پتھری گردہ و مثانہ اور پیشاب کی جلن اورپیشاب کی رکاوٹ کا علاج

گردے میں پتھری کی وجوہات

گردوں میں پتھری کی بہت ساری وجوہات ہیں
نمبرایک۔ پانی کم پینا
نمبر دو۔ خاندان میں اس کے مریضوں کی موجودگی
نمبر تین۔نمک اور کیلشیم والے کھانے زیادہ کھانا
نمبر چار۔موٹاپا
نمبر پانچ۔ذیابیطس
نمبر چھ۔پیٹ کے امراض اور سرجری وغیرہ کا ہونا

گردے کی پتھری کی علامات

نمبرایک۔ پسلیوں کے نیچے سائیڈ اور پیچھے کی جانب شدید درد۔نمبرایک۔ ایسا درد جو پیٹ سے نیچے جاتا ہوا محسوس ہو۔نمبرایک۔ ایسا درد جس کی لہریں اور ارتعاش شدت سے محسوس ہو۔نمبرایک۔ پیشاب کرتے وقت تکلیف کا ہونا۔
نمبرایک۔ پیشاب کا رنگ گلابی سرخ یا براؤن ہونا۔
نمبردو۔ بدبودار پیشاب
نمبرتین۔ بار بار پیشاب آنا۔
نمبرچار۔ عام معمول سے ہٹ کر پیشاب آنا۔
نمبرپانچ۔ بخار اور سردی لگنا۔
نمبرچھ۔ پیشاب کی مقدار کم ہوجانا پیشاب آتا تو بار بار ہے لیکن تکلیف سے اور تھوڑا تھوڑا آتا ہے ۔
نمبرسات۔ اتنا شدید درد ہونا جس کے باعث ساکت بیٹھنا یا کسی پوزیشن پر لیٹنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
نمبرآٹھ۔ ایسا درد جس کے ساتھ سر چکرائے اور الٹی ہو۔
نمبرنو۔ بخار اور سردی کے ساتھ گردوں کے مقام پر درد ہونا۔
نمبردس۔ پیشاب میں خون آنا۔
نمبرگیارہ۔ پیشاب کرنے میں مشکل کا سامنا۔

آم کھانے کے فائدے اور نقصانات

خوبانی کا مزاج اور اسکے فائدے

گردے کی پتھری کےعلاج کا نسخہ

ہوالشافی
سنگ سرماہی دس گرام
سوہاگہ بریاں دس گرام
پھٹکڑی سفید بریاں دس گرام
نمک ترب دس گرام
تخم ترب دس گرام
تخم خربوزہ دس گرام
بھکڑا دس گرام
دال کلتھی دس گرام
الائچی کلاں دس گرام
زیرہ سفید دس گرام
کباب چینی دس گرام
ریوند چینی دس گرام
جوکھار دس گرام
قلمی شورہ دس گرام
نوشادر دس گرام
کوزہ مصری پندرہ تولہ

ترکیب تیاری

تمام ادویہ کو پیس کر باریک سفوف بنا لیں تیار ہے۔

طریقہ استعمال

چھوٹا آدھا چائے والا چمچ صبح اور شام خالی پیٹ تازہ پانی یا دودھ کی کچی لسی یا عرق سونف کیساتھ پندرہ دن سے ایک ماہ، پانی و کچی لسی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں ان شاءاللہ بفضلہ تعالیٰ گردے مثانے کی پتھری چند یوم میں ریت بن کر بذریعہ پیشاب خارج ہو جائے گی۔

فوائد

پتھری گردہ و مثانہ۔گردے کا درد۔ سوزش مثانہ پیشاب کی رکاوٹ یا کھل کر نہ آنا کیلئے اکثیر الاثر اعلی دوا ہے۔

Axact

Axact

Vestibulum bibendum felis sit amet dolor auctor molestie. In dignissim eget nibh id dapibus. Fusce et suscipit orci. Aliquam sit amet urna lorem. Duis eu imperdiet nunc, non imperdiet libero.

Post A Comment:

0 comments: