پانی جسم کے لئے فائدہ مند یا نقصان دہ
ہم میں سے اکثر لوگ پانی کو اتنا عام سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم جب چاہیں جیسے چاہیں اور جتنی مقدار میں چاہیں پانی پی سکتے ہیں لیکن ہمارا ایسا سوچنا بالکل غلط ہے ،کیونکہ پانی دیکھنے میں جتنا عام سا لگتا ہے یہ ہمارے جسم کے تمام حصوں کو ٹھیک طرح سے کام کرنے اور جسم میں بننے والے زہریلے مادوں کو باہر نکالنے کے لئے اتنا ہی ضروری ہوتا ہے،پیٹ سے لے کر سکن تک اور وزن بڑھانے سے لے کر وزن گھٹانے تک پانی ایک بڑا رول پلے کرتا ہے ۔اس لئے پانی پینے کی صحیح مقدار ،پانی پینے کا صحیح وقت ،پانی پینے سے کیا کیا فائدے اور کیا کیا نقصان ہوتے ہیں اگر اس بارے میں معلوم نہ ہو تو پھر انسان چاہے جیسی اچھی سے اچھی غذا کیوں نا کھا لے تو اس کا صحیح فائدہ جسم کو مل ہی نہیں پاتا جس کی وجہ سے بہت سارے طبی مسائل کو فیس کرنا پڑتا ہے۔
جیساکہ بدنظمی، قبض، گیس، لیور کی کمزوری، سستی آنا ،گردے کی پتھری ،جسم میں اچھے بیکٹیریا کا کم ہو جانا، بار بار بیمار پڑنا، سکن الر جی، کھجلی، چہرے پر پمپلزاور داغ دھبےکا ہونا، وائٹ ہیڈز،بلیک ہیڈز، سکن کا بہت زیادہ آئلی یا بہت زیادہ ڈرائی ہوجانا، کھایاپیا جسم کو نالگنا، جوڑوں میں درد ہونا، جسم پر چربی کا جمنا، سر درد اور چکر آنا، وزن بڑھنے یا گھٹنے میں پریشانی محسوس کرنا، بالوں کا جھڑنا اور راتوں کو نیند نہ آنا ایسی کئی بیماریاں صرف پانی کو غلط مقدار میں اور غلط طریقے سے پینے سے ہوسکتی ہیں۔۔۔اس لئےآج کے اس مضمون میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ پانی ہمارے لئے اتنا ضروری کیوں ہے اور اس کا ہمارےجسم میں کیا کام ہوتا ہے ۔۔۔ایک دن میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کتنا پانی پیا جا سکتا ہے اگر جسم میں پانی کی کمی ہوجائے تو اسے کیسے پتہ لگایا جا سکتا ہے۔۔۔ ایک بار میں کتنے گلاس پانی پینا چاہیے اور کس طرح پینا چاہیے اور پانی کب کب پینا چاہئے اور کب کب نہیں پینا چاہیے یعنی پانی پینے کا صحیح ٹائم کیا ہےاورپانی کس طرح کا ہونا چاہیے، ٹھنڈا گرم یا نارمل ہو اور پا نی وزن بڑھانے اور گھٹانے میں کس طرح سے مدد کرتا ہے۔
ہمارے جسم میں 60سے 70فیصد پانی ہوتا ہے اور ہمارے پئے گئے پانی کا استعمال ہمارے انٹرنل اورگن جیسا کہ گردے، لیور ،پھیپھڑے ، ہاضمہ کا نظام اور تقریبا جسم کے سبھی حصوں کو ٹھیک طرح سے کام کر نے اور سب سے زیادہ ہمارے جسم کوزندہ رکھنے میں ہوتا ہے۔۔۔ اب سوال یہ ہے کہ دن میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کتنا پانی پیا جاسکتا ہےاور اگر آپ کے جسم میں پانی کی کمی ہوگئی ہو تو اسے کس طرح سے پتہ لگایا جا سکتاہے۔۔۔ جسم میں پانی کی کمی ہوتے ہی پیشاب کا رنگ پیلا پڑ جاتا ہےہاضمہ کمزور ہوجاتاہے، چہر ے کی سکن آہستہ آہستہ روکھی، بےجان اور ڈھیلی پڑجاتی ہے اور اگر شروع میں ہی پانی پینے کے صحیح طریقے پر دھیان نہ دیا جائے تو یہ سب بیماری کا روپ بھی لے سکتے ہیں۔۔۔اس لئے ہر دن ایک مقدار میں پانی کا پینا بہت ضروری ہوتا ہے۔
ایک وقت میں کتنا پانی پینا مناسب ہے
ایک بات جو بہت ضروری ہےکہ دن بھر میں کتنا پانی پینا چاہیے اور پانی کس طرح کا ہونا چاہیے یعنی گرم، ٹھنڈا یا پھر نارمل س کے لیے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ پانی میں کیا کیا ہوتا ہے اور یہ کون کون سی پرابلم میں فائدہ پہنچاتا ہے۔۔۔پانی میں زیرو کیرولیز ہونے کے باوجود یہ ہمارے جسم سے زہریلے مادوں کو باہر نکالنے میں بہت مدد کرتا ہے، سکن کو صاف کرتا ہے،دماغی طاقت،ہاضمہ ، آنکھ،ہڈی اور لگ بھگ جسم کے تمام حصوں کو ٹھیک طرح سے کام کرتے رہنے میں بہت مدد کرتا ہے اسلئے پانی ہمارے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے ، کچھ کھائےبغیر کوئی بھی شخص لمبےوقت تک رہ لے گا مگر پانی کے بغیر ایک دن بھی رہ پانابہت مشکل ہے کیونکہ پاخانہ، پسینہ، پیشاب اور سانس لینے کے پروسس میں لگ بھگ 2لیٹر پانی ہمارے جسم سے نکل جاتا ہے، جسے ری سٹور کرنا بہت ضروری ہوتا ہے،ویسے تو کسی بھی انسان کو دن بھر میں کتنا پانی پینا چاہیے یہ اس انسان کی صحت، و ہ جہاں رہتا ہے اس جگہ کا موسم ،اس کا وزن اور اس کی فزیکل ایکٹیویٹی پر ڈیپنیڈکرتا ہےلیکن ایک عا م شخص کو دن میں ڈھائی سے تین لیٹر پانی ضرور پینا چاہئے،جو کہ ایک ایورج سائز کے کلاس کے حساب سے 8 سے 12کلاس ہوتے ہیں اور گرمی کے موسم میں کیونکہ زیادہ پسینہ نکلتا ہے تو ایسی صورت میں پانی کی مقدار تھوڑی بڑھائی جاسکتی ہے اور جو لوگ ایکسرسائز کرتے ہیں انہیں بھی عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں پانی پینا چاہیے کیونکہ ان کے جسم میں پانی کا استعمال زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔۔۔ اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ضرورت سے زیادہ پانی پینے پر جسم کو کوئی نقصان بھی ہو سکتا ہے ،تو اس کا جواب بہت ہی سمپل ہے کہ کوئی بھی چیز بہت زیادہ مقدار میں نقصان دیتی ہے، زیادہ پانی پینے سے ہمارے گردے کا کام بڑھ جاتا ہے اور خون میں سوڈیم کے لیول کم ہونے کے چانسز بہت زیادہ رہتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کیونکہ اکثر لوگ اُتنا بھی پانی نہیں پیتے کہ جتنا پانی پینے کی ان میں طاقت ہوتی ہے اور ایسا نقصان تب ہوتا ہے جب کوئی شخص چار یا پانچ لیٹر سے بھی زیادہ پانی پی لے۔
اب آپ کو بتاتے ہیںکہ ایک نشست میں کتنا پانی پینا چاہیے اور کس طرح سے پینا چاہیے ! کچھ لوگوں کو اکثر ایسا لگتا ہے کہ پانی کو جب چاہیں جیسے چاہیں پیا جا سکتا ہے لیکن ایسا سوچنا بالکل بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ ایک طرح کے پانی کو الگ الگ طریقے پر پینے سے اس کاجسم پر الگ الگ طرح سے اثر ہوتا ہے اس لئے پانی ہمیشہ بیٹھ کر آہستہ آہستہ پینا چاہیے ،جیسا کہ پانی کو منہ میںرکھ کر چار سے پانچ سیکنڈ تک اِدھر اُدھر گھمائیں اور پھر نگل لیں،ایسا کرنے سے ہمارے منہ میں موجوذ رات ہمارے پیٹ میں جاکر پیٹ کی ایسڈی پراپٹیزکو بٹھا دیتا ہے، جس سے ہاضمہ اور بھی مضبوط ہونے لگتا ہے جبکہ کھڑے ہو کر جلدی جلدی پانی پینے سے ہمارے گُردے اسے ٹھیک طرح سے فیلٹر نہیں کر پاتے اور منہ سے ہٹا کر بوتل سے پانی پینے سے(یعنی بوتل کو الگ رکھ کر پانی میں انڈیل کر پینے سے) پانی کے ساتھ ساتھ باہر موجود بہت ساری گیس بھی ہمارے جسم میں داخل ہو جاتی ہے، جس سے جوڑوں کے درد ہونے کے چانسز بہت زیادہ رہتے ہیں، اسلئے پانی بیٹھ کر آہستہ آہستہ تین سانسوں میں پینا چاہیے اور ایک بار میں ایک یا ڈیڑھ گلاس یاجتنی پیاس ہو اتنا ہی پانی پینا چاہئے کیونکہ ایک ہی بار میںبہت زیادہ پانی پی لینے سے ہمارے گردے اسے ٹھیک طرح سےفلٹر نہیں کر پاتے اور پانی ہمارے جسم میں استعمال ہوئے بغیر ہی پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔
پانی ٹھنڈا پینا ہے یا گرم
اب اس طرف آتے ہیں کہ پانی گرم ،ٹھنڈا یا نارمل ہونا چاہیے۔۔۔دوستو!جب ہم بہت زیادہ ٹھنڈی یا گرم چیز کھاتے یا پیتے ہیں تو ہمارا جسم پہلے اسے گرم کرتا ہے اور پھر کام میں لیتا ہے، پانی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے، جب ہم فریج میں رکھا ٹھنڈا پانی پی لیتے ہیں تو وہ پہلے جسم میں گر م ہوتا ہے پھر کام میں آتا ہے اور جب تک یہ پراسس چلتا رہتا ہے، ہمارے جسم کو تب تک انتظار کرنا پڑتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ زیادہ ٹھنڈا پانی ہمارے کھائے گئے کھانے کو بہت سخت بنا دیتا ہے جس سے ہاضمہ بہت سلو(یعنی آہستہ ہو جاتا ہے) اور قبض ہونے کے چانسز بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں، اس لئے پانی ہمیشہ نارمل ہی پینا چاہیے کیونکہ ہلکے گرم پانی کو ہمارا جسم فورا کام میں لے آتا ہے اور ہماری کھائے گئے کھانے کو ہلکا گرم پانی توڑنے میں بھی بہت مدد کرتا ہے، جس سے ہاضمہ مضبوط ہوتا ہے اور پیٹ بھی کھل کر صاف ہوتا ہے۔
اب آپ کو بتاتے ہیںکہ پانی کب کب پینا چاہیے اور کب کب نہیں پینا چاہیے! دوستو! یہ ایسی باتیں ہیں جہاں اکثر لوگ غلطی کرتے ہیں اور پھر بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں ،پانی کب پینا چاہیے؟ اس سے زیادہ یہ جاننا ضروری ہے کہ پانی کب نہیں پینا چاہیے ،اسلئے پہلے ہم آپکو بتاتے ہیں کہ پانی کب نہیں پینا چاہیے اور اس کے بعد ہم آپ کو بتائیں گے کہ پانی کب پینا چاہئے۔
کھانا کھانے کے بعد پانی کا استعمال
ویسے تو کھانا کھاتے وقت پہلے یا بعد میں ایک یا دو گھونٹ پانی پینے میں کوئی برائی نہیں ہے، بلکہ کھانا کھانے سے پہلے ایک یا دو گھونٹ پانی پینے سے سوکھے کھا نے بھی گلے سے آسانی سے اترتے ہیں اورہچکی بھی نہیں آتی لیکن یہاں ایک یا دو گھونٹ کہنے کا مطلب ہے کہ گلا بھیگنے جتنا پانی پینا چاہیے لیکن کھانا کھانے کے دوران پہلے یا بعد میں گلاس بھر کر یا زیادہ مقدار میں پانی پینا بالکل بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ کھانا کھانے کے فورا بعد پانی پی لینے سے یہ ہمارے کھائے کھانے کو بہت تیزی سےپتلا بنا دیتا ہے اور ہمارے پیٹ میں ہاضمہ کے ذرات بھی نہیں نکل پاتے جس سے ہمارا ہاضمہ کمزور پڑ جاتا ہے ۔۔۔اسلئےہمیشہ کھانا کھانے کے 45منٹ یا ایک گھنٹے بعد ہی پانی پینا چاہیے۔
رات کو سونے پہلے یا رات کو اچانک آنکھ کھلنے پر پانی پی کر سو نا
دن میں پانی ہمارے لئے جتنا فائدہ مند ہوتا ہے اسی طرح رات کے وقت بہت زیادہ پانی پینا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ سوتے وقت ہمارا جسم ایکٹو نہیں رہتا ،جس سے پانی ہمارے جسم میں استعمال ہوئے بغیر ہی گردے میں فلٹر ہونے کےلئے چلا جاتا ہے، جہاں یہ ہمارے گردے کو بہت نقصان پہنچاتا ہے اور نیند سے اٹھ کر بار بار ٹائلٹ جانے کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے، جس سے دوبارہ نیند آنے کیلئے بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس لئے جتنا ہوسکے دن کے ٹائم میں ہی پانی کی روزانہ لمٹ کو پورا کرنا چاہیے اور ساتھ ہی دو بار پانی پینے کے بیچ 45منٹ سے ایک گھنٹےتک کا وقفہ ضرور ہونا چاہئے۔۔۔ کیونکہ جلدی پانی پینے سے پانی ہمارے جسم میں استعمال ہوئے بغیرہی پیشاب کے ذریعے باہر نکل جاتا ہے اور اس سے جلدی جلدی پیشاب آنے کی پرابلم بھی شروع ہو سکتی ہے اسلئے جب آپ کو لگے کہ آپ کا پیشاب پیلا نہیں ہے بلکہ پانی کی طرف بالکل صاف ہےتو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ فی الحال آپ کی باڈی کو پانی کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اس لیے پیشاب کرنے کے بعد بھی پانی پینے کے لیے پندرہ سے بیس منٹ کا وقفہ ضرور رکھیں، تاکہ ہمارے گردے کو ریسٹ لینے کے لئے تھوڑا موقع مل سکے، نہیں تو جلدی جلدی پانی پیتے رہنے سے بار بار پیشاب آنے اور پیشاب کو روک نہ پانے کی پرابلم شروع ہو سکتی ہیں۔
پھل اور کچی سبزی کھانے کے بعد
اکثر پھل اور ایسی سبزی جیسے کھیرااور ٹماٹر جیسی سبزی کو اگر آپ کچا کھاتے ہیں تو اس کے فورا بعد پانی بالکل بھی نہیں پینا چاہیے ، اسی طرح کیلا ،تربوز، انار،سنگترہ اور دوسرے پھل کھانے کے بعد بھی فورا پانی بالکل بھی نہیں پینا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے کھائی ہوئی چیز بہت سخت ہو جاتی ہے جس سے ہاضمہ کا نظام سست پڑ جاتا ہےاور کچھ لوگوں کو سردی زکام بھی ہو جاتا ہےساتھ ہی ساتھ بہت زیادہ گرم چیزیں ،جیسے چائے، کافی اور سوپ جیسی چیزوں کو پیتے ہی فورا پانی نہیں پینا چاہیئے کیونکہ ان چیزوں کوپینے کے بعد فورا پانی پینے سے دانتوں اور مسوڑوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
پانی کب کب پینا چاہئے
یعنی پانی پینے کاصحیح وقت کیا ہے) جس طرح کھانا کھانے سے پہلے پلیٹ کو ہم صاف کرتے ہیں اسی طرح ہمیں ہر صبح کچھ بھی کھانے سے پہلے اپنے پیٹ کی صفائی ضرور کرنی چاہیے جس کے لئے پانی سے بہتر اور کچھ بھی نہیں۔۔۔ صبح خالی پیٹ پانی پینےسے رات سوتے وقت پیٹ میں بننے والے زہریلے ذرات کی کافی حد تک صفائی ہوجاتی ہے لیکن جو لوگ خالی پیٹ پانی پیے بغیر ہی کچھ کھاتے یا پیتے ہیں۔۔۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے جوٹھی پلیٹ کو صاف کیے بغیر ہی اُس میں کھانا کھا لینا، اس لیے صبح خالی پیٹ ایک سے دو گلاس پانی پینا چاہیے اور کھانا کھانے سے 45منٹ پہلے اور ایک گھنٹہ بعد ایک گلاس پانی ضرور پینا چاہیے اور اسی طرح رات کے وقت پانی کم مقدار میں پینا چاہیے اور رات کے کھانے کے دو گھنٹے بعد پانی کی جگہ دودھ کا استعمال کرنا چاہیے اور اس میں موجودٹرپٹو فین نامی امینو ایسڈ دماغ کو سکون دے کر اچھی نیند دلانے میں بہت مدد کرتا ہے۔ دن میں جب میں پانی پئیں تو دو بار پانی پینے کے درمیان تقریبا ایک گھنٹے کا وقفہ ضرور رکھیں، تاکہ دن میں ڈھائی سے تین لیٹر پانی پورا کیا جا سکے اور اگر آپ دھوپ سے ہو کر آتے ہیں،رننگ یا ایکسرسائز کرتے ہیں تو اس دوران پانی بالکل نہ پئیں کیونکہ اس وقت ہمارے جسم کا ٹمپریچر ہائی رہتا ہے اس لیے اس وقت زیادہ مقدار میں پانی پینے سے ہمارے جسم کو فائدہ کی بجائے نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے ایکسرسائز کے دوران زیادہ سے زیادہ دو سے تین گھونٹ پانی پینا چاہئے، ایکسر سائز ختم کرنے کے آدھے سے ایک گھنٹے بعد آپ گلاس بھر کر پانی پی سکتے ہیں لیکن ایکسرسائز کے دوران تھوڑی ، تھوڑی مقدار میں پانی پینا چاہیئے، پانی کے اس طرح استعمال کرنے سےہماری صحت سے جڑے مسائل کافی حد تک ٹھیک ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ہمارا پیٹ بھی ٹھیک رہتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں وزن بڑھانے اور گھٹانے میں بہت مدد ملتی ہے کیونکہ جب تک کسی شخص کا پیٹ ٹھیک نہ ہو تب تک وزن کا بڑھانا یا گھٹا ناممکن نہیں ہے ۔۔۔پانی پینے کے اس طریقے کو اپنانے کے کچھ ہی ہفتوں بعد آپ کو اپنی صحت میں انشا ء اللہ بہت ہی اچھا فرق محسوس ہونے لگے گا۔
Post A Comment:
0 comments: