ٹماٹر کا مزاج ٹماٹر کے فائدے
ٹماٹر کا تعارف
ٹماٹر جو کہ اصل میں پھل ہے سبزی نہیں ہے، اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتا ہے سچ تو یہ ہے کہ یہ کئی غذائیت بخش پروڈکٹس کا حصہ ہیں اور ٹماٹر کو کئی طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے اس لیے اس کو دستر خوان سے دور رکھنے کی کوئی وجہ بھی نظر نہیں آتی، ٹماٹر کھانے کا سب سے بڑا فائدہ اس میں موجود لائکوپین ہے۔ٹماٹر ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو کہ سرطان کے سیل کو بننے سے روکتا ہے اور انسانی صحت کو درپیش مسائل اور بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے، انسانی جسم میں موجود مضر صحت فری ریڈیکل سیل لائکوپین کے ساتھ جسم سے خارج ہو جاتے ہیں، ٹماٹرمیں بڑی مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹ اجزاء ہوتے ہیں اور بے شمار غذائیت بخش اجزاء سے بھی مالامال ہے،لائکوپین ایسا اینٹی آکسیڈنٹ نہیں ہے جو انسانی جسم میں خود پیدا ہوتا ہو بلکہ انسانی جسم اسے بیرونی ذرائع سے ہی حاصل کر سکتا ہے تاکہ جسم کا نظام ٹھیک طریقے سے چلتا رہے اکثر دیگر پھل اور سبزیوں میں بھی ضروری صحت بخش اجزاء ہوتے ہیں مگر لائکوپین کے معاملے میں جس قدر ٹماٹر مالامال ہے کوئی اور نہیں۔
ٹماٹر کو سب سے پہلے کیسے متعارف کروایا گیا اور قدیم و جدید طب میں اس کے کون کونسے بے مثال فوائد بتائے گئے ہیں وہ آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں ۔
عضو تناسل میں کمزوری کے اسباب اور عضو تناسل کی کمزوری کے علاج کا معجون |
| اسپغول سے مردانہ کمزوری کا علاج |
ٹماٹر کے فوائد
ٹماٹر کا مزاج معتدل خشک ہوتا ہے ٹماٹر بھوک لگاتاہے، کھانے کو ہضم کرتاہے،ٹماٹر قبض کشا ہے ،ٹماٹر کا رس مرض کساح میں بہت مفید ہے۔خون کی کمی یرقان ،ورم گردہ ،ذیابیطس میں صبح نہارمنہ ایک بڑا سرخ ٹماٹر استعمال کردیناہزار دواؤں سے بہتر ہے،ٹماٹرکو استعمال سے قبل اچھی طرح دھولیاجائے ۔ٹماٹر کو ایک پاؤ سے زیادہ کھانا نقصان دہ ہے کیونکہ زیادہ ٹماٹر کھانے سے گردے میں پتھری بن جاتی ہے۔
ٹماٹر کے حوالے سے پوری دنیا میں متعدد تحقیقات کی جا چکی ہیں اور ابھی بھی کی جا رہی ہیں اور میڈیکل سائنس اس حوالے سے لوگوں کو بلاشبہ بہت کچھ بتا چکی ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ جو کچھ لوگوں تک پہنچایا جا چکا ہے اس سے کہیں زیادہ ٹماٹر کے فوائد ہیں اس پر تحقیق سے نہ صرف یہ پتہ چلا ہے کہ ٹماٹر سرطان، امراض قلب سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ کولیسٹرول کو بھی اعتدال میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اس میں شک نہیں کہ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ ٹماٹر کے صحت پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کو ہرگزرنے والے دن کے ساتھ دستاویزی شکل دی جارہی ہے اور ہرگزرنے والے دن کے ساتھ ہمیں اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ نیا ہی معلوم ہوتا ہے۔۔۔سرطان اور خاص کر پروسٹیٹ سرطان، رحم کا سرطان، آنتوں اور پیٹ کا سرطان، منہ اور غذائی نالی کا سرطان ان سب کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ ان کو روکنے اور ان کے خلاف مزاحمت پیش کرنے میں لائکوپین زبردست کردار ادا کرتا ہے، لائکوپین پہلے سے موجود سرطان کے خلیوں کو ختم کرتا ہے اور بعد میں پیدا ہونے والے خلیوں کو روک دیتا ہے، ٹماٹر کی اہمیت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہےکہ ٹماٹر کا جوس لائکوپین سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے روزانہ استعمال سے تمام فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جن کا تذکرہ پہلے کیا جا چکا ہے، اس کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص روازنہ ۴۵۰ ملی لیٹر ٹماٹر کا جوس پیے تو وہ ساری زندگی صحت مند رہ سکتا ہے لیکن ایک انتہائی اہم بات ذہن نشین کر لیں کہ لائکو پین کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہاں اس کے نقصانات بھی ہیں خاص کر حاملہ خواتین اور وہ خواتین جو بچوں کو دودھ پلا رہی ہیںان کو اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے، اس میں تیزابیت بہت زیادہ ہوتی ہے تو یہ سینے کی جلن کا سبب بھی بن سکتا ہے ، یو ایس ڈیپارٹمنٹ ہیلتھ اینڈ ہیومن کی تحقیق بتاتی ہے کہ گردوں کے مریضوں کو ٹماٹر سے پرہیز کرنی چاہیے ۔۔۔ اسی لیے ہم اکثر کہتے ہیں کہ کسی بھی چیز کو اپنی روٹین بنانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیا کریں تا کہ وہ آپ کی جسمانی کنڈیشن کو دیکھتے ہوئے آپ کو سجیسٹ کرے کہ آپ کو کیا کھانا چاہیے۔۔۔ یہ جتنی بھی تحقیقات ہوتی ہیں یہ سینکڑوں لوگوں پر اکٹھی کی جاتی ہیں اور ان کا مجموعی رزلٹ سامنے لایا جاتا ہے، اس لیے قدرت نے جو چیز بھی پیدا کی ہے وہ متعدد فوائد کے ساتھ چند نقصانات بھی رکھتی ہےتو اعتدال کا دامن نہ چھوڑیں اور مستقل روٹین بنانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔۔۔ اگرچہ ٹماٹر کو مختلف فارمز میں لگایا جاتا ہے اور اس کی شکل ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہے مگر غذائیت میں سب برابر ہوتے ہیں، جب ٹماٹر کی پروڈکٹس بناتے وقت حرارت کے عمل سے گزارا جاتا ہے تو لائکوپین میں کمی ہونے کی بجائے اور اضافہ ہوجاتا ہے، اگرچہ ٹماٹر کے انسانی صحت پر اثرات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا اور تحقیق بھی کی گئی ہے اس کے باوجود میڈیکل سائنس کمیونٹی کا یہی کہنا ہے کہ وہ اب بھی ٹماٹر کے سارے فوائد کے بارے میں جاننے میں ناکام رہے ہیں اور اس حوالے سے مسلسل تحقیق کی جارہی ہے،ٹماٹر اب تک پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں ان بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں زیادہ موثر ثابت ہوئے ہیں، جو بنی نوع انسان کی جان کو عموما لگی رہتی ہیں، بازار میں ٹماٹر کی بے شمار اقسام موجود ہیں اور ایسے میں اس کو استعمال کرکے صحت بخش فوائد حاصل کرنا اور بھی آسان ہو گیا ہے اگر آپ بھی اس سے سو فیصد مستفید ہونا چاہتے ہیں تو کسی ایسی جگہ کی تلاش کریں جہاں آپ خود اسے اُگاسکیں، اچھا ہو گا کہ آپ نامیاتی آرگینک ٹماٹر اُگائیں یہ ایک تفریحی عمل ہوگا آپ کو دھوپ کے ذریعے کچھ وٹامن ڈی بھی مل جائے گا اور ٹماٹر تو ہے ہی صحت بخش، ٹماٹر میں ایسے مرکب شامل ہیں جو سرطان، امراض قلب موتیا اور دیگر عارضہ میں نہ صرف بہت مفید ثابت ہوئے ہیں بلکہ ان کے خلاف سخت مزاحمت کرتے ہیں، ابتداء میں ٹماٹر کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کے استعمال سے دماغ کا بخار اور سرطان ہوجاتا ہے اور اسے صحت کے لیے خطرناک سمجھا گیا، مگر بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے ایک بھی بات درست نہیں ہے اور اس کے اثرات تو ان باتوں کے برعکس ہیں، سن1800میں امریکہ میں ٹماٹر استعمال نہیں کیا جاتا تھا، اس کی ابتداء ایسے ہوئی کہ اسی دہائی کے دوران نیوجرسی کا ایک شخص کرنل رابرٹ جونسن اسے بیرونِ مْلک سے امریکہ لے کر آیا چونکہ لوگ ٹماٹر سے خائف تھے لہذا اس نے اعلان کیا کہ وہ 26ستمبر 1820کو ٹماٹر کھانے کا عوام میں مظاہرہ کرے گا اس نے اپنے آبائی شہر سلیم میں سینکڑوں لوگوں کے سامنے مظاہرہ کیا اور ٹماٹر کی پوری ایک ٹوکری کھا گیا، لوگ اس انتظار میں تھے کہ بس یہ لڑھکنے ہی والاہے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور تب سے ٹماٹر امریکیوں کی غذا کا ایک اہم جزو بن گیا۔۔۔ٹماٹر میں وٹامن سی کی بھاری مقدار ہوتی ہے ایک انسان کو روزانہ جس قدر وٹامن چاہیے ہوتے ہیں۔۔۔ اس کا 40فی صد ٹماٹر سے حاصل ہو سکتا ہے، اس کے ذریعے وٹامن اے 15فی صد، پوٹاشیم 8فی صد اور 7فیصد آئرن خواتین کو ملتا ہے جبکہ مردوں کو اس سے دس فی صد آئرن ملتا ہے،ٹماٹر میں لائکو پین نامی لال رنگ کا یہ مرکب اینٹی اکسیڈنٹ ہوتا ہے اور فری ریڈیکل سیل کو نیوٹرلائز کرتا ہے جو انسانی سیل کو نقصان پہنچاتے ہیں، ابھی حال ہی میں ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ایک اور جانے پہچانے اینٹی آکسیڈنٹ بیٹا کروٹین کے مقابلے میں لائکوپین دوگنی قوت کا حامل ہے، ہارڈورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ جو شخص ہفتہ میں دس بار ٹماٹر کھاتا ہے اس میں سرطان کے امکانات 45فی صد کم ہو جاتے ہیں، تاہم اس کے فوائد صرف پروسٹیٹ کینسر تک ہی ہیں، اٹلی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو شخص روزانہ ٹماٹر بطور سلاد کھاتا ہے اس میں آنتوں اور پیٹ میں سرطان ہونے کے خطرات میں 60فی صد کمی آجاتی ہے،ایک اور تحقیق کے مطابق لائکوپین پھیپھڑے، چھاتی اور رحم کے سرطان کے خلاف سخت مزاحمت پیش کرتا ہے،یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لائکوپین کی وجہ سے بزرگ لوگ زیادہ عرصہ تک سرگرم رہ سکتے ہیںاور اسی جادوئی مادے کی وجہ سے ٹماٹر کا رنگ چمکدار سرخ ہوتا ہے،ٹماٹر میں موجود وٹامن بی بلڈپریشر اور کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھنے میں معاون ہوتا ہےاس کے نتیجے میں یہ فالج ، دل کے دورے اور دیگر خطرناک مسائل سے بچاتا ہے۔۔۔ٹماٹر میں موجود وٹامن اے آپ کے بالوں کے لیے مفید ہے جو بالوں کو مضبوط اور چمک دار رکھتا ہے، اس کے علاوہ یہ آنکھوں ، دانتوں ، جلد اور ہڈیوں کے لیے بھی مفید ہے، ٹماٹر میں موجود وٹامن اے نظر کو درست رکھنے میں مدد کرتا ہے،ٹماٹر میں معدن کرومیم بھی خاصی مقدار میں ہوتا ہے جو کہ شوگر کے مریضوں میں بلڈشوگرکو کنٹرول میں رکھتا ہے،ٹماٹر سگریٹ نوشی سے ہونے والے نقصان کو بھی کم کرتا ہے،ٹماٹر کو بیجوں کے بغیر کھایا جائے تو یہ پتے اور گردے کی پتھری کے خطرے کو کم کرتا ہے،ٹماٹر جلد کے لیے بھی مفید ہے کیونکہ اس میں موجود لائسوپین نامی مادہ جلد کی حفاظت کرتا ہے،اس سلسلے میں ٹماٹر کے استعمال کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دس بارہ ٹماٹروں کا چھلکا اتاریں اور چھلکے کو اپنے چہرے یا کسی بھی حصے کی جلد پر بچھادیں اور دس منٹ تک بچھا رہنے دیں،اس کے بعد اس کو دھودیں،آپ کی جلد پہلے سے زیادہ تروتارہ اور چمک دار ہوجائے گی،ٹماٹر کو پکانے سے زیادہ تر وٹامن سی ضائع ہوجاتی ہے اس لیے ٹماٹروں کو کچا کھانا زیادہ فائدہ دیتا ہے۔۔۔تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ٹماٹر میں موجود لائسوپین مردوں میں غدودوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے، اس کے علاوہ یہ معدے اور آنتوں کے کینسر سے بھی بچاتا ہےلائسوپین ایک ایسا قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو کینسر کے خلیات کی افزائش کو روکتا ہے،مزے کی بات یہ ہے کہ پکا ہوا ٹماٹر کچے ٹماٹر کے مقابلے میں زیادہ لائسوپین پیدا کرتا ہے اس لیے ٹماٹر کا سوپ پینا صحت کےلئے نہایت فائدے مند ہے،ٹماٹر میں وٹامن کے اور کیلشیم بھی خاصی مقدار میں پایا جاتا ہے جو کہ ہڈیوں اور ہڈیوں کے ٹشوز کے لیے مفید ہوتا ہے۔
Post A Comment:
0 comments: