کریلے کا مزاج اور کریلے کے طبی فائدے
کریلےکا ادویاتی نام
(Hairy Mordica)
لاطینی زبان میں کریلے کو
Mordica Charntia
کریلےکا تعارف
اس کی بیل درمیان سے دھاگے کی طرح بہت لمبی ہوتی ہ اور اس کے پتے پھٹے ہوئے کھردرے ان پر کانٹے ہوتے ہیں پھول زرد رنگ کے جو نرم اورخوبصورت ہوتے ہیں ۔کریلاایک انچ سے لے کرپانچھ چھ انچ تک لمبے دونوں سروں پر پتلے اور درمیان سے موٹے ہوتے ہیں ۔کریلے کے اوپر چھوٹے پھوڑوں کی طرح ابھار ہوتے ہیں ۔تخم کدو کی طرح اور کھردرے ہوتے ہیں اور کدو کے بیجوں سےبڑے ہوتے ہیں ۔
کریلے کی اقسام
دیسی کریلا
کریلے کی اس قسم میں یہ پتلے اور کافی لمبے ہوتے ہیں جو کھانے میں بھی لذیز ہوتے ہیں۔
جنگلی کریلا
اس کی ایک قسم جنگلی ہے۔اس کے اوپر کریلے کی طرح ابھار تو ہوتے ہیں لیکن ان کی طرح بیج نہیں ہوتے ۔ان کا ذائقہ کریلے کی طرح ہوتا اور اس کو مرض زیابیطس میں مفیدخیال کیاجاتاہے اس کو سندھ کے اکثر علاقوں میں چوہنگ کہتے ہیں ۔لیکن یہ چوہنگ نہیں وہ الگ قسم کی سبزی ہے۔
کریلے کا مزاج
گرم خشک۔بدرجہ سوم
کریلے کے افعال
مقوی معدہ ،ملین شکم ،منفث بلغم ،قاتل کرم شکم، دافع موٹاپا،دافع ذیابیطس شکری ۔
کریلےکا طبی فائدہ
امراض بلغمی میں مفید ہے
کریلے کے سائیڈ ایفیکٹ
کریلے زیادہ کھانے سےکریلا خشکی پیداکرتاہے۔
کریلے کی اصلاح
مرچ سیاہ ،فلفل دراز، گھی۔
کریلے کی مقدارخوراک
پتوں کا پانی ایک تولہ سے دوتولہ
سفوف خشک کریلاایک سے تین گرام تک۔
کریلے کے عام فوائد
کریلا ایک بیل کا پھل ہے، کچا پھل بہت کڑوا اور ہرے رنگ کا ہوتا ہے لیکن پختہ ہونے پر سرخ اور کچھ کم کڑوا رہ جاتا ہے، اس کے بیجوں کا گودا میٹھا ہوتا ہے، کریلا بستانی اور جنگلی دو قسم کا ہوتا ہے، اس کی ایک قسم سفید ہے جو اکثر راجستھان میں ایک فٹ تک لمبی ہو جاتی ہے، یہ قسم اچھی ہے اس کا چھلکا باریک ہوتا ہے، ایک کریلا گرمی میں اور دوسرا برسات میں ہوتا ہے، کریلے کو پکانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے اوپر کا چھلکا چھیل دیتے ہیں اور پیٹ چاک کر کے بیج نکال دیتے ہیں، پھر نمک مل کر تین چار بار دھوتے ہیں ایسا کرنے سے تلخی دور ہو جاتی ہے پھر پیاز کاٹ کر تیل میں بھون لیتے ہیں اور اس میں کریلا کبھی گوشت کے ساتھ اور کبھی دال کیساتھ پکاتے ہیں توآج کے اس مضمون میں ہم آپ کو اس کے ایسے لاجواب فوائد اور استعمال کرنے کا درست طریقہ بتائیں گے جو آپ کے ادویات کی مد میں خرچ ہونے والے لاکھوں روپے بچا سکتے ہیں اور ساتھ اس کو پکانے کا صحیح طریقہ بھی بتائیں گے۔
کریلا کا خاص طبی راز
قدرتی غذاؤں کے انسائیکلو پیڈیا میں کریلوں کے فوائد میں ایک واقعہ تحریر ہے لکھتے ہیں کہ ہمارے پڑوس میں ایک صاحب عبد اللہ شاہ آیا کرتے تھے، عمر میں سو سال سے اوپر تھے، مگر چست اور توانا۔ روزانہ تین چار میل پیدل چلتے، ان کی نظر بھی کمزور نہیں تھی، باریک لفظوں والاقرآن پاک پڑھتے، کمر جھکی نہیں تھی، دانت بلکل سلامت تھے، وہ جب کبھی آتے ان کے ملنے والوں میں افراتفری مچ جاتی، دوپہر کے کھانے میں شاہ صاحب صرف کریلے کھاتے طرح طرح کے پکوان کریلوں سے بنائے جاتے، بازار میں دستیاب نہ ہوتے تو ان کیلئے تلاش کر کے لائے جاتے، کچھ معتمد تو ایسے تھے کہ ہر موسم میں کریلے اگاتے تا کہ شاہ صاحب کو کھانے میں کوئی شکایت نہ ہو شاہ صاحب کہا کرتے، ’’ صحت کا راز کریلوں میں ہے، آج تک میرے بدن پر گرمی کے موسم میں پھوڑا پھنسی نہیں نکلی، خارش نہیں ہوئی، میرا رنگ اس عمر میں بھی سرخ و سفید ہے، میں ٹانک یا کشتے استعمال نہیں کرتا صرف دن میں ایک بار کریلے ضرور کھاتا ہوں ، مجھے شوگریا گنٹھیا کا عارضہ نہیں ، اللہ کا شکر ہے من بھر سامان اٹھا کر چار میل گرمی میں بھی چل سکتا ہوں۔
دوستو! کریلا اعلیٰ قسم کی طبی خوبیوں سے مالامال ہے، عام جسمانی امراض میں بھی کریلا بطور دوائی استعمال ہوتا ہے، اس کا پابندی سے کھانا جوڑوں کے درد کے مریضوں کیلئے بہت فائدہ مند ہے، اسی طرح نقرس اور گنٹھیا کے مریض بھی اس سے بہت استفادہ حاصل کرتے ہیں، ان امراض میں کریلوں کا سالن بہت مفید ہے، علاوہ ازیں فالج اور لقوہ اور دیگر اعصابی امراض میں بھی کریلے کے فوائد بہت نمایاں ہوتے ہیں،کریلوں کے استعمال سے اعصاب میں تحریک ہوتی ہے اور کریلے اعصاب کی قوت کی بحالی کیلئے اہم کردار ادا کرتے ہیں، کریلا چونکہ تمام ضروری معدنی اجزاءاور وٹامنز بالخصوص وٹامن اے، بی سی اور آئرن کی غذائی صلاحیت رکھتا ہے چنانچہ اس کا باقاعدہ استعمال ہمیں بہت سی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتا ہے، جن میں ہائی بلڈپریشر، آنکھوں کے امراض، اعصاب کی سوزش اور کاربوہائیڈریٹس کا ہضم نہ ہونا شامل ہے، کریلوں کا استعمال انفیکشن سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔
کریلا اور بواسیر
کریلوں کے تازہ پتوں کا جوس بواسیر میں بہت مفید رہتا ہے، چائے کے تین چمچے پتوں کا جوس، ایک گلاس لسی میں ڈال کر روزانہ صبح ایک ماہ تک پینا بواسیر کے عارضہ کو دور کر دیتا ہے، کریلوں کی جڑوں کا پیسٹ بواسیر کے مسوں پر لگانا بھی بہت مفید ہے۔
کریلا سے خون کی صفائی
خون کے متعدد امراض جن میں فساد خون سے پھوڑے پھنسیاں نکلنا، خشک خارش،تر خارش، چنبل اور بھگندر شامل ہیں، انکا علاج کرنے کیلئے کریلا بہت کارآمد ہے، تازہ کریلوں کا جوس ایک کپ، ایک چائے کا چمچ لیموں کا رس ملاکر صبح نہار منہ چسکی چسکی پینا مفید رہتا ہے، پرانے امراض میں یہ علاج چار سے چھ ماہ تک جاری رکھنا پڑتا ہے، جن علاقوں میں جذام پھیل جائے وہاں کریلوں کا استعمال اس سے تحفظ دیتا ہے، کریلے کے پودے کی جڑوں کو قدیم زمانے سے سانس کی بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا جارہا ہے، جڑوں کا ملیدہ ایک چائے کا چمچ اور اسی مقدار میں شہد یا تلسی کے پتوں کا جوس ملاکر ایک ماہ تک روزانہ رات کو پینے سے دمہ، زکام، گلے کی سوزش اور ناک کے استر کی سوزش کا عمدہ علاج میسر آتا ہے، کریلے کا استعمال بیشتر افراد کھانے میں کم ہی کرتے ہیں اور اکثر لوگوں کو تو کریلا پسند ہی نہیں آتا کیونکہ قدرتی طور پر کریلا ذائقے میں کافی کڑوا ہوتا ہے۔
کریلا اور شوگر
طب کے ماہرین بتاتے ہیں کہ کریلا انسان کو کئی مہلک بیماریوں سے بچاتا ہے اور انسان کو ہشاش بشاش بھی رکھتا ہے، کریلے کے کڑوے پن سے ہی کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں اور اگر شوگر، دل، کولیسٹرول اور گردے میں پتھری والے مریض کریلے کا استعمال کریں تو وہ جلد صحت یاب ہوسکتے ہیں، کریلے کی پیداوار پورے سال نہیں ہوتی یہ صرف گرمیوں کے موسم میں ہی دستیاب ہوتا ہے، اسی طرح شوگر کے مریضوں کیلئے کریلا سب سے بہترین غذا ہے، حالیہ طبی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں انسولین سے مشابہہ ایک مادہ پایا جاتا ہے، اسے نباتاتی انسولین کا نام دیا گیا ہے، یہ مادہ خون اور پیشاب میں شوگر کی مقدار کم کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ طبیب کریلے کا استعمال غذا کے طور پر شوگر کے مریضوں کو باقاعدگی سے کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، زیادہ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے شوگر کے مریضوں کو چار پانچ کریلوں کا پانی روزانہ صبح نہار منہ پینا چاہئے، کریلوں کے بیج کا سفوف بناکر غذا میں شامل کرنا بھی بہتر ہے، شوگر کے مریض کریلوں کو ابال کر ان کا پانی یعنی جوشاندہ بنا کرپئیں یا ان کا سفوف استعمال کریں تو ان شاء اللہ شفاءیاب ہوں گے، اسکے علاوہ یہ جسم میں موجود لبلبہ جو کہ انسولین بناتا ہے اس کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے، کریلے کا استعمال ضرورت سے زیادہ ہرگز نہ کریں ورنہ یہ خطرناک حد تک شوگر کی مقدار کو کم کردیتا ہے ،روزانہ کی بنیاد پر شوگر کا ٹیسٹ لازمی کروائیں، اسی طرح گردے میں پتھری کی بیماری بہت تکلیف دہ ہوتی ہے اور اگر اسکا بروقت علاج نہ کیا جائے تو آپکا گردہ خراب بھی ہوسکتا ہے، طبی ماہرین کے مطابق کریلے کا جوس گردوں میں سے پتھری نکالنے کا باعث بنتا ہے اور اس طرح مریض کو تکلیف بھی کم ہوتی ہے، کریلے کا جوس گردوں میں موجود ہائی ایسڈ کو کم کرتا ہے، گردے کے مریض دن میں کم از کم دو کپ کریلے کا جوس ضرور پئیں، لیکن پہلے اپنے معالج سے مشورہ کر لیں، اس کے علاوہ کریلے کا استعمال جسم میں غیرضروری کولیسٹرول کو بڑھنے سے روکتا ہے، جسم میں کولیسٹرول کی مقدار ایک خاص حد تک ہونی چاہیئے ورنہ یہ خطرناک بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ کولیسٹرول کے کم ہونے سے آپ امراض قلب، دل کے دورے اور فالج جیسی مہلک بیماریوں سے بچ سکتے ہیں، جس شخص کا کولیسٹرول ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے تو اسکو چاہیئے کہ کریلے کا استعمال کرنا شروع کردے کیونکہ کریلے میں کولیسٹرول نہیں پایا جاتا، جسم میں کولیسٹرول کی تشخیص صرف خون کے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہے، اس کے علاوہ لبلبہ انسانی جسم میں معدے کے پچھلے حصے اور جگر کے بلکل پاس ہوتا ہے، لبلبے کو ہم انگریزی میں پینکریاز کے نام سے جانتے ہیں، مختلف بیماریوں کیساتھ ساتھ لبلبے کے کینسر میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے، کریلے میں کینسر سے بچنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں اور کریلے کا جوس لبلبے میں موجود کینسر سیل کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے، اسکے علاوہ کریلے کا جوس لبلبے کے کینسر سیل کی گلوکوز کو میٹابولائز کرنے کی صلاحیت کو روکتا ہے، اس کے علاوہ کریلے کو کھانے میں پکائیں یا پھر اسکا جوس پئیں، دونوں صورتوں میں کریلے کا استعمال انسانی جلد کو فائدہ دیتا ہے ۔
کریلے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسکے روزانہ استعمال سے انسانی جلد چمکنا شروع ہوجاتی ہے اور آہستہ آہستہ رنگ بھی صاف ہوجاتا ہے، دراصل کریلا انسانی جسم میں موجود خون کو صاف کرتا ہے اور اسکے اثرات جلد پر پڑنا شروع ہوجاتے ہیں، جلد کو اچھا اور خوبصورت رکھنے کیلئے کریلے کے سوپ کا استعمال ضرور کریں، اسی طرح بیشتر افراد جسم کے غیر ضروری بڑھنے سے پریشان نظر آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اسمارٹ نظر آئیں، اگر آپ اپنے وزن کو کم کرکے اس کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو کریلے کا استعمال شروع کردیں کیونکہ کریلے میں کیلوریز کی مقدار انتہائی کم پائی جاتی ہے اور یہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے، اس کیلئے آپ کریلے کا سالن بھی استعمال کر سکتے ہیں اور اس کا جوس بھی پی سکتے ہیں، اس کے علاوہ کریلے میں’’وٹامن کے‘‘ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، وٹامن کے ہڈیوں کو صحت مند بناتا ہے، خون کو جمنے سے روکتا ہے اور سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد وٹامن کے سے اپنی تکلیف کو کم کرنے کیساتھ سوجن کو بھی کم کرسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ بیشتر افراد جگر کے مسئلے کا شکار رہتے ہیں، کریلے کا ایک کپ جوس روزانہ پینے سے آپ جگر کے کئی مسائل سے بچ جائینگے، کریلے کا جوس ایک ہفتہ روزانہ پینے سے آپ واضح فرق محسوس کریں گے، اسکے علاوہ یہ عمل نظام انہضام اور گال بلیڈر فنکشن کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتا ہے،کریلے کا استعمال قوت مدافعت کو بڑھانے، بالوں کو چمکانے اور خشکی وغیرہ کو ختم کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے، اسی طرح کریلا فائبر سے بھرپور ہوتا ہے، فائبر سے بھرپور غذائیں دیر تک پیٹ بھرے رکھنے کا احساس برقرار رکھتی ہیں، چونکہ فائبر کو ہضم ہونے میں وقت لگتا ہے تو بے وقت منہ چلانے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی، اس سبزی میں پانی کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے اور گرمیوں کے لیے اسے بہترین سبزی بناتا ہے، مختلف بیماریوں میں اس کے استعمال کے تین طریقے ہیں، ایک یہ کہ اس کا سالن بنا کر استعمال کریں، دوسرا اس کا جوس استعمال کریں، تیسرا اس کا سفوف بنا کر استعمال کریں اور چوتھا طریقہ ہے اس کا سلاد بنا کر استعمال کریں۔
کریلا کی کڑواہٹ دور کرنے کا طریقہ
اب آپکو اس کی کڑواہٹ نکالنے کے طریقے اور کس طرح پکانا ہے وہ بتاتے ہیں، کریلے کی کڑواہٹ کم کرنے کے لیے سب سے پہلے تو اس کی اوپری کھردری سطح کو کھرچ دیں، اس سطح کو اتنا کھرچیں کہ یہ ہموار ہوجائے، اس کے بعد کریلے کے ٹکڑے کرلیں اور بیجوں کو نکال دیں،اس کے بعد کریلے کے ٹکڑوں کو نمک کی اچھی خاصی مقدار میں رگڑیں، اس کے بعد ایک گھنٹے کیلئے برتن میں ڈال کر رکھ دیں، ایک گھنٹے بعد ان کو اچھی طرح دھو لیں اس کی کڑواہٹ ختم ہو جائے گی، کرواہٹ دور کرنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ کریلے کے ٹکڑے دہی میں کم از کم ایک گھنٹے تک ڈبو کر رکھیں اور اس کے بعد فرائنگ پین میں تیل ڈال کر گرم کریں پھر کریلے اس میں ڈال کر فرائی کریں، جب کریلے اچھی طرح فرائی ہو جائیں تو ان کو ایک پلیٹ میں نکال لیں اور اسی تیل میں پھر پیاز ڈال کر فرائی کریں، نمک مرچ ہلدی اور دھنیا ملا کر کریلوں کے اندر لگائیں اور باقی بچا مصالحہ پیاز میں ڈال دیں، جب پیاز فرائی ہو جائیں تو کریلے ڈال کر ۲۰منٹ تک دم پر رکھ دیں، ان شاء اللہ مزے دار کریلوں کا سالن تیار ہو جائے گا۔
Post A Comment:
0 comments: