چنے کے فوائد

مقام پیدائش

چنے پاکستان میں بکثرت پنجاب اور سندھ میں ہندوستان میں پنجاب کے علاوہ یوپی  انڈیابمیں بکثرت پایا جاتا ہے۔ 

مزاج

سبز چنا۔۔ گرم تر درجہ اول
خشک چنا ۔۔ گرم خشک درجہ اول

خاص فائدہ

مقوی باہ مدربول

متبادل

لوبیا اور نرمس

مصلح

خشخاش زیرہ سویا اور گلقند

 چنے کے سائیڈ ایفیکٹ

دیر ہضم ہے

مقدارخوراک

بقدرہضم

دیگر عام فوائد

اگر آپ سب سے کم خرچ اور مکمل غذا کی تلاش میں ہیں تو جان لیجیے کہ آپکو آپکی منزل نصیب ہوچکی ہے اور وہ غذا چنا ہے، ان سنیے کہ ماہرین اس حوالے سے کیا کہتے اور چنا ایک کامل غذا کیوں ہے؟ دوستو! چنا دالوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے،ہمارے ہاں چنے کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں سیاہ اور سفید چنے، ویسے تو سرخ اور پیلے رنگ کے چنے بھی ہوتے ہیں لیکن طبی لحاظ سے سیاہ چنے سب سے زیادہ مفید و موثر ہیں، چنے استعمال کرنے کے مختلف طریقے ہیں، جیسے ان کو ابال کا کھانا، ان کو ریت میں بھون کر کھانالیکن ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال کا سب سے بہترین طریقہ اسکا شوربا ہے، اطباء کالے چنے کا شوربا مریضوں کیلئے تجویز کرتے ہیں، پکاتے وقت چنوں کو بار بار نہیں ہلانا چاہیے اسی طرح چنے کا پلاؤبھی اچھی غذا ہے چاول کیساتھ پکانے سے چنے چاول کی غذائی کمی کو دور کردیتے ہیں چنے کو گوشت کیساتھ پکا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے، گوشت کیساتھ پکانے سے یہ گوشت کو گلا دیتے ہیں، چنے پکاتے وقت اس میں زیرہ ضرور ڈالیں اس طرح پیٹ میں ہوا پیدا نہیں ہو گی۔۔۔ اب آپکو تفصیل کیساتھ چنے کے مفیس، لاجواب اور شاندار فوائد سے آگاہ کرتے ہیں اور ساتھ یہ بھی بتائیں گے کہ چنا شوگر کے مرض میں کس طرح فائدہ مند ہے اور کیسے استعمال کرنا چاہیے۔

چنے کی اقسام

دوستو! چنے کی دو بنیادی اقسام ہیں جو عام طور پر استعمال ہوتی ہیں،ایک سیاہ چنے اور دوسری سفید چنے

برصغیر میں چنے کی یہ دو ہی قسمیں پائی جاتی ہیں، بہرکیف چناکالاہو یا سفید دونوں ہی وٹامن اور معدنیات سے بھرپور غذا ہیں، ہندوپاک کے علاوہ یہ ترکی، آسٹریلیا اور ایران میں کثیر تعداد میں پیدا ہوتا ہے،چنا صرف ایک یا دو نہیں بلکہ متعدد طبی فوائد کا حامل ہے، اس میں فولاد، وٹامن بی 6، میگنیشیم، پوٹاشیم اور کیلشیم کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیںجبکہ فاسفورس، تانبے اور میگنیز کی بھی خاصی مقدار ملتی ہے چنے بیشمار طبی فوائد کا حامل ہے، عام لفظوں میں اس کاسب سے کم قیمت اور سب سے زیادہ فائدہ مند غذاؤں میں شمار ہوتا ہے، اب اس کے فوائد جانیے۔
اس کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہے کہ اس کا حلوہ تیار کر کے ضعف باہ کے مریضوں کو کھلاتے ہیںاس کیساتھ اس سے قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہوتا ہے،بھنے کالے چنے جسمانی قوت بڑھانے کیساتھ ساتھ قوت مدافعت میں بھی اضافہ کرتے ہیں، اگر آپ چاہیں تو انکے چھوٹے چھوٹے پیکٹ بنا کر ان میں منقہ یا کشمش ملا کر بھی رکھ سکتے ہیں، ان شا ء اللہ اسکے باقاعدگی سے استعمال کے بعد آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، اسی طرح آپ نے عام طور پر آلوچنے پکتے دیکھے ہوں گے، زیادہ تر بازار سے یہ حلوہ پوری کیساتھ ملتے ہیں، یہ ثقیل ہوتے ہیں، چنوں کو گلایا نہیں جاتا بلکہ ان کو پانی میں ابالا جاتا ہیجس سے اس کے غذائی اجزاپانی میں حل ہوجاتے ہیں پھر اس میں آلو شامل کردیے جاتے ہیں جو ثقیل ہوتے ہیں البتہ بھنے ہوئے چنے ضرور کھانے چاہیں یہ بہت فائدہ مند ہوتے ہیں، اسی طرح دودھ چنے میں تیار کردہ حریرہ آواز کھولنے کیلئے انتہائی مفید ہے، قدیم اور جدید غذائی تحقیق کے مطابق چنا غذائی اجزاء اور حیاتین یعنی وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے، ان خوبیوں کی بنا پر چنا نہ صرف غریبوں اور سفید پوش طبقہ کی غذا ہے بلکہ اسے بادشاہوں کی خوراک بھی کہا جاتا ہے، سلطنت مغلیہ میں یہ اچھی شہرت رکھتا تھا، مغل بادشاہ چنا اور اسکا آٹا استعمال کرتے تھے، بیسن دراصل بھنے ہوئے چنوں کا ہی آٹاہوتا ہے، اس سے روغنی روٹی تیار کی جاتی ہے، پھلبہری میں چالیس روز تک بیسن کی روٹی ہی کھلاتے ہیں، آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر بیسن کی روٹی کا کافی شوقین تھا، بادشاہوں کے علاوہ عوام الناس بھی چنے کو کثر ت سے استعمال کیا کرتے تھے اور اس سے انواع و اقسام کے کھانے تیار کئے جاتے تھے۔

چنے سے وزن کم کریں

چنے میں فائبر اور پروٹین کثیر مقدار میں ملتے ہیںپھر اس کا گلاسیمک انڈکس بھی کم ہے اسی وجہ سے چنا وزن کم کرنے کے سلسلہ میں بہترین غذا ہے کیونکہ عموماً ایک پلیٹ چنے کھا کر آدمی سیر ہوجاتا ہے اور پھر اسے بھوک نہیں لگتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ چنے کے فائبر دیر تک آنتوں میں رہتے ہیں لہٰذا انسان کو بھوک محسوس نہیں ہوتی، تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جو مرد اور عورتیںدو ماہ تک چنے کو اپنی بنیادی غذابنا لیں، وہ اپنا آٹھ پاؤنڈ وزن کم کرلیتے ہیں یاد رہے کہ ایک پیالی چنے عموماً پیٹ بھر دیتے ہیں۔

 نظام ہضم کا بہتر ہونا

اس میں موجود فائبر کی کثیر مقدار اسے نظام ہضم کے لیے بھی مفید بناتی ہے، یہ فائبر آنتوں کے دوست جراثیم عرف بیکٹریا کو مختلف مفید تیزاب مہیا کرکے انہیں قوی بناتا ہے نتیجتاً وہ آنتوں کو کمزور نہیں ہونے دیتے اور انسان قبض و دیگر تکلیف دہ بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

کولیسٹرول کا علاج

چنے کھانے سیکولیسٹرول میں بھی کمی واقع ہوتی ہے:جسم میں کولیسٹرول بڑھ جائے تو امراض قلب میں مبتلا ہونے اور فالج ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، چنے اپنے مفید غذائی اجزاء کی بدولت فطری انداز میں کولیسٹرول کی سطح کم کرتے ہیں، ایک تجربے میں ماہرین طب نے چند مردوں اور عورتوں کو ایک ماہ تک آدھی پیالی چنے کھلائے، جن کے بدن میں کولیسٹرول زیادہ تھا، ایک ماہ بعد ان کے کولیسٹرول میں نمایاں کمی دیکھی گئی دراصل چنے میں فولیٹ اورمیگنیشیم کی خاصی مقدار ملتی ہے، یہ وٹامن و معدن خون کی نالیوں کو طاقتور بناتے ہیں اور انہیں نقصان پہنچانے والے تیزاب ختم کرتے ہیںنیز حملہ قلب یعنی ہارٹ اٹیک کے خدشات بھی کم ہوجاتے ہیں۔

چنا گوشت کا بہترین نعم البدل 

چنے میں خاطر خواہ پروٹین ہوتاہے، اگر اسے کسی اناج مثلاً ثابت گندم کی روٹی کیساتھ کھایا جائے، تو انسان کو گوشت یا ڈیری مصنوعات جتنی پروٹین حاصل ہوتی ہے اور بڑا فائدہ یہ ملتا ہے کہ نباتی پروٹین زیادہ حرارے یا سیچوریٹیڈفیٹس نہیں رکھتی۔

چنے سے شوگر کی روک تھام ممکن 

چنے اور دیگر دالیں کھانے والے شوگر ٹائپ 2کا شکار نہیں ہوتے،وجہ یہ ہے کہ یہ غذائیں زیادہ ریشہ اور کم گلیسمک انڈکس رکھتی ہیں، اسی باعث ان میں موجود کاربوہائیڈریٹ آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں، اسی عمل کے باعث ہمارے خون میں شکر یک دم اوپر نیچے نہیں ہوتی اور متوازن رہتی ہیجبکہ انسان جب کم ریشے والی کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذا کھائے تو ا س کے خون میں شکر بہت تیزی سے اوپر نیچے ہوتی ہیجب یہ عمل معمول بن جائے، تو انسولین نظام گڑبڑا جاتا ہے یوں شوگر ٹائپ 2جنم لیتی ہے۔

ہڈیوں کی مظبوطی

اسی طرح ہڈیوں کے لیے کابلی چنے بہت فائدہ مند ہیں،یہ کیلشیم سے بھرپور ہوتے ہیں اور کیلشیم ہڈیوں کے لیے سب سے اہم عنصر ہے، یہ ہڈیوں کو صحت مند بنانے اور انہیں مضبوط رکھنے میں مدد کرتے ہیں، جسم خود کیلشیم تیار نہیں کرتا ہے، اس لیے کیلشیم سے بھرپور غذائیں لی جاسکتی ہے، مضبوط ہڈیوں کے لیے آپ روزانہ چنوںکا استعمال کریں۔

چنے کھانے سے توانائی میں اضافہ 

چنے میں شامل فولاد، مینگنیز اور دیگر معدن و حیاتین انسانی قوت بڑھاتے ہیں، اسی لیے چنا حاملہ خواتین اور بڑھتے ہوئے بچوں کے لیے بڑی مفید غذا ہے، یہ اُنہیں بیشتر مطلوبہ غذائیت فراہم کرتا ہے،مزید برآں چنا ساپونینز Saponins نامی فائٹو کیمیکل رکھتا ہے، یہ اینٹی آکسائڈ کا کام دیتے ہوئے خواتین کو سینے کے سرطان سے بچاتیہیں نیز ہڈیوں کی بوسیدگی کے مرض سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
چنے سی عمر میں اضافہ ہوتا ہے:چنوں کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ ا نہیں کئی ماہ تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور ان کی غذائیت بھی کم نہیں ہوتی، ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں بھگونے کے بعد استعمال کیا جائے تو بہتر ہے یوں وہ جلد ہضم ہوجاتے ہیں، چنوں کو چار تا چھ گھنٹے بھگونا کافی ہے بھگونے کے بعد چنے جتنی جلد استعمال کیے جائیں بہتر ہیں، چنے بھگوتے ہوئے ا ن میں تھوڑا سا نمک اور میٹھا سوڈا ڈال لیا جائے تو وہ جلد گل جاتے ہیں۔۔۔ دور حاضر میں رات کو پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ چنے کھانے کے بعدچنوں کا بچا ہوا پانی پینے والے لوگ پورے دن کی توانائی کے علاوہ قبض سے بھی نجات پالیتے ہیں۔

چنا پیشاب آور اور قبض کشا 

چنے کا پانی یا شوربا پیشاب آور اور قبض کشا ہے، یہ نہ صرف خون کو صاف کرتا ہے بلکہ اس کے کھانے سے چہرے کا رنگ نکھرتا ہے، بدن کو گندے اور فاسد مادوں سے پاک کرتا ہے، پھیپھڑوں کیلئے مفید غذا ہیگردے کے سدے کھولتا ہے۔

جسم کو فربہ کرنے کے لیئے

اس کے کھانے سے بدن فربہ ہوجاتا ہی قدیم اطبائنے چنے کو بے حد مقوی قرار دیا ہے اس سے بدن میں صالح خون پیدا ہوتا ہے، بدن میں خاص قوت کو بڑھاتا ہیمغرب کی جدید تحقیقات نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہیجدید تحقیق کے مطابق اناج میں سب سے زیادہ مقوی غذا چنا ہے ایک چھٹانک چنے میں دو سو چھ غذائی حرارے یعنی کیلوریز کی قوت ہوتی ہیچونکہ چنے میں وٹامن ای پایا جاتا ہے، اس وٹامن کی کمی سے مردوں میں خاص طاقت کم ہوجاتی ہے اولاد نہ ہونے تک نوبت جا پہنچتی ہے عورتوں میں بھی اندرونی اعضاکمزور ہوجاتے ہیں اور حمل گرنے کا اندیشہ ہوتا ہیحیرت انگیز طور پر طب یونانی اور طب جدید دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ چنا مقوی غذا ہے اور ان نقصانات سے بچاتا ہے لہذا قوت باہ کیلئے چنے کا استعمال ایک کامل غذا کاکام دیتا ہے۔۔۔ چاہے اسے ابال کر کھائیں، اسے بھگو کر کھائیں یا اسے بھون کر استعمال کریں، ہر لحاظ سے ہی فائدہ مند ہے۔

بھنے ہوئے چنے کھانے سے کھانسی سے نجات 

کھانسی کی صورت میں بھنے چنے کا استعمال بہترین ہے، کھانسی کیلئے بھنے کالے چنےدو چمچ، مصری ایک چمچ، کالی مرچ اور سفید مرچ آدھا آدھا چمچ لے کر پیس کر رکھ لیں،صبح ناشتے اور رات کھانے سے دو گھنٹے پہلے کھا لیں، ان شاء اللہ کھانسی ٹھیک ہوجائے گی اسی طرح بھنے چنے کا استعمال نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کے لئے بھی بہت نفع بخش ہے، اگر آپ اپنے بچے کی جسمانی قوت بڑھانا اور اسے بیماریوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو بچوں کو بھنے ہوئے چنے میں کشمش اور مصری وغیرہ ملاکر کھلاسکتے ہیں، بعض ماہر ین طب نے چنے کے غذائی اجزاکو انڈے کی زردی کے برابر بھی قرار دیا ہے، چنے کو انڈے کی جگہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

دوستو!ہم امید کرتے ہیں کہ آپکو آج کی اس آرٹیکل سے بہت سی مفید معلومات ملی ہوں گی تو جلدی سے اس پوسٹ کو لائک کر کے اپنی پسندیدگی کا اظہار کریں، ہمارے شوشل میڈیا پیجز اور یوٹیوب چینل کو  لائیک وسبسکرائب کریں اور صدقہ جاریہ کی نیت سے اس یوسٹکو فیس بک اور واٹس ایپ پر زیادہ سے زیادہ شیئر کر دیں۔ جزاک اللہ ۔

Axact

Axact

Vestibulum bibendum felis sit amet dolor auctor molestie. In dignissim eget nibh id dapibus. Fusce et suscipit orci. Aliquam sit amet urna lorem. Duis eu imperdiet nunc, non imperdiet libero.

Post A Comment:

0 comments: