آلو کا طبی مزاج اور اس کے فوائد

دیگرزبانوں میں نام

 سندھی میں پوٹاٹا۔ اردو میں آلو۔ انگریزی میں پٹاٹو۔ گجراتی میں آلو کہتے ہیں ۔

آلو کی ماہیت

 ایک مشہور عام ترکاری ہے جس کے پتے اوپر اور پھل زمین میں ہو تا ہے ۔ عام طور پر بطور نان خورش مستعمل ہے ۔
 

آلو کی رنگت

سرخ اور بھورا

آلو کا عام ذائقہ

پھیکا

آلو کا مزاج

سر د پہلا درجہ اور خشک دوسرے درجہ میں

آلو کے دیگر فوائد 

آلو ایک مشہور سبزی ہے، اصل میں یہ ایک پودے کی جڑ ہے، اس کا آبائی وطن جنوبی پیرو ہے، سولہویں صدی سے قبل یہ زیادہ مشہور سبزی نہیں تھی اور آج یہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی سبزی ہے، اسے 1536ء میں جنوبی امریکہ سے یورپ میں لایا گیا جہاں سے یہ باقی دنیا میں پھیل گیا، اس کی ہزاروں مختلف اقسام ہیں، اس کو پہلی بار دس ہزار سال قبل پیرو اور بولیویا کے پہاڑی علاقوں، یعنی جنوبی امریکہ میں دریافت کیا گیا تھا، پھر اٹھارویں صدی کے وسط میں چلی سے یورپ میں متعارف کرایا گیا وہاں سے یہ برصغیر پاک و ہندسے ہوتا ہوا چین پہنچا اور آج آلو دنیا بھر کی ہر دلعزیز سبزی ہے ، یورپ والے تو جیتے ہی آلو کے سر پر ہیں برصغیر میں اسے اگر ہم ترکاری کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو یورپی اسے اناج کی جگہ کھاتے ہیں اور خوب کھاتے ہیں ان کے غذائی نقشے کا مطالعہ کیا جائے تو کچھ اس قسم کا ہوگا ابلے ہوئے آلو، تلے ہوئے آلو، کچلے ہوئے آلو، یعنی آلو ہی آلو۔۔۔ ایک محتاط اعداد و شمار کے مطابق صرف امریکہ میں آلو کی سالانہ پیداوار ۲کروڑ ٹن سے زائد ہے وہاں کا ہر باشندہ سالانہ تقریبا 60کلو آلو کھا جاتا ہے جبکہ پاکستان کی سالانہ آلو کی پیداوار چالیس لاکھ ٹن کے قریب ہے اور پاکستانیوں کی اوسط تقریبا ۱۴ کلو سالانہ بنتی ہے، باقی یورپ کا بھی امریکا والاہی حال ہے، آلو میں حد درجہ غذائیت پائی جاتی ہے، اسی لیے بطور خوراک بھی اگر صرف اسے ہی کھایا جائے تو کسی قسم کی کمزوری واقع نہیں ہوتی، کچھ لوگ اس ڈر سے آلو کھانا چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ موٹاپا پیدا کرتا ہے حالانکہ یہ اس پر سراسر الزام ہے چونکہ آلو میں چکنائی یا چربی جیسی چیز کا فقدان ہے اس لیے یہ موٹاپے کا باعث نہیں بن سکتا، موٹے آپ کسی اور وجہ سے ہو سکتے ہیں، اس کی وجہ سے نہیں، آلو کے اتنے عام استعمال ہونے کے باوجود زیادہ تر لوگ اس کے مکمل خواص سے آگاہی نہیں رکھتے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی اس کے فوائد جاننے کی کوشش ہی نہیں کی صرف لذت لی اور بھول گئے۔ تو آج کی اس ویڈیو میں ہم آپکو بتاتے ہیں کہ یہ کس کس بیماری میں فائدہ مند ہے اور کس میں نقصان دہ اور اس کو استعمال کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔

دوستو! یہ دنیا میں سب سے زیادہ اُگائی جانے والی سبزی ہے جو پورا سال کاشت ہوتی رہتی ہے، آلو اپنے فوائد کے اعتبار سے دنیا کی مفید ترین سبزیوں میں بھی شمار ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ متوازن غذا میں ہمیشہ آلو کو شامل رکھا جاتا ہے، آلو میں معدنی نمک اوروٹامنز باقی ترکاریوں کی نسبت بہت زیادہ ہوتے ہیں جو بچوں کی نشوونما کرتے ہیں اس لئے بچوں کے لئے یہ نہایت مفید اور مقوی غذا ہے، اس میں چونا کم ہوتا ہے مگر یہ کمی دیگر سبزیوں سے پوری ہوجاتی ہے یاد رہے کہ بچوں کو آلو کا شوربا یا اُبلا ہوا آلو مسل کر دیں، آلو کے اہم ترین غذائی اجزاء اس کے چھلکے میں ہوتے ہیں یعنی آلو کی زیادہ تر غذائیت چھلکے کے نزدیک ہوتی ہے، اس لیے اگر آلو کو چھیلے بغیر استعمال کیا جائے تو یہ بہترین طریقہ ہے، اگر کسی سالن یا اور چیز میں آلو کے بڑے بڑے ٹکڑے استعمال کیے جائیں تو چھلکے سمیت پکائیں بعد میں ان کے پتلے پتلے چھلکے اتارے جا سکتے ہیں، اگرچھیلنا مقصود ہو تو اسے ہمیشہ کھرچ کر چلیں تاکہ زیادہ سے زیادہ غذائی اجزاء بچائے جا سکیں، آلو ابالنے کا طریقہ بھی یہ ہے کہ انہیں دیگچی میں ٹھنڈے پانی میں ڈال کر تیز آنچ پر رکھ دیں، پانی اُبلنے لگے تو چولہا آہستہ کردیں تاکہ آلو آہستہ آہستہ گل جائیں، وہ پانی جس میں آلو ابلتے ہیں وہ بھی خاصی غذائیت رکھتا ہے کوشش کریں اس پانی کو نتھار کر سالن میں استعمال کرلیں۔

دم پخت طریقے سے پکانے پر آلو کی غذائیت سب سے زیادہ برقرار رہتی ہے، بھنا ہوا آ لو بھی انتہائی لذیذ ہوتاہے، جیسے کہ شکرقندی بھوبھل میں بھونی جاتی ہے،اسی طرح آلوبھی بھونے جاتے ہیں جن کا ذائقہ لاجواب ہوتا ہے، اگر آلوؤں کی سطح کو بھوننے سے پہلے گھی یا مکھن سے چپڑ دیں تو بھننے پر ان کا چھلکا نرم اور مزیدار ہو گا اور اتارنے کی ضرورت نہ ہو گی، خصوصاً بچوں کیلئے بہترین غذا ہے بلکہ غذائیت کا سربمہر خزانہ ہے،

آلو سے مختلف بیماریوں کا علاج

اب آپکو اس کے مختلف بیماریوں میں فوائد اور استعمال کا طریقہ بتاتے ہیں۔

ریح

بعض لوگ کہتے ہیں کہ آلو دیر ہضم اور بادی یعنی ریاح پیدا کرنے والاہے لیکن یہ خیال غلط ہے، آلو جلد ہضم ہونے والی غذا ہے چونکہ اس میں قدرتی کھار ہوتی ہے اس لئے جسم میں کھٹائی یورک ایسڈ کو زائل کرتا ہے لہذا یہ ریاح پیدا نہیں کرتا بلکہ ہر قسم کی ریح کو دور کرتا ۔۔۔ تیزابیت:آلو سب غذاؤں سے زیادہ کھار رکھتا ہے، اس لیے یہ بدن میں کھار کا ذخیرہ برقرار رکھنے اور اضافی کے خلاف تریاق کی حیثیت رکھتا ہے، یہ یورک ایسڈ کو تحلیل کرکے خارج کرتا ہے، اس کے علاوہ انتڑیوں میں غذائی تخمیر کی معاونت اور اعضائے ہضم میں موافق جراثیم کی نشوونما کرتا ہے۔۔۔

قبض

طبی طور پر آلو قبض کشا اور پیشاب آور ہے، طبیعت کو آرام دیتا ہے، دودھ پیتے بچے کے لیے آلو کا شوربہ اور آلو کا بھرتا مفید ہے۔ گردہ کی پتھری:یورپ کے ایک ڈاکٹر کا قول ہے کہ گردے کی پتھری میں اگر اور علاج نہ کیا جائے تو آلو کا باقاعدہ استعمال پتھری کو توڑ کر نکال دیتا ہے، اس کے ساتھ وافر مقدار میں پانی پینا بھی سود مند ہے، البتہ اس پر ابھی تک کوئی سائنسی تحقیق نہیں کی گئی۔۔۔

گنٹھیا کا مرض

کچے آلو کا رس گنٹھیا کے مرض کا کامیاب علاج سمجھا جاتا ہے، کدو کش کیے ہوئے تازہ آلو نچوڑ کر رس نکال لیں اور کھانے سے پہلے ایک یا دو چمچ پیجئے، بدن میں یورک ایسڈ ختم کرنے اور گنٹھیا کے مرض کی شدت کم کرنے میں فائدہ مند ہے، آلو کا چھلکا بھی اس مرض کا عمدہ علاج ہے کیونکہ اس میں اہم معدنی نمکیات ہوتے ہیں چنانچہ آلو کے چھلکوں کو دھو کر چند منٹ تک پانی میں ابالیں، اب اس جوشاندے کو چھان کر دن میں تین چار بار ایک گلاس مریض کو پلائیں۔

نظام ہضم

کچے آلو کا رس معدے اور انتڑیوں کی بے قاعدگی میں بہت مفید ہے، معدے کے السر کا علاج سرخ آلو کے رس سے کیا جاتا ہے، یہ معدے کے ورم کو بھی ٹھیک کرتا ہے، مناسب خوراک یہ ہے کہ دن میں دو یا تین مرتبہ کھانا کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے آدھی پیالی رس پی لیجئے، آلو کا نشاستہ غذائی نالیوں کے امراض اور زہریلے پن کے سبب پیدا ہونے والی سوجن بھی تحلیل کرتا ہے۔۔۔

جلد کے داغ دھبے

کچے آلو کا رس جلد کے داغ دھبے دور کرنے میں بھی آزمودہ ہے، اس کی یہ مصفیٰ تاثیر پوٹاشیم، گندھک، فاسفورس اور کلورین کی وجہ سے ہے لیکن یہ اجزاء اسی وقت تک مؤثر رہتے ہیں، جب تک آلو کچی حالت میں رہے، آگ پر پکنے کی صورت میں یہ نامیاتی جوہر ضائع ہو جاتے ہیں اور ان کی افادیت کم ہو جاتی ہے، کچے اور کچلے ہوئے آلو کا رس دار گودا جلد پر لگائیں اور دس یا پندرہ منٹ بعد سادے پانی سے دھولیں تو جھریاں اور بڑی عمر کے سبب بننے والے داغ دھبے صاف ہو جاتے ہیں، ایک آلو درمیان سے کاٹ لیں اور کٹے ہوئے آلو کو سونے سے پہلے کچھ دیر چہرے پر رگڑیں، یہ جھریاں اور داغ دھبے دور کرنے کے ساتھ ساتھ رنگت بھی نکھارتا ہے۔۔۔

سوجن

کچے آلو کا رس بیرونی استعمال کے ذریعے سوجن، جوڑوں اور پٹھوں کا درد دور کرتا ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ رس کو اتنا پکایا جائے کہ اگر یہ ایک گلاس ہے تو پون گلاس رہ جائے، ٹھنڈا ہونے پر اس میں تھوڑی سی مقدار میں گلیسرین شامل کر لیں، یہ اسے محفوظ بنانے میں مدد دیتی ہے، متاثرہ حصے کو ٹکور کرنے کے بعد رس کی مالش کی جائے، ہر تین گھنٹے بعد کی مالش سوجن اور درد کو دور کردے گی۔۔۔ جلنے کا زخم:اگر جسم کا کوئی حصہ جھلس جائے تو کچا آلو کدوکش کر کے، رس دار گودے کو جلے ہوئے حصے پر لگا دیں، فوراً آرام آ جائے گا اور جلن دور ہو جائے گی۔۔۔

زنگ کا داغ

اگر کسی کپڑے پر زنگ کا داغ پڑ جائے تو داغ والی جگہ پر کچا آلو کاٹ کر رگڑیں اور فوراً دھو لیں، داغ دور ہو جائے گا۔۔۔

عام گھریلو ٹوٹکے

ابلا ہوا آلو بغیر نمک کے کھایا جائے تو اس سے ہائی بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر روزانہ اچھی مقدار میں پانی پینے کیساتھ ساتھ آلو کی مناسب مقدار بھی کھانے میں شامل رکھی جائے تو گردوں کی بہت سی بیماریوں (بشمول گردے کی پتھری) سے بچا جاسکتا ہے، اس بارے میں حکماء کایہ دعوی بھی موجود ہے کہ آلو کھانے سے گردے کی پتھری ٹوٹ جاتی ہے لیکن ابھی تک کسی سائنسی ریسرچ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی، سینے کی جلن اور معدے کی تیزابیت میں بھی آلو کا استعمال مفید رہتا ہے، ایگزائما اور جلی ہوئی جلد پر آلو کا رس لگانے سے بھی ایکزما اور کھال جلنے کے نشان بڑی حد تک ختم ہوجاتے ہیں جبکہ کھال بھی محفوظ رہتی ہے، اگر آپ آلو کے منفی اثرات سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں گرم مصالحے کے ساتھ استعمال کیجئے، دیسی طبِ میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آلو کو چھلکوں سمیت اُبال کر کھانا اسے سالن میں پکا کر کھانے سے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے البتہ روزانہ ۲۵۰گرام ( یعنی ایک پاؤ) سے زیادہ آلوؤں کا استعمال فائدے کی بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے، آلو استعمال کرتے وقت یہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ بعض حکماء کا کہنا ہے کہ یہ دیر سے ہضم ہوتا ہے، اسلئے قبض کے دوران یا کمزور معدے کی صورت میں آلو استعمال نہیں کرنا چاہیے علاوہ ازیں اسکا زیادہ استعمال معدے میں گیس بھی پیدا کرتا ہے جبکہ زیادہ آلو کھانے سے سینے پر بلغم کی شکایت بھی ہوسکتی ہے جبکہ شوگر کے مریضوں کو بطورِ خاص آلو کھانے میں محتاط رہنا چاہیے کیونکہ اس میں کاربوہائیڈریٹس کی بڑی مقدار موجودہوتی ہے، جس سے خون میں شکر کی مقدار بڑھ سکتی ہے حکماء کی رائے میں آلو کھانے سے گٹھیا کے مرض کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے، حکماء کا کہنا ہے کہ آلو میں پائے جانے والے میگنیشیم کی وجہ سے ابلے ہوئے آلو کا پانی پیتے رہنے سے پتھری ریزہ ریزہ ہوکر پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتی ہے، تمام دن پانی کا زیادہ استعمال بھی ضروری ہے آلو میں موجود میگنیشیم پتھری کو توڑتا ہے اور نئی پتھری نہیں بننے دیتا، گردوں کے درد اور پتھری کیلئے بھنے ہوئے آلو اور مولی ہم وزن لے کر ان میں سونف، نمک اور کالی مرچ ملا کر استعمال کرنا مفید ہے، ( یہ بات صرف حکماء کہتے ہیں کسی سائنسی ریسرچ سے یہ بات ثابت نہیں، اس لیے استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں)، آلوکو باقاعدہ (بوائل کر کے) کھانے سے تیزابیت کم ہوتی ہے، کچے آلو کا رس پینا سینے کی جلن میں مفید ہے، جوڑوں کے درد کیلئے بھنے ہوئے ۱۲۰گرام آلو ۳۰گرام ٹماٹر اور تھوڑی سی ادرک لے کر یکجا کر کے روزانہ کھائیں، جلی ہوئی جلد پر اگر فوری طور پر آلو کاٹ کر ملا جائے تو جلد نہ صرف محفوظ رہتی ہے بلکہ نشان بھی مٹ جاتا ہے، آلو کو کھانے کے علاوہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اگر آپ صابن سے سلور کے برتن چمکانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر بھی وہ صاف نہیں ہورہے تو آلو کو آزما کردیکھیںکچھ آلو سلور کے برتن میں ڈال کرابالیں اور جب وہ ابل جائیں توآلو کو نکال کر پانی کو برتن میں ایک گھنٹہ تک پڑا رہنے دیں،اس کے بعد برتن کو صابن سے صاف کریں گے تو وہ چمک جائیں گے، اس کے علاوہ اگر کسی جگہ زنگ لگی ہو تو آلو رگڑیں، تھوڑی ہی دیر بعد زنگ صاف ہونے کے بعد مذکورہ جگہ چمک جائے گی، اسی طرح اگر صبح اٹھتے ہوئے آنکھیں چپک جاتی ہوں یا ان میں تھکن رہتی ہو تو اٹھنے کے بعد آلو کاٹ کر آنکھوں پر رکھیں، آپ اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کریں گے، ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر آلو کو بغیر چھیلے ان کا جوس بناکر پیا جائے تو اس سے دل کی دھڑکن کنٹرول میں رہتی ہے اور ساتھ ہی زخم جلد مندمِل ہوجاتے ہیں، اسکے علاوہ اگر آپ اپنے جسم کو ٹھنڈی یا گرم چیز سے ٹکور کرنا چاہتے ہیں تو آلو کو ابال لیں اور کپڑے میں رکھ کر تکلیف والی جگہ لگائیں،اگر ٹھنڈی ٹکور کرنی ہوتو آلوکو فریزر میں رکھیں اور ٹھنڈا ہونے پر استعمال کریں، اسی طرح اگر کھانا پکاتے ہوئے ہانڈی میں نمک زیادہ ہوجائے تو چند کچے آلوکاٹ کر ڈالنے سے ذائقہ نارمل ہوجاتا ہے، اسکے علاوہ آلو آپکے بلڈ پریشر کو بہتر رکھتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب بالکل نہیں کہ آپ تیل میں تلے آلو کے چپس کھاتے جائیں بلکہ بیک کر کے یا ابال کر اپنے سلاد کا حصہ بنائیں، اسی طرح آلو میں موجود الفا لیپوئک ایسڈ دماغی صحت کو بہتر کرتا ہے جبکہ ڈاکٹرز کا یہ بھی ماننا ہے کہ الزائمر نامی دماغی مرض میں مبتلا افراد کو آلو کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے، اسکے علاوہ آلو میں موجود فائبر نظام ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے، اگر اسے صحیح انداز اور صحیح مقدار میں کھایا جائے تو پیٹ کی خرابی یعنی ڈائریا سے بھی جلد نجات مل سکتی ہے اور ٹریپٹوفان نامی ایک ایسا تیزاب جو آلو میں موجود ہوتا ہے، یہ اس سبزی کا پروٹین ہے، جس سے نیند بہتر آتی ہے، آلو میں موجود پوٹاشیم بھی انسانی جسم کے عضلات کو آرام دیتا ہے، اسی طرح آلو میں کیلشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، جو ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے، اسکے علاوہ آلو میں موجود وٹامن سی جلد کو بہتر کرنے کیلئے کار آمد مانا جاتا ہے، آلو کا استعمال خشک جلد کو بہتر کرتا ہے جبکہ اسے چہرے پر لگایا جائے تو جھریاں بھی ختم ہوسکتی ہیں، اس کا اہم ترین فائدہ یہ ہے کہ بالوں کو سیاہ کرتا ہے، زیادہ تر لوگ آج کل سفید بالوں کے خاتمے کیلئے بازار میں دستیاب کلر سے مدد حاصل کرتے ہیں، ان کلرز میں موجود کیمیکلز بالوں کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں، اسکے علاوہ یہ کلر مستقل حل بھی نہیں بلکہ آپ کو لازمی طور پر ہر ماہ ان کا استعمال کرنا پڑتا ہے، تو آج آپکو بتاتے ہیںاس مسئلے کا آسان اور مستقل حل، یہ قدیم زمانے کا نسخہ ہے، جو آلو کے چھلکوں کے پانی سےسر دھونے کا ہے، یہ سفید بالوں کو ختم کرنے کا ایک آزمودہ طریقہ ہے اور آپ کے بالوں کو مضبوط بھی کرتا ہے، آلو کے چھلکے میں موجود سٹارچ کی مقدار آپ کے سفید بالوں کو کالاکردیتا ہے، اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کس طرح یہ مرکب بنایا جائے تاکہ آپ بآسانی بالوں پر لگا سکیں۔۔۔ اس کیلئے جو اجزاء آپکو چاہئیں وہ نوٹ کر لیں،تین سے چارآلوؤں کے چھلکے، لیونڈر کا تیل (Lavendar Oil) اور پانی، اب اس کو بنانا کیسے ہے وہ آپکو بتاتے ہیں، تین سے چار آلوؤں کو چھیل کر ان کے چھلکوں کو ٹھنڈے پانی میں کچھ دیر ڈال کر رکھ دیں، پھر ایک پتیلے میں اسے ابالیں، جب پانی ابل جائے تو دھیمی آنچ پر تھوڑی دیر چھلکوں کو ابلنے دیں، اس کے بعد چولہا بند کرکے پانی کو ٹھنڈا ہونے دیں، آلوؤں کی خوشبو کو ختم کرنے کے لیے اس میں لیونڈر کا تیل شامل کر لیں، ٹھنڈا ہونے کے بعد اس مرکب کو ایسے ڈبے میں بند کردیں جہاں ہوا کا جانا ناممکن ہو، استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس مرکب کا زیادہ فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب صاف گیلے بالوں میں استعمال کیا جائے، اس آلوؤں کے چھلکے والے پانی کو شیمپو کرنے کے بعد بالوں پر لگائیں لیکن اس مرکب کو لگانے کے بعد بال نہیں دھونے، ورنہ فائدہ نہیں ہو گا، یہ اسی وقت کام کرتا ہے جب بغیر دھوئے بالوں میں جذب ہو جائے۔

آلوکے سائیڈ ایفیکٹ

جہاں آلو کے درجنوں فوائد ہیں وہیں آلو کے اعتدال سے زیادہ کھانے کے کئی نقصانات بھی ہیں، یاد رکھیں آلو کا شمار ان سبزیوں میں ہوتا ہے جن کا گلسیمک انڈیکس(Glycemic) ہائی ہے یعنی یہ اعتدال سے زیادہ کھانے کے بعد خون میں تیزی سے شوگر کے لیول کو اوپر لیکر جاتا ہے، جس سے شوگر کے مرض کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اس لیے اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو آلو سے دُور رہنا ہی آپ کے لیے بہتر ہے، خاص طور پر اس کے بنے چپس بلکل نہ کھائیں چونکہ آلو میں چونا بہت کم ہوتا ہے، اس لئے ساتھ ساتھ دیگر سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بھی رکھنا چاہیے تاکہ ان کے ذریعے جسم کو چونا ملتا رہے، آلو کے تیل میں بنے چپس بلڈ پریشر کو بڑھاتے ہیں اس لیے جب بھی کھائیں بھون کر یا ابال کر کھائیں۔یاد رکھیں آلو دیر ہضم ہوتا ہے اور کمزور معدہ والوں کو اس کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے، بادی اور بلغم بھی پیدا کرتا ہے، آلو ریح یعنی گیس پیدا کرتا ہے، آلو بادی ہے اور بلغمی رطوبات کو زیادہ کرتا ہے ،اسی کے علاوہ شوگر کے مریضوں کو آلو اور اس کی مصنوعات خصوصاً چپس ،فنگر چپس وغیرہ کھانے میں خصوصی احتیاط برتنی چاہئے، نقرس اور گنٹھیا کے باعث ہونے والے جوڑوں کے درد میں آلو مفید نہیں لہذا ایسے مریض آلو نہ کھائیں، گرم مصالحوں کے ساتھ اس کا استعمال زیادہ محفوظ رہتا ہے، ایک آدمی کو ایک دن میں ڈھائی سو گرام سے زیادہ آلو نہیں کھانا چاہیے بلکہ بہتر تو یہی ہے کہ اس سے بھی کم مقدار میں کھائے جائیں اور چھیلے ہوئے آلوؤں کی نسبت بغیر چھیلے ہوئے آلوؤں کو پکاتے وقت کم وٹامنز ضائع ہوتے ہیں ، اس لیے کوشش کریں کہ آلو کو اچھی طرح دھو کر بغیر چھیلے استعمال کریں، زیادہ فائدہ ہو گا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ آپکو آج کی اس آرٹیکل سے بہت سی مفید معلومات ملی ہوں گی تو جلدی سے اس پوسٹ کو لائک کر کے اپنی پسندیدگی کا اظہار کریں، ہماری شوشل میڈیا پیجز اور یوٹیوب چینل کو  لائیک وسبسکرائب کریں اور صدقہ جاریہ کی نیت سے اس یوسٹ کو فیس بک اور واٹس ایپ پر زیادہ سے زیادہ شیئر کر دیں۔ جزاک اللہ

 

Axact

Axact

Vestibulum bibendum felis sit amet dolor auctor molestie. In dignissim eget nibh id dapibus. Fusce et suscipit orci. Aliquam sit amet urna lorem. Duis eu imperdiet nunc, non imperdiet libero.

Post A Comment:

0 comments: