب ہونے کے چانسز بہت کم ہوں گے اور اگرآپ کے پاس سفید پیاز کی معجون بنانے کیلئے وقت نہیں ہے تو اس کا حل بھی ہے روزانہ چھوٹے سائز کا آدھا سفید پیاز دوپہر کے وقت کھانے کی عادت ڈال لیں، جب تک سفید پیاز نہیں ملتا اس وقت تک سرخ پیاز استعمال کر لیں یہ بھی بہت فائدہ مند ہوتا ہے، جب سفید پیاز لے آئیں تو اس کو دوپہر کے کھانے کا حصہ بنا لیں ساری زندگی جنسی کمزوری کی شکایت نہیں ہو گی اور دیگر سینکڑوں بیماریوں سے بھی محفوظ ہو جائیں گے، سفید پیازکو صبح یا شام کے اوقات میں کھانے کو مردانہ صحت کیلئے نقصان دہ خیال کیا جاتا ہے اس لئے سفید پیاز کو ہمیشہ دوپہر کے وقت استعمال کریں۔

no image

جسم کو موٹا بنانے اور وزن بڑھانے کا نسخہ

حضرات جن کا جسم دبلا پتلا ہے اب پریشان نہ ہوں جسم کو موٹا اور سڈول بنانے والوں کیلئے خاص تحفہ حاضر خدمت ہےیہ نسخہ اعصابی کمزوری، دماغی کمزوری، نظر کی کمزوری اور جسم کے تمام پٹھوں کو طاقت دیتا ہے اور اس کے مسلسل استعمال سے سوکھے سڑے انسان موٹا تازہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں خشک گرم اور گرم خشک مزاج والوں کیلئے زبردست رزلٹ کی حامل ہے۔ آج کل کے نوجوان اکثر جسم کو موٹا کرنے کے چکر میں اپنے گردوں کو ناکارہ کرچکے ہیں۔ ایسی تمام ادویات سے وقتی طور پر تو فرق پڑجاتا ہے لیکن اس کے بعد کے نتائج نہایت خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ خدارا ایسی ادویات سے بچیئے اور اپنے پیاروں کو بھی بچائیے۔ کافی دنوں سے بہت سے مریض بار بار فون یا وٹس ایپ پر رابطہ کر کے پوچھ ریے تھے کہ جسم کو موٹا کرنے کا دیسی علاج بتایا جائے ۔مگر کیا کروں مصروفیت بہت تھی اور وقت نہ ہونے کے سبب نسخہ لکھنے تھوڑی میں دیر لگی کیونکہ دواخانے پر مریضوں کا رش ہونے کے باعث ٹائم نہیں ملتا تھا لیکن اب آپ سب کی خدمت میں یہ نسخہ پیش خدمت ہے۔ اس سے نا صرف آپ کا جسم فربا اور موٹا ہوگا بلکہ پچکے گال کلائیاں کو بھی بھرے گا۔

جسم موٹا بنانے کا نسخہ

نمبر ایک۔اسگند ناگوری سو گرام 
نمبر دو۔بادام سو گرام 
نمبر تین۔ پستہ سو گرام
نمبر چار ۔ قسط شیریں سو گرام
نمبر پانچ۔ برہمی بوٹی سو گرام
نمبر چھ۔ ستاور پچاس گرام
نمبر سات ۔السی پچاس گرام
نمبر آٹھ ۔اناردانہ پچاس گرام
نمبر نو۔سونٹھ پچاس گرام
نمبر دس۔ زیرہ سفید پچاس گرام
نمبر گیارہ۔کالی مرچ پچاس گرام
نمبر بارہ۔کوزی مصری پانچ سو گرام

جسم موٹابنانےکے نسخہ کی ترکیب تیاری

تمام اجزا کو صاف کر کے سفوف پاؤڈر بنا لیں ۔

جسم موٹابنانے کے نسخہ کی ترکیب استعمال

صبح شام ایک چمچ نیم گرم دودھ کے ساتھ کھائیں

no image

کریلے کا مزاج اور کریلے کے طبی فائدے 

کریلےکا ادویاتی نام

(Hairy Mordica)

لاطینی زبان میں کریلے کو

Mordica Charntia

کریلےکا تعارف

اس کی بیل درمیان سے دھاگے کی طرح بہت لمبی ہوتی ہ اور اس کے پتے پھٹے ہوئے کھردرے ان پر کانٹے ہوتے ہیں پھول زرد رنگ کے جو نرم اورخوبصورت ہوتے ہیں ۔کریلاایک انچ سے لے کرپانچھ چھ انچ تک لمبے دونوں سروں پر پتلے اور درمیان سے موٹے ہوتے ہیں ۔کریلے کے اوپر چھوٹے پھوڑوں کی طرح ابھار ہوتے ہیں ۔تخم کدو کی طرح اور کھردرے ہوتے ہیں اور کدو کے بیجوں سےبڑے ہوتے ہیں ۔

کریلے کی اقسام

دیسی کریلا

کریلے کی اس قسم میں یہ پتلے اور کافی لمبے ہوتے ہیں جو کھانے میں بھی لذیز ہوتے ہیں۔

جنگلی کریلا

اس کی ایک قسم جنگلی ہے۔اس کے اوپر کریلے کی طرح ابھار تو ہوتے ہیں لیکن ان کی طرح بیج نہیں ہوتے ۔ان کا ذائقہ کریلے کی طرح ہوتا اور اس کو مرض زیابیطس میں مفیدخیال کیاجاتاہے اس کو سندھ کے اکثر علاقوں میں چوہنگ کہتے ہیں ۔لیکن یہ چوہنگ نہیں وہ الگ قسم کی سبزی ہے۔

کریلے کا مزاج

گرم خشک۔بدرجہ سوم

کریلے کے افعال

مقوی معدہ ،ملین شکم ،منفث بلغم ،قاتل کرم شکم، دافع موٹاپا،دافع ذیابیطس شکری ۔

کریلےکا طبی فائدہ

امراض بلغمی میں مفید ہے

کریلے کے سائیڈ ایفیکٹ

کریلے زیادہ کھانے سےکریلا خشکی پیداکرتاہے۔

کریلے کی اصلاح

مرچ سیاہ ،فلفل دراز، گھی۔

کریلے کی مقدارخوراک

پتوں کا پانی ایک تولہ سے دوتولہ
سفوف خشک کریلاایک سے تین گرام تک۔

کریلے کے عام فوائد

کریلا ایک بیل کا پھل ہے، کچا پھل بہت کڑوا اور ہرے رنگ کا ہوتا ہے لیکن پختہ ہونے پر سرخ اور کچھ کم کڑوا رہ جاتا ہے، اس کے بیجوں کا گودا میٹھا ہوتا ہے، کریلا بستانی اور جنگلی دو قسم کا ہوتا ہے، اس کی ایک قسم سفید ہے جو اکثر راجستھان میں ایک فٹ تک لمبی ہو جاتی ہے، یہ قسم اچھی ہے اس کا چھلکا باریک ہوتا ہے، ایک کریلا گرمی میں اور دوسرا برسات میں ہوتا ہے، کریلے کو پکانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے اوپر کا چھلکا چھیل دیتے ہیں اور پیٹ چاک کر کے بیج نکال دیتے ہیں، پھر نمک مل کر تین چار بار دھوتے ہیں ایسا کرنے سے تلخی دور ہو جاتی ہے پھر پیاز کاٹ کر تیل میں بھون لیتے ہیں اور اس میں کریلا کبھی گوشت کے ساتھ اور کبھی دال کیساتھ پکاتے ہیں توآج کے اس مضمون میں ہم آپ کو اس کے ایسے لاجواب فوائد اور استعمال کرنے کا درست طریقہ بتائیں گے جو آپ کے ادویات کی مد میں خرچ ہونے والے لاکھوں روپے بچا سکتے ہیں اور ساتھ اس کو پکانے کا صحیح طریقہ بھی بتائیں گے۔

کریلا کا خاص طبی راز

 قدرتی غذاؤں کے انسائیکلو پیڈیا میں کریلوں کے فوائد میں ایک واقعہ تحریر ہے لکھتے ہیں کہ ہمارے پڑوس میں ایک صاحب عبد اللہ شاہ آیا کرتے تھے، عمر میں سو سال سے اوپر تھے، مگر چست اور توانا۔ روزانہ تین چار میل پیدل چلتے، ان کی نظر بھی کمزور نہیں تھی، باریک لفظوں والاقرآن پاک پڑھتے، کمر جھکی نہیں تھی، دانت بلکل سلامت تھے، وہ جب کبھی آتے ان کے ملنے والوں میں افراتفری مچ جاتی، دوپہر کے کھانے میں شاہ صاحب صرف کریلے کھاتے طرح طرح کے پکوان کریلوں سے بنائے جاتے، بازار میں دستیاب نہ ہوتے تو ان کیلئے تلاش کر کے لائے جاتے، کچھ معتمد تو ایسے تھے کہ ہر موسم میں کریلے اگاتے تا کہ شاہ صاحب کو کھانے میں کوئی شکایت نہ ہو شاہ صاحب کہا کرتے، ’’ صحت کا راز کریلوں میں ہے، آج تک میرے بدن پر گرمی کے موسم میں پھوڑا پھنسی نہیں نکلی، خارش نہیں ہوئی، میرا رنگ اس عمر میں بھی سرخ و سفید ہے، میں ٹانک یا کشتے استعمال نہیں کرتا صرف دن میں ایک بار کریلے ضرور کھاتا ہوں ، مجھے شوگریا گنٹھیا کا عارضہ نہیں ، اللہ کا شکر ہے من بھر سامان اٹھا کر چار میل گرمی میں بھی چل سکتا ہوں۔

دوستو! کریلا اعلیٰ قسم کی طبی خوبیوں سے مالامال ہے، عام جسمانی امراض میں بھی کریلا بطور دوائی استعمال ہوتا ہے، اس کا پابندی سے کھانا جوڑوں کے درد کے مریضوں کیلئے بہت فائدہ مند ہے، اسی طرح نقرس اور گنٹھیا کے مریض بھی اس سے بہت استفادہ حاصل کرتے ہیں، ان امراض میں کریلوں کا سالن بہت مفید ہے، علاوہ ازیں فالج اور لقوہ اور دیگر اعصابی امراض میں بھی کریلے کے فوائد بہت نمایاں ہوتے ہیں،کریلوں کے استعمال سے اعصاب میں تحریک ہوتی ہے اور کریلے اعصاب کی قوت کی بحالی کیلئے اہم کردار ادا کرتے ہیں، کریلا چونکہ تمام ضروری معدنی اجزاءاور وٹامنز بالخصوص وٹامن اے، بی سی اور آئرن کی غذائی صلاحیت رکھتا ہے چنانچہ اس کا باقاعدہ استعمال ہمیں بہت سی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتا ہے، جن میں ہائی بلڈپریشر، آنکھوں کے امراض، اعصاب کی سوزش اور کاربوہائیڈریٹس کا ہضم نہ ہونا شامل ہے، کریلوں کا استعمال انفیکشن سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

کریلا اور بواسیر

کریلوں کے تازہ پتوں کا جوس بواسیر میں بہت مفید رہتا ہے، چائے کے تین چمچے پتوں کا جوس، ایک گلاس لسی میں ڈال کر روزانہ صبح ایک ماہ تک پینا بواسیر کے عارضہ کو دور کر دیتا ہے، کریلوں کی جڑوں کا پیسٹ بواسیر کے مسوں پر لگانا بھی بہت مفید ہے۔

کریلا سے خون کی صفائی

خون کے متعدد امراض جن میں فساد خون سے پھوڑے پھنسیاں نکلنا، خشک خارش،تر خارش، چنبل اور بھگندر شامل ہیں، انکا علاج کرنے کیلئے کریلا بہت کارآمد ہے، تازہ کریلوں کا جوس ایک کپ، ایک چائے کا چمچ لیموں کا رس ملاکر صبح نہار منہ چسکی چسکی پینا مفید رہتا ہے، پرانے امراض میں یہ علاج چار سے چھ ماہ تک جاری رکھنا پڑتا ہے، جن علاقوں میں جذام پھیل جائے وہاں کریلوں کا استعمال اس سے تحفظ دیتا ہے، کریلے کے پودے کی جڑوں کو قدیم زمانے سے سانس کی بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا جارہا ہے، جڑوں کا ملیدہ ایک چائے کا چمچ اور اسی مقدار میں شہد یا تلسی کے پتوں کا جوس ملاکر ایک ماہ تک روزانہ رات کو پینے سے دمہ، زکام، گلے کی سوزش اور ناک کے استر کی سوزش کا عمدہ علاج میسر آتا ہے، کریلے کا استعمال بیشتر افراد کھانے میں کم ہی کرتے ہیں اور اکثر لوگوں کو تو کریلا پسند ہی نہیں آتا کیونکہ قدرتی طور پر کریلا ذائقے میں کافی کڑوا ہوتا ہے۔

کریلا اور شوگر

طب کے ماہرین بتاتے ہیں کہ کریلا انسان کو کئی مہلک بیماریوں سے بچاتا ہے اور انسان کو ہشاش بشاش بھی رکھتا ہے، کریلے کے کڑوے پن سے ہی کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں اور اگر شوگر، دل، کولیسٹرول اور گردے میں پتھری والے مریض کریلے کا استعمال کریں تو وہ جلد صحت یاب ہوسکتے ہیں، کریلے کی پیداوار پورے سال نہیں ہوتی یہ صرف گرمیوں کے موسم میں ہی دستیاب ہوتا ہے، اسی طرح شوگر کے مریضوں کیلئے کریلا سب سے بہترین غذا ہے، حالیہ طبی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں انسولین سے مشابہہ ایک مادہ پایا جاتا ہے، اسے نباتاتی انسولین کا نام دیا گیا ہے، یہ مادہ خون اور پیشاب میں شوگر کی مقدار کم کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ طبیب کریلے کا استعمال غذا کے طور پر شوگر کے مریضوں کو باقاعدگی سے کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، زیادہ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے شوگر کے مریضوں کو چار پانچ کریلوں کا پانی روزانہ صبح نہار منہ پینا چاہئے، کریلوں کے بیج کا سفوف بناکر غذا میں شامل کرنا بھی بہتر ہے، شوگر کے مریض کریلوں کو ابال کر ان کا پانی یعنی جوشاندہ بنا کرپئیں یا ان کا سفوف استعمال کریں تو ان شاء اللہ شفاءیاب ہوں گے، اسکے علاوہ یہ جسم میں موجود لبلبہ جو کہ انسولین بناتا ہے اس کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے، کریلے کا استعمال ضرورت سے زیادہ ہرگز نہ کریں ورنہ یہ خطرناک حد تک شوگر کی مقدار کو کم کردیتا ہے ،روزانہ کی بنیاد پر شوگر کا ٹیسٹ لازمی کروائیں، اسی طرح گردے میں پتھری کی بیماری بہت تکلیف دہ ہوتی ہے اور اگر اسکا بروقت علاج نہ کیا جائے تو آپکا گردہ خراب بھی ہوسکتا ہے، طبی ماہرین کے مطابق کریلے کا جوس گردوں میں سے پتھری نکالنے کا باعث بنتا ہے اور اس طرح مریض کو تکلیف بھی کم ہوتی ہے، کریلے کا جوس گردوں میں موجود ہائی ایسڈ کو کم کرتا ہے، گردے کے مریض دن میں کم از کم دو کپ کریلے کا جوس ضرور پئیں، لیکن پہلے اپنے معالج سے مشورہ کر لیں، اس کے علاوہ کریلے کا استعمال جسم میں غیرضروری کولیسٹرول کو بڑھنے سے روکتا ہے، جسم میں کولیسٹرول کی مقدار ایک خاص حد تک ہونی چاہیئے ورنہ یہ خطرناک بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ کولیسٹرول کے کم ہونے سے آپ امراض قلب، دل کے دورے اور فالج جیسی مہلک بیماریوں سے بچ سکتے ہیں، جس شخص کا کولیسٹرول ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے تو اسکو چاہیئے کہ کریلے کا استعمال کرنا شروع کردے کیونکہ کریلے میں کولیسٹرول نہیں پایا جاتا، جسم میں کولیسٹرول کی تشخیص صرف خون کے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہے، اس کے علاوہ لبلبہ انسانی جسم میں معدے کے پچھلے حصے اور جگر کے بلکل پاس ہوتا ہے، لبلبے کو ہم انگریزی میں پینکریاز کے نام سے جانتے ہیں، مختلف بیماریوں کیساتھ ساتھ لبلبے کے کینسر میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے، کریلے میں کینسر سے بچنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں اور کریلے کا جوس لبلبے میں موجود کینسر سیل کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے، اسکے علاوہ کریلے کا جوس لبلبے کے کینسر سیل کی گلوکوز کو میٹابولائز کرنے کی صلاحیت کو روکتا ہے، اس کے علاوہ کریلے کو کھانے میں پکائیں یا پھر اسکا جوس پئیں، دونوں صورتوں میں کریلے کا استعمال انسانی جلد کو فائدہ دیتا ہے ۔

کریلے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسکے روزانہ استعمال سے انسانی جلد چمکنا شروع ہوجاتی ہے اور آہستہ آہستہ رنگ بھی صاف ہوجاتا ہے، دراصل کریلا انسانی جسم میں موجود خون کو صاف کرتا ہے اور اسکے اثرات جلد پر پڑنا شروع ہوجاتے ہیں، جلد کو اچھا اور خوبصورت رکھنے کیلئے کریلے کے سوپ کا استعمال ضرور کریں، اسی طرح بیشتر افراد جسم کے غیر ضروری بڑھنے سے پریشان نظر آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اسمارٹ نظر آئیں، اگر آپ اپنے وزن کو کم کرکے اس کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو کریلے کا استعمال شروع کردیں کیونکہ کریلے میں کیلوریز کی مقدار انتہائی کم پائی جاتی ہے اور یہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے، اس کیلئے آپ کریلے کا سالن بھی استعمال کر سکتے ہیں اور اس کا جوس بھی پی سکتے ہیں، اس کے علاوہ کریلے میں’’وٹامن کے‘‘ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، وٹامن کے ہڈیوں کو صحت مند بناتا ہے، خون کو جمنے سے روکتا ہے اور سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد وٹامن کے سے اپنی تکلیف کو کم کرنے کیساتھ سوجن کو بھی کم کرسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ بیشتر افراد جگر کے مسئلے کا شکار رہتے ہیں، کریلے کا ایک کپ جوس روزانہ پینے سے آپ جگر کے کئی مسائل سے بچ جائینگے، کریلے کا جوس ایک ہفتہ روزانہ پینے سے آپ واضح فرق محسوس کریں گے، اسکے علاوہ یہ عمل نظام انہضام اور گال بلیڈر فنکشن کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتا ہے،کریلے کا استعمال قوت مدافعت کو بڑھانے، بالوں کو چمکانے اور خشکی وغیرہ کو ختم کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے، اسی طرح کریلا فائبر سے بھرپور ہوتا ہے، فائبر سے بھرپور غذائیں دیر تک پیٹ بھرے رکھنے کا احساس برقرار رکھتی ہیں، چونکہ فائبر کو ہضم ہونے میں وقت لگتا ہے تو بے وقت منہ چلانے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی، اس سبزی میں پانی کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے اور گرمیوں کے لیے اسے بہترین سبزی بناتا ہے، مختلف بیماریوں میں اس کے استعمال کے تین طریقے ہیں، ایک یہ کہ اس کا سالن بنا کر استعمال کریں، دوسرا اس کا جوس استعمال کریں، تیسرا اس کا سفوف بنا کر استعمال کریں اور چوتھا طریقہ ہے اس کا سلاد بنا کر استعمال کریں۔

کریلا کی کڑواہٹ دور کرنے کا طریقہ

اب آپکو اس کی کڑواہٹ نکالنے کے طریقے اور کس طرح پکانا ہے وہ بتاتے ہیں، کریلے کی کڑواہٹ کم کرنے کے لیے سب سے پہلے تو اس کی اوپری کھردری سطح کو کھرچ دیں، اس سطح کو اتنا کھرچیں کہ یہ ہموار ہوجائے، اس کے بعد کریلے کے ٹکڑے کرلیں اور بیجوں کو نکال دیں،اس کے بعد کریلے کے ٹکڑوں کو نمک کی اچھی خاصی مقدار میں رگڑیں، اس کے بعد ایک گھنٹے کیلئے برتن میں ڈال کر رکھ دیں، ایک گھنٹے بعد ان کو اچھی طرح دھو لیں اس کی کڑواہٹ ختم ہو جائے گی، کرواہٹ دور کرنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ کریلے کے ٹکڑے دہی میں کم از کم ایک گھنٹے تک ڈبو کر رکھیں اور اس کے بعد فرائنگ پین میں تیل ڈال کر گرم کریں پھر کریلے اس میں ڈال کر فرائی کریں، جب کریلے اچھی طرح فرائی ہو جائیں تو ان کو ایک پلیٹ میں نکال لیں اور اسی تیل میں پھر پیاز ڈال کر فرائی کریں، نمک مرچ ہلدی اور دھنیا ملا کر کریلوں کے اندر لگائیں اور باقی بچا مصالحہ پیاز میں ڈال دیں، جب پیاز فرائی ہو جائیں تو کریلے ڈال کر ۲۰منٹ تک دم پر رکھ دیں، ان شاء اللہ مزے دار کریلوں کا سالن تیار ہو جائے گا۔