خارش اور الرجی کا دیسی علاج

 

آج جس  موضوع  یہ مضمون لکھنے لگا ہوں وہ خارش اور جلدی الرجی کا ہے۔خارش میں انسانی جسم پر چھوٹے چھوٹے دانے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں یا کبھی کبھار بغیر دانوں کے بھی جلدی خارش ہونا شروع ہوجاتا ہے۔اور یہ دانے سرخی نما ہوتے ہیں جس میں خارش کے بعد جلن بھی شروع ہوجاتی ہے. اور خارش کے ساتھ لذت بھی انتہا کی مریض کو حاصل ہوتی ہے۔اور کبھی تو یہ خارش ایسے نازک جگہوں میں ہونا شروع ہوجاتی ہے جہاں کو کھجلانا بھی مشکل اور کسی کے سامنے تو ناممکن ہوجاتا ہے
اور مریض کبھی دائیں کبھی بائیں خود بخود حرکت یا خود کو دیوار یا کسی اور کھردری چیز سے کھجلانا شروع کردیتا ہے
تاکہ کچھ وقتی آرام حاصل ہو۔

خارش کی اقسام

 خارش الرجی کی پہلی قسم

 
زنانہ  یا مردانہ اعضائے خاص  پر خارش شروع ہوجائے تو یہ تو انتہائی اذیت ناک اور شرمندگی کا باعث ہوتا ہےعموما یہ عضلاتی یعنی سودوای خارش ہوتی ہے۔

 خارش الرجی کی دوسری قسم

تیزابی خشک مزاج افراد کو ہوتا ہے. جسکا باعث جسم میں سوداو کی زیادتی اور خشکی کی کثرت ہوتی ہے

 خارش الرجی کی تیسری قسم

غدی اعصابی خارش کی کیفیت مذکورہ سے کیفیت سے الگ ہوتی ہے۔

 خارش الرجی کی تشخیص

اب معالج کا کام ہے کہ مکمل درست تشخیص کے بعد ہی مناسب تجویز دیا کرے تاکہ جلد سے جلد مرض کا ازالہ ہوسکے
اگر تو جلد پر خشکی اور خارش دونوں ہے. تو آپ سمجھ لیں کہ خارش عضلاتی ہے۔

اور اگر جسم پر تھوڑی بہت تری ہے اور دانے بھی نکل آتے ہیں مگر نکلتے ہی پھٹ جاتے ہیں تو غدی ہوگی۔
اور اگر دانوں میں پیپ جمع بھی ہوتا ہو تو اعصابی خارش ہوگی۔ مکمل تشخیص قارورہ اور نبض اور زبان سے ہی معالج کو کرنا چاہیے۔

 خارش الرجی کا علاج

اگر عضلاتی خارش ہو تو اپکو اپنے مطب کا جادو اثر مجرب نسخہ جو لاکھوں مریضوں پر آزمایا اور اللہ کے فضل سے مریضوں کو  ہمیشہ شفاء ملی۔کوئی بھی ایسا مریض جسے خارش ہو یا  الرجی سب سے پہلے 3 دن گندمی خوراک سے بالکل پرہیز کرے
اسکے بعد 50 گرام عرق گلاب خالص لیکر 5 گرام اصلی کافور ملائے اور پھر ان دونوں کو ملا کر یکجان کر لیں مرہم سی بن جائھ گی۔دن میں 2 سے 3 بار متاثرہ جگہ پر روئی تر کے لگائیں اور دوسری بار لگانے سے پہلے متاثر جگہ کی نیم گرم پانی سے صفائی کرلے انشاءاللہ امید ہےایک سے 2 دنوں میں افاقہ ہوگا۔اگر آپ کو فائدہ ہو یا آپ سے کسی کو فائدہ ہو تو بندہ کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھئے گا۔

Axact

Axact

Vestibulum bibendum felis sit amet dolor auctor molestie. In dignissim eget nibh id dapibus. Fusce et suscipit orci. Aliquam sit amet urna lorem. Duis eu imperdiet nunc, non imperdiet libero.

Post A Comment:

0 comments: