پپیتے کا مزاج اور اس کے فوائد
یہ بات ہمارے لیے باعث تسکین ہے کہ جو پھل اور سبزیاں ہم بطور غذا کھاتے ہیں وہ صرف ہمارا پیٹ ہی نہیں بھر رہی ہوتیں بلکہ ان سے ہمارے جسم کو غذائیت اور بہت سے امراض سے تحفظ بھی مل رہا ہوتا ہے، جب ہمیں ان پھلوں اور سبزیوں میں موجود غذائیت اور ان کا ہماری صحت پر اچھے اثرات کا علم ہوتا ہے تو ہمیں ان کو اپنے ہر کھانے میں ہی بلکہ اسنیک کے طور پر بھی شامل کرنے میں ہچکچانا نہیں چاہئے۔۔۔ قدرت نے پھلوں اور سبزیوں میں رنگوں کے مطابق بھی ہمارے لیے بیش قدر فوائد رکھے ہیں، ہر رنگ کے پھلوں اور سبزیوں میں مختلف وٹامنز، معدنیات اور غذائیت موجود ہے،پھلوں اور سبزیوں کا ایک ایسا گروپ بھی ہے جو اینٹی آکسیڈنٹس کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اس گروپ میں وہ تمام پھل اور سبزیاں شامل ہوتے ہیں جن کی رنگت پیلی اور نارنجی مائل ہوتی ہے۔۔۔ پپیتا بھی اسی گروپ کا ممبر ہے جس میں اینٹی آکسیڈنٹس، کیروٹینائیڈز اور بائیو فلیوونائیڈز کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔
مختلف نام
اردو میں پپیتا یا ارنڈ خربوزہ یا ارنڈ ککڑی کہتے ہیں
عربی میں شجر البیطخ
گجراتی و سندھی کاٹھ گدرا کہتے ہیں
انگریزی میں پپایا کہتے ہیں۔
مقام پیدائش
یہ امریکہمیں عام پایا جانے والا درخت ہے مگر اب سارے ہندوستان و پاکستان اور اسکے پڑوسی ممالک اور اسکے علاوہ تمام گرم ممالک میں پایا جاتا ہے اور خوب پھلتا پھولتا ہے۔
شناخت
یہ ایک نرم تنے کا سبز رنگ کا درخت ہے جس میں دودھ نما رس ہوتا ہے اور اس کی چھال پتلی اور بھدی سبز رنگ کی ہوتی ہے۔تنے کے اوپری سرے پر بڑے لمبے لمبے پتوں کا گچھا نکلتا ہے۔پتوں کی ڈنڈیا ں بہت لمبی ہوتی ہیں۔پھول ہلکے زرد رنگ کے خوشبودار ہوتے ہیں۔پھل میں بیج کافی مقدار میں ہوتے ہیں اور یہ بیج کسی پھل میں کم اور کسی میں زیادہ بھی ہوتے ہیں۔
پپیتے کا مزاج
سرد تر
مقدار خوراک
ساٹھ سے اسی گرام ایک وقت میں
پپیتے کے عام دیگر فوائد
پپیتا مشرق میں پیدا ہونیوالاایک عام پھل ہے ماہرین کے مطابق اس پھل میں اینٹی کیسز خصوصیات پائی جاتی ہیں، محققین نے افزودہ رسولیوں کے خلاف پپیتا کی سرطان کش خصوصیات کے بارے میں دستاویزا ت جمع کی ہیں۔۔۔بتایا جاتا ہے کہ امریکہ دریافت کرنے والے کرسٹوفر کولمبس نے پپیتے کو فرشتوں کا پھل قرار دیا تھا۔۔۔بحریہ کرپئین کے آس پاس قبائلی افراد کھانے کے بعد پپیتا کھا لیا کرتے تھے جس کے نتیجے میں انہیں کبھی بد ہضمی کی شکایت نہیں ہوتی تھی۔۔۔پپیتا 28سے100سینٹی میٹر لمبا ہوتا ہے اور اس کی بیرونی جلد سبز رنگ کی ہوتی ہے، پھل کے اندر چھوٹے چھوٹے درجنوں کالے رنگ کے بیج ہوتے ہیں سارا سال دستیاب ہونے والے اس سدا بہار پھل کا زیادہ تر استعمال موسم گرما میں کیا جاتا ہے، غذائی اعتبار سے یہ پھلوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے، پکا ہوا پپیتا پھل اور کچا بطور سبزی استعمال ہوتا ہے، اس میں وٹامن اے، سی، ای، فاسفورس، پوٹاشیم، کیلشیم، کاربوہائیڈریٹ اور دیگر غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں،جو انسانی صحت پر مؤثر اثرات مرتب کرتے ہیں، پپیتا قبض کشاء پھل ہے جس میں فائبر کی موجودگی کولیسٹرول لیول کم کرنے کا سبب بنتی ہے۔۔۔ ماہرین کے مطابق دو یا تین دن تک اگر پپیتے کا متواتر استعمال کیا جائے اور اس دوران کوئی اور غذائی اشیاء استعمال نہ کی جائیں تو یہ معدے اور آنتوں پر ٹانک اثرات مرتب کرے گا۔۔۔شوگر اور دل کے امراض میں مبتلا افراد کیلئے بہترین پھل تصور کیا جاتا ہے، طبّی طور پر پپیتے کے فوائد اہمیت کے حامل رہے ہیں تلی اور جگر کے مریضوں کیلئے اکسیر اور بواسیر میں مفید ہے اس کا شربت سینے کی بلغم نکالنے میں معاون کردار ادا کرتا ہے۔۔۔ پپیتے کا چھلکا اور اس کے پتے چوٹ یا زخم کی سوزش ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیںپپیتے کی ایک اہم ترین غذائی خصوصیت ہے جسے پاپیین کہتے ہیں،پپیتے میں موجود یہ مادہ ہمارے جسم میں تیار ہونیوالے دیگر مادوں کے ساتھ مل کر کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے اس سے تیزابیت اور سینے کی جلن کا خاتمہ ہوتا ہے۔۔۔کچے پپیتے میں پاپیین اس وقت دودھ کی صورت میں نظر آتا ہے جب چھلکے کو کاٹا جاتا ہے اس دودھ کو براہ راست زخم، دانوں، مہاسوں، چہرے کے داغ دھبوں پر لگایا جا سکتا ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی کاسمیٹکس کی مصنوعات میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔اس پھل میں کیلشیم، کلورین، آئرن فاسفورس، پوٹا شیم، سیلیکون اور سوڈیم کی بھی معمولی مقدار موجود ہوتی ہے کچے پپیتے کی مٹھاس انتہائی درجہ لذت بخش ہے،اس پھل کی دیگر خصوصیات گنٹھیا، جوڑوں کے درد اور دیر کے مریضوں کی سوزش دور کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں، یہ پھل قبض اور بواسیر سے محفوظ رکھتا ہےپپیتا کینسر جیسے مہلک امراض سے لڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے ۔۔۔ ایک تحقیق سے انکشاف ہوا کہ پپیتے میں ایسے جراثیم کُش اجزاء موجود ہوتے ہیں جو کینسر کے خلیات کا خاتمہ کرتے ہیں۔۔۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پپیتے کے پتوں میں بھی ایسے جراثیم کُش اجزا موجود ہوتے ہیں جو ریڑھ کی ہڈی کے کینسر سمیت جگر، لبلبہ اور پھیپھڑوں کے کینسر سے لڑنے کی بھی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔۔۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پپیتا کھانے سے دل کے امراض سے بچا جا سکتا ہے،پپیتے کے بیج گردوں کے فعال کو بہتر بنانے میں مدد گار ہیں ماہرین نے پپیتے کو کیڑوں کے کاٹنے سے پھیلنے والی بیماریوں کے خلاف موثر دوا قرار دیا ہے، جاپانی افراد جگر کے امراض کے لئے پپیتے کے بیجوں کو دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں،پپیتے میںکارپن اور کارپین عنصر ہوتا ہے جو بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔اس لئے بلڈ پریشر کے مریضوں کو پپیتا روزانہ کھانا چاہئے۔
پیلیا ہونے پر روزانہ پپیتا کھائیں ،اس سے نظامِ انہضام طاقت میں بھی بہتر ہوتا ہے ،اسکے بیج پاپین جیسے اینزائمز سے مالامال ہوتے ہیں جو آنتوں کے کیڑوں کو مار نے میں آپ کی مدد کرتےہیں اور ہضم نہ ہونے والے نقصان دہ پروٹین کا بھی خاتمہ کردیتے ہیں،جگر کی حفاظت کرتا ہے پپیتے کے بیجوں میں موجود اہم غذائی اجزاء جگر کیلئے انتہائی فائدہ مند ہیں یہ بیج آپ کے جگر کی تمام بیماریوں سے آپ کو بچاتے ہیں۔۔۔ آپ کو صرف پپیتے کے5بیج کولیموں کے جوس کی ایک چمچ کے ساتھ ملادینا ہے اور پورا مہینہ اسے پینا ہے جس کی مدد سے آپ جگر کی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں،پپیتے کے بیجوں کی روزانہ ایک چمچ آپ کو وائرل انفیکشن سے لڑنے میں مدد کرتی ہے اور ٹائیفائیڈ اور ڈینگی جیسے بیکٹریا سے آپ کے جسم کو محفوظ رکھتی ہے۔۔۔ ٹائیفائڈ کے علاج کیلئے یہ سب سے مفید پھل ہےسوجن کا علاج کرتا ہے،پپیتے کے بیجوں میں قدرتی طور پر دافع سوزش خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو جوڑوں کے درد اور سوجن کو دور کرتی ہیں ،وزن کو کم کرنے کیلئے پپیتے کو ناشتہ میں استعمال کرنا چاہیے، اسے سلاد اور جوس کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اس میں وٹامن سی، ای ، اے ،پایا جاتا ہے اور یہ فی 100گرام صرف 39کیلوریز فراہم کرتا ہے اور یوں وزن کنٹرول کرنے کیلئے بہترین غذا ہے۔۔۔ہاتھوں کا پیلا پن دور کرتا ہے،پپیتے میں بیٹا کروٹین پایاجاتا ہے جو جلد میں کیروٹینیمیا کی بیماری کا باعث بنتا ہے،اس بیماری سے ہتھیلیوں اور تلوؤں کارنگ پیلا پڑجاتا ہے اور آنکھیں سفید ہوجاتی ہیں، یہاں تک کہ انسان یرقان یا پیلیا جیسی خطرناک بیماری کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔۔۔ایک 5انچ لمبے پپیتے میں 60 ملی گرام کے قریب وٹامن سی ہوتی ہے ۔۔۔وٹامن سی کی اتنی مقدار جسمانی صحت کے لیے فائدے مند ہوتی ہے تاہم کسی بھی چیز کی زیادتی فائدے کے بجائے نقصان دہ ہوتی ہے ۔۔۔ لہذا وٹامن سی کی زائد مقدار صحت کے لیے خطرناک ہوتی ہے اور گردے میں پتھری کا باعث بن سکتی ہے ۔۔۔اس لیے زیادہ مقدار میں پپیتا کھانے سے گریز کریں،جگر کو زہریلے اور فاسد مادّوں سے پاک کرنے کے لیے پپیتے کے بیجوں کا استعمال روایتی چینی طب میں ہزاروں سال سے کیا جا رہا ہے اور اب یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ مصنوعی کیمیائی مادّوں سے جگر کو محفوظ کرنے میں یہ بیج بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔۔۔ جگر کا سکڑ جانا ایک خطرناک کیفیت ہے جس کا نتیجہ موت کی صورت میں نکلتا ہے لیکن اگر اس کیفیت میں پپیتے کے بیج استعمال کر لیے جائیں تو جگر کی کارکردگی بحال ہوتی ہے اور یہ اپنی معمول کی جسامت پر واپس آجاتا ہے۔۔۔البتہ اگر آپ کی طبیعت گوارا کرے تو آپ پپیتے کے ساتھ اس کے بیج بھی کھا سکتے ہیں،پپیتے کے گودے کی طرح اس کے بیج بھی غذائی نالی سے لے کر چھوٹی آنت تک، نظامِ ہاضمہ کے ہر حصے کے لیے مفید ہیں جبکہ یہ آنتوں میں موجود امیبا اور طفیلیوں کو نہ صرف ختم کرتے ہیں بلکہ انہیں دوبارہ پیدا ہونے سے بھی روکتے ہیں ایک اور طبّی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ پپیتے کے بیج السر سے بھی بچاتے ہیں،آپ نے پپیتے کے فوائد تو سن لئے ہیںنیویار ک نیوزڈیسک کے مطابق آپ کویہ بات جان کر حیرت ہوگی کہ اس کے پتے بھی خصوصی فوائد کے حامل ہوتے ہیں اور ان کے استعمال سے آپ کے جگر کے زہریلے مادے نکلتے ہیں، جگر کی چربی کم ہوتی ہے اور ساتھ ہی آپ جگر کے کینسر سے بچ جاتے ہیں متعدد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پپیتے کے پتوں میںفیٹو نو ٹرینٹکمپاؤنڈ پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے جسم کو انٹی آکسیڈینٹس ملنے کے ساتھ مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔۔۔اس میں پایا جانے والا انزائم ’پاپائن‘نظام انہضام کو مضبوط کرنے کے ساتھ گیس اور تیزابیت کو ختم کرتا ہے۔۔۔
اگرآپ پپیتے کے پتے کاجوس باقاعدگی سے پئیں گے تو آپ تیز بخار اور کینسر جیسے مہلک مرض سے نجات حاصل کر سکتے ہیں،اس پتوںکے جوس کی وجہ سے معدے کی سوزش کم ہوتی ہے اور ساتھ ہی خوراک کے ہاضمے میں مدد ملتی ہے جس کی وجہ سے سینے کی جلن، ڈکار اور گیس سے نجات ملتی ہے،خون میں شوگر کالیول ان پتوں کے جوس سے ہمارے خون میں شوگر کالیول کم رہتا ہے اور ہم شوگر کے خطرے سے محفوظ رہتے ہیںاس میں موجود انٹی آکسیڈینٹس کی وجہ سے شوگر اور دیگر بیماریاں دور ہوتی ہیں اور ہم جگر کی چربی، گردوں کی بیماری اور اس طرح کی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں،پپیتے کو حد سے زیادہ نہیں کھانا چاہیے ورنہ فائدے کی بجائے یہ نقصان بھی دے سکتا ہے۔۔۔ پپیتے کا زیادہ استعمال مختلف قسم کی الرجیز کا باعث بن سکتا ہے جن میں سوجن، سردرد، خارش اور کھجلی وغیرہ شامل ہیں اس کےعلاوہ پپیتے کے اوپری حصے میں ایک خشک مادہ پایاجاتا ہے جو الرجی میں مزید اضافہ کرتا ہےاسی لیے وہ افراد جو پہلے ہی الرجی کے مرض میں مبتلا ہیں وہ پپیتا کھانے سے گریز کریں۔۔۔حد سے زیادہ پپیتے کا استعمال سانس کی مختلف بیماریوں میں بھی مبتلا کرسکتا ہے جن میں دمہ، سینے پر دبائو، ناک کا بند ہونا اور خرخراہٹ کے ساتھ سانس لیناشامل ہے۔۔۔یہ تمام بیماریاں پپیتے کے زیادہ استعمال سے ہوسکتی ہیں اسی لیے ماہرین صحت کی جانب سے پپیتا ضرورت سے زیادہ کھانے سے منع کیا گیا ہے۔۔۔ جو لوگ کسی بھی قسم بیماری میں مبتلا ہیں انہیں لازمی ڈاکٹر کے مشورے سے پپیتے کا استعمال کرنا چائیے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ آپکو آج کی اس آرٹیکل سے بہت سی مفید معلومات ملی ہوں گی تو جلدی سے اس پوسٹ کو لائک کر کے اپنی پسندیدگی کا اظہار کریں، ہماری شوشل میڈیا پیجز اور یوٹیوب چینل کو لائیک وسبسکرائب کریں اور صدقہ جاریہ کی نیت سے اس یوسٹکو فیس بک اور واٹس ایپ پر زیادہ سے زیادہ شیئر کر دیں۔ جزاک اللہ
Post A Comment:
0 comments: